Daily Mashriq

مودی کی جیت امن کی ہار؟

مودی کی جیت امن کی ہار؟

بھارت میں نریندر مودی نے جھاڑو پھیر اکثریت حاصل کر لی ہے۔ نریندر مودی کی کامیابی قطعی غیرمتوقع نہیں تھی مگر کانگریس اس حشر سے دوچار ہوگی کہ بہت سی ریاستوں میں اپنا ایک امیدوار بھی کامیاب نہ کرا سکے گی اس کی توقع نہیں تھی۔ راہول گاندھی کو کانگریس نے اپنا ’’پوسٹر بوائے‘‘ بنا کر نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پریانکا گاندھی کا فلسفیانہ اور بے ساختہ انداز گفتگو اس پر مستزاد تھا مگر نہرو خاندان کا جادو سر چڑھ کر بولنا تو درکنار انتخابی نتائج نے کانگریس کو مدتوں تک نہ بھرنے والے زخم دئیے۔ مودی نے اس کامیابی کے تاج محل کی پہلی اینٹ برسوں پہلے اس وقت رکھی تھی جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اور ان کی سرپرستی میں ہزاروں مسلمانوں کو تہ تیغ کیا گیا تھا۔ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کیساتھ جو انسانیت سوز مظالم رکھے تھے کہ انہیں یاد کر کے آج بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مودی کو جب بھی کوئی کامیابی ملتی ہے تو گجرات کے گھاؤ تازہ ہوجاتے ہیں۔ اس بار جب مودی اپنی سیاست کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر بیٹھا تو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے مودی کے تلخ وتاریک ماضی کا ذکرکرنا لازمی سمجھا۔ مودی نے بہت پُرکاری کیساتھ ہندو انتہا پسندی کے جراثیم کو بڑھاوا دیکر ایک آندھی اور طوفان بنانے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ ہندوتوا کا پودا ہر دور میں مسلمان دشمنی سے نمو پاتا رہا ہے۔ مودی نے ماضی کی اس سوچ پر چلتے ہوئے مسلمان دشمنی اور نفرت کا سودا بیچنے کا آغاز کیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ سودا مارکیٹ میں بہت تیزی سے فروخت ہوتا چلا گیا۔ یوں مودی نے گجرات کے انسانوں کی سوختہ لاشوں، راکھ میں بدلتے گھروں، عزت اور عصمت سے محروم ہوتی ہوئی خواتین کے اثاثے سے نفرت کا جو کریانہ سٹور گجرات کھولا تھا وہ آخرکار پورے بھارت کی وزارت عظمیٰ کی صورت پورے بھارت تک پھیل کر ایک ہول سیل مارکیٹ میں ڈھلتا چلا گیا۔ مودی نے گجرات میں نفرت کی جس دکان کی پہلی اینٹ رکھی تھی مودی کی دوسری بار کامیابی نے اسے نفرت کا محل بنا ڈالا ہے۔ بھارت میں مسلمان دشمنی کے جذبات تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور بھارت کی سیاسی جماعتیں ماضی میں ان جذبات سے ڈرتے جھجکتے فائدہ اُٹھاتی رہی ہیں مگر بی جے پی اور نریندر مودی نے ان جذبات کو منظم، منضبط کرکے انہیں سائنس بنا کر فائدہ اُٹھانے کی حکمت عملی اپنائی۔ سیاسی ضرورتوں اورانتخابی مقاصد کے تحت اپنائی گئی یہ حکمت عملی بہت سی وجوہات کی بنا پر کامیاب ہوتی چلی گئی۔ جن میں ایک وجہ اس سوچ کو بیرونی حامیوں اور معاونین کا ملنا بھی ہے۔ وہ اس طرح کہ دنیا میں بہت سے ملکوں بالخصوص مغرب میں اسلاموفوبیا کی غبار اُٹھانے والی سوچ کی لہریں بھی پورے زوروں پر ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے مودی کی ہندو شاؤنسٹ سوچ کو اپنی سوچ اور ہم آہنگی اور بڑی حد تک ضرورت کے تحت قبول کیا۔ گجرات کے قتل عام کے باعث جس مودی کا امریکہ میں داخلہ بند تھا وہ وقت بدلتے ہی امریکہ کا مہمان خصوصی بنا۔ یہی حال مغرب کے ان تمام ملکوں کا ہے جو عدم تشدد، امن عالم، عالمی دہشتگردی اور انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا چورن صبح وشام بیچتے ہیں۔ بیرونی دنیا میں اس حیرت انگیز قبولیت نے نریندر مودی کو اپنی انتہا پسندانہ سوچ کی پگڈنڈی پر سفر جاری رکھنے میں مدد فراہم کی۔ نریندر مودی کی کامیابی پر دنیا بھر کے حکمرانوں اور راہنماؤں نے مبارکباد کے پیغام بھیجے خود پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی ان میں شامل تھے مگر اس تاریخی موقع پر جو پیار، والہانہ پن اور بے تکلفی کا انداز اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو کے ٹویٹ میں جھلک بلکہ اُمڈ رہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے خوابوں کی تعبیر کیلئے ایک مسیحا نفس مل گیا ہے۔ اس محبت بھرے ٹویٹ میں مودی کیلئے ’’پیارے دوست‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ بھارت کے ووٹر کیلئے پاکستان مخالف اور مسلمان دشمنی کی فضاء اس انداز سے قائم ہو چکی تھی کہ گائے جیسا بے زبان جانور انسانوں سے زیادہ عزت، عظمت اور توقیر پانے لگا تھا۔ گائے کی شان میں معمولی سی گستاخی پر انسانوں کو جان سے مار ڈالنے اور ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے واقعات عام ہونے لگے۔ مودی کی سیاست کو بیرونی قبولیت اور سرپرستی حاصل نہ ہوتی تو شاید ہی وہ سیاست کی راہوں پر زیادہ دور تک چل سکتے اور اس قدر بڑی کامیابی ان کا مقدر ٹھہرتی۔ مودی انتخابات میں جیت گیا مگر عمومی تاثر یہی ہے کہ جنوبی ایشیا کی امن اور استحکام کی منزل دور ہوگئی ہے اور امن ہار گیا ہے گوکہ وزیراعظم عمران خان نے مودی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد بھی دی اور جواب میں مودی نے عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا مگر مودی کا ماضی بتا رہا ہے کہ وہ اپنا سخت گیری کا امیج، سوچ اور لائن ترک کرنے کو تیار نہیںہوں گے۔ نریندر مودی اس خیرہ کن کامیابی کے بعد اب کونسا راستہ اختیار کریں گے اس سوال پر مبنی ایک طویل مضمون نیویارک ٹائمز نے شائع کیا ہے۔ مضمون کا عنوان ہےModi,s Huge Mandate in India .Now What will He DO?۔ اس سوال کا جواب تلاشتے ہوئے مضمون میں مودی کی متوقع داخلی اور خارجی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ نریندر مودی کس ملک سے تجارت بڑھاتے اور کس سے سفارتی تعلقات مضبوط کرتے ہیں، وہ بھارت کے اندر ہندو نیشنلزم کی طرف لڑھکتے ہیں یا بدستور مذہبی انتہا پسندی کی راہ پر چلتے ہیں؟ وہ اقلیتوں کیلئے اچھے ثابت ہوتے ہیں یا برے؟ وہ بھارت کی اقتصادیات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں؟ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں