Daily Mashriq

عید کا چاند ہوں ۔۔

عید کا چاند ہوں ۔۔

پروفیسر محمد طہٰ خان کے خوبصورت قطعات عرصۂ دراز سے مشرق کے ادارتی صفحے کی زینت بنتے چلے آرہے ہیں، وہ اپنے حصے کی زندگی گزار کر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن ان کے قطعات اب بھی تواتر سے چھپ رہے ہیں۔ وہ ایک فرض شناس ماہر تعلیم تھے جو تقریباً سینتیس برس تک درس وتدریس سے وابستہ رہے۔ پشتو زبان کے عظیم صوفی شاعر عبدالرحمٰن بابا کے پشتو کلام کا منظوم ترجمہ ’’کلیات رحمن بابا‘‘ کے نام سے کیا۔ انہوں نے اس ترجمے کے حوالے سے کہا تھا ’’اس کام کے باعث میں انسانی ذہنوں اور دلوں میں ہمیشہ یاد بن کر زندہ رہوں گا‘‘ ابھی حال ہی میں ڈاکٹر عمر قیاز قائل جو گورنمنٹ ڈگری کالج بنوں میں اسسٹنٹ پروفیسر آف اردو کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں! انہوں نے طہٰ خان کی شخصیت پر ایک خوبصورت کتاب: پروفیسر محمد طہٰ خان: شخصیت اور فن ’’لکھ کر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے! پروفیسر طہٰ خان اردو زبان وادب کا ایک بہت بڑا اثاثہ ہیں، یہ مزاحیہ شاعری کیساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری، گیت نگاری اور ترجمہ نگاری میں بھی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تنقید، تحقیق اور قواعد دانی پر بھی بڑا خوبصورت اور وقیع کام کیا ہے۔ مسودہ نگاری اور فیچر نگاری اس پر مستزاد ہیں، ان کی اپنے معاشرے پر یقینا گہری نظر تھی یوں کہئے وہ اپنے معاشرے کے ہر طبقے سے گہری شناسائی رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے قطعات میں اپنی معاشرتی ناہمواریوں کی بڑی خوبصورتی کیساتھ نشاندہی کی ہے، ان کے قطعات پڑھتے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ کیساتھ ساتھ دل ودماغ ایک نئے تجربے سے روشناس ہوجاتے ہیں۔ ہمارے صوبے کے حوالے سے ایک بات بہت مشہور ہے کہ ہم عید منانے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں یعنی ہمیں عید کا چاند وقت سے پہلے نظر آجاتا ہے یہ عید کی اس جلد بازی کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جان طہٰ ملک الموت کو الزام نہ دے

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

عید کا چاند ہوں میں وقت سے دو دن پہلے

دیکھ لینا کہ پشاور میں نظر آؤں گا

ہمارے بے حس معاشرے میں گردوں کی خرید وفروخت ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، کسی شخص کو اپنی بیماری کے علاج کیلئے کسی ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ جائے تو وہ ظالم ڈاکٹر اس کا گردہ نکال لیتا ہے، یہ مسیحائی کے پیشے پر ایک بدنما داغ ہے۔ اس پر جتنا ماتم بھی کیا جائے کم ہے، طہٰ خان نے ایک قطعے میں اس مسئلے کو کچھ اس طرح اُجاگر کیا ہے:

دیا تھا ایک لیڈی ڈاکٹر کو دل کا نذرانہ

بتایا تھا کہ یہ انسان کی انمول دولت ہے

یہ کہہ کر آج لیڈی ڈاکٹر نے دل کیا واپس

ترے دل کی نہیں مجھ کو تو گردوں کی ضرورت ہے

یہ قطعات پڑھتے ہوئے طہٰ خان کی گفتگو کا خوبصورت انداز یاد آجاتا ہے، وہ پشاور صدر کے مشہور ومعروف خیبرکیفے میں بڑی باقاعدگی کیساتھ رونق افروز ہوتے تھے۔ دوست احباب ان کی محفل میں حاضر ہونے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے تھے، ہم بھی کبھی کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، ان کی محفلوں میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، وہ ہر قسم کے مسئلے کے حوالے سے اپنی الگ سے منفرد رائے رکھتے تھے۔ ہمارے یہاں جعلی ادویات کی خرید وفروخت یقینا ایک سنگین مسئلہ ہے، یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہے، انسانی جانوں کا ضیاع ہے، جعلی ادویات کے کاروبار سے منسلک لوگ انسان اور انسانیت کے قاتل ہیں۔ اس سنگین مسئلے کے حوالے سے طہٰ خان ’’جعلی دواساز‘‘ کے عنوان سے یوں رقمطراز ہیں:

تندور کی جلی ہوئی روٹی اسے کھلا

روٹی کھلا کے حقے کا پانی اسے پلا

جعلی دوا بناتا ہے جوتے اسے نہ مار

جوتے کی آبرو کو نہ یوں خاک میں ملا

’’جوتے کی آبرو کو نہ یوں خاک میں ملا‘‘ میں جہان معنی کا ایک سمندر پوشیدہ ہے جسے صرف محسوس کیا جاسکتا ہے یہ بیان سے باہر ہے! طب ایک مقدس پیشہ ہے لیکن آج اس مقدس پیشے میں بہت سی کالی بھیڑیں گھس آئی ہیں جنہوں نے اس پیشے کے تقدس کو یقینا مجروح کیا ہے۔ آپ اپنے ایک قطعے ’’ڈا کٹر نے کہا‘‘ میں فرماتے ہیں:

زندگی اور موت بے شک ہے خدا کے ہاتھ میں

میری جیبوں کو مگر نوٹوں سے بھر دیتے ہیں لوگ

اس جہاں میں کون ہے مجھ سے زیادہ خوش نصیب

میری غلطی کو زمیں میں دفن کر دیتے ہیں لوگ

سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کی بیماری بہت عام ہے، عوام کی رائے کا اس بیدردی سے قتل عام کیا جاتا ہے کہ دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جاتا ہے:

شہر زرداراں میں جب گھوڑوں کی منڈی لگی

گاؤں کے جتنے بھی گھوڑے تھے بھگوڑے ہوگئے

آدمی بھیجے تھے ہم نے منتخب کر کے وہاں

اک ذرا آب و ہوا بدلی تو گھوڑے ہو گئے

متعلقہ خبریں