Daily Mashriq

اندرونی وبیرونی دباؤ کے شکار ’’ہم‘‘

اندرونی وبیرونی دباؤ کے شکار ’’ہم‘‘

وزیراعظم عمران خان حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرخارجہ کیساتھ ملاقات میں یہ تاثر دے چکے ہیں یا ایرانی مہمان ازخود ہی یہ تاثر لے چکے ہیں کہ پاکستان امریکہ کی جانب سے ایران پر ڈالے جانے والے دباؤ کو غیرمنصفانہ سمجھتا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف اپنا دو روزہ دورہ مکمل کرکے کسی حد تک مطمئن وطن واپس لوٹے ہیں تاہم وہ جس پاکستانی وزیراعظم سے مل کر گئے ہیں ان کی اپنی مشکل اتنی آسانی سے ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ان وزیراعظم یعنی عمران خان نے 30مئی کو سعودی عرب پہنچ کر او آئی سی کے اجلاس میں شرکت کیساتھ ساتھ سعودی عرب کی قیادت سے ملاقاتیں کرنی ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس ملاقات میں صرف پاکستان کو اگلے تین سال کیلئے سعودی عرب کی جانب سے ملنے والے مفت تیل کے معاملے پر ہی بات کریں گے تو یہ اس کی بھول ہوگی۔ سعودی عرب اس وقت جنگی کیفیت میں مبتلا ہے، وہ امریکہ سے اس جنگ کیلئے آٹھ ارب ڈالر کا مزید اسلحہ خریدنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ اس سے پہلے اس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے کچھ ہی عرصے بعد یعنی 20مئی 2017کو اپنی حفاظت کیلئے امریکہ سے ایک سو دس ارب ڈالرکا اسلحہ اور دیگر جنگی سامان خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جو اگلے دس سال میں تین سو پچاس ارب ڈالر تک پہنچنا تھا اس معاہدے کے تحت امریکہ نے اس رقم کے بدلے سعودی عرب کو ٹینک، میزائل ڈیفنس سسٹم، راڈار، کمیونیکیشن اورسائبر سیکورٹی فراہم کرنی تھی اس وقت بھی یہ سمجھا جارہا تھا کہ وہ یہ سب کچھ اپنے ایران کیساتھ بگڑتے تعلقات کے تناظر میں کر رہا ہے۔ ایسے میں اب جبکہ حالات کا بگاڑ کافی بڑھ چکا ہے، سعودی عرب کو یمن کے معاملے پر ایران اور خطے کے دیگر ممالک کیساتھ اپنے خراب تعلقات کیلئے پاکستان کی ضرورت ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے جب سے سعودی عرب کے ہمسائے یعنی یمن میں باغیوں نے سر اٹھایا اور وہاں کے صدر منصورہادی کی حکومت ختم کی اس کے بعد سے سعودی ریاست خود کو مشکل میں سمجھ رہی ہے۔ اس نے اس معاملے پر 9خلیجی ممالک کا اتحاد بھی بنایا ہے جو جنگی میدان کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی تعاون کر رہے ہیں لیکن اسے پھر بھی یمن میں زمینی مداخلت کیلئے پاکستان اور ترکی کے افواج کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ وہ میاں نواز شریف کی سابق حکومت سے بھی مطالبات کرتے رہے ہیں کہ وہ یمن کے معاملے پر باضابطہ ان کے اتحاد کا حصہ بنے اور اپنی افواج، جنگی جہازوں اور بحری بیڑے کو اس جنگ میں استعمال میں لائے تاہم پاکستان نے اس معاملے پر ہمیشہ ایک محتاط رویہ اختیار کئے رکھا کیونکہ ایک طرف اگر سعودی عرب اس سے یمن میں باضابطہ مدد کی درخواست یا مطالبات کر رہا تھا تو ہمارے ساتھ طویل سرحد کا حامل ہمسایہ ایران بھی ہم پر دباؤ ڈال رہا تھا کہ ہم اس معاملے میں اس کے موقف کی حمایت کریں یا اس معاملے پر کم ازکم سعودی عرب کیساتھ بھی نہ جائیں۔ پاکستان نے ایران کے سامنے باربار سعودی خدشات کا اظہارکیا اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیتا رہا کہ اگر سعودی عرب کی سا لمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان مقدس مقامات یعنی حرمین شریفین کی حفاظت کرے گا۔ اس سارے قضیے میں پاکستان نے بہت احتیاط سے ہرقدم اٹھایا اور یہی وجہ ہے کہ کم ازکم اس معاملے پر موجودہ حکومت بھی اپنے پیش رو میاں نواز شریف حکومت کی پالیسی پر گامزن نظر آرہی ہے۔ توقع ہے کہ سعودی فرمانروا شہزادہ محمد سلیمان اور دیگر سعودی اکابرین ایک بار پھر پاکستان سے ایک فیصلہ کن کردار کا مطالبہ کریں تاہم پاکستان کو سعودی عرب کے کسی مطالبے کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کیساتھ اپنی ہمسائیگی، بلوچستان اور ملک کے مجموعی حالات کو دیکھنا ہوگا۔

پاکستان جہاں اس وقت عالمی سطح پریمن کے معاملے پر ایران اور سعودی عرب کیساتھ مشکل سفارت کاری میں مصروف ہے تو وہیں اس کے اپنے اندرونی حالات بھی اسے کسی بیرونی ایڈونچر کا حصہ بننے سے مسلسل روک رہے ہیں۔ اتوار کو شمالی وزیرستان میں فوج اور مقامی قبائلی نوجوانوں کے ایک گروہ کے مابین پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کو نظرانداز کرکے آگے بڑھنا بھی ممکن نہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے علاوہ اے این پی نے جس طرح سے اس پر اپنا ردعمل دیا اور ریاست کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا اس نے بہت سی باتوں کو مزید واضح کر دیا ہے لیکن اس سارے معاملے میں حکومتوں نے خاموشی یا غیرجانبداریت کا رویہ اختیار کر کے صورتحال کو گمبھیر بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اتوار کی صبح پیش آنے والے واقعے پر رات گئے تک وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کا واضح موقف سامنے نہ آسکا جو فاٹا کے انضمام کے بعد سے وزیرستان میں بھی امن وامان کی صورتحال کی ذمے دار ہے۔ ایسے میں اگر حکومت خاموش رہتی ہے اور صرف سیاسی جماعتیں پی ٹی ایم کے حق میں بولتی ہیں تو اس سے فوج کو یقینا ایک منفی پیغام ملے گا۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، ریاست اور سیاسی جماعتیں اپنے لئے بیرونی اور اندرونی مشکلات کو نظر میں رکھ کر سکور برابر کرنے کی بجائے ایسا راستہ اختیار کریں کہ جس سے ملک کے اندر تقسیم کا تاثر ختم ہو اور ہم بیرونی خطرات وطاقتوں سے نمٹنے کیلئے یکسو رہیں۔ سیاسی جماعتوں کا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اس آگ پر پانی ڈالیں اور موجودہ سیاسی ماحول میں فوج کے عام جوان کے جذبات کا بھی ازالہ کریں ورنہ خدانخواستہ جس طریقے سے یہ جوان اس وقت سوشل میڈیا پر اپنے ادارے کے دفاع کیلئے سامنے آئے ہیں وہ دیگر جگہوں پر بھی آئے تو بہت ساری اور مشکلات سر اٹھا سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں