Daily Mashriq

خاک وطن اور شہید کی موت

خاک وطن اور شہید کی موت

الحمدللہ! اساتذہ کی تعلیم وتربیت اور گھر کے ماحول کے طفیل وطن کے ذرے ذرے سے بے لوث محبت سرشت میں ملی ہے۔ آج یہ بات ہر ذی شعور کو بخوبی معلوم ہے کہ والدین اور اساتذہ کی تعلیم وتربیت کا معاشرے کی اصلاح وفلاح کیساتھ براہ راست اور گہرا تعلق ہوتا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے چھ عشروں تک ہمارے ملک میں والدین اور اساتذہ کے اسی تعمیری کردار کے سبب مثبت وتعمیری قوتیں غالب رہیں‘ لیکن 1970ء کے عشرے میں سیاسی ہلچل کے سبب ہمارے معاشرے کی چولیں کچھ اس انداز سے ڈھیلی ہوئیں کہ نوجوان نسل بے راہرو ہوکر بے نشان منزلوں کی سمت چل پڑی جس کے نتیجے میں عالم اسلام کا سب سے بڑا ملک نہ صرف دو لخت ہوا بلکہ ناقابل بیان مشکلات ومصائب میں ایسا پھنسا کہ اس کا خمیازہ آج تک بھگتا جا رہا ہے۔لیکن مقام شکر ہے کہ آج بھی ایسے گھرانے‘ علاقے‘ ادارے‘ والدین‘ خاندان اور اساتذہ وشخصیات موجود ہیں جن کی بے لوث خدمات اور ایثار وقربانیوں کے طفیل شدید مشکلات کے باوجود وطن عزیز آگے بڑھ رہا ہے اور اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ کامیابیوں کے اس سفر میں بنیادی کردار ان والدین اور اساتذہ کا ہے جو دفاع وطن کیلئے ایسے سپوت تیار کرتے ہیں کہ مادہ پرستی کے اس دور میں تن من دھن سے گزر کر خاک وطن سے محبت پر قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔یہ بھی خاک وطن کی چاشنی وجاذبیت کا اثر ہے کہ نوجوانان وطن کی اکثریت کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ پاک افواج میں شمولیت کے ذریعے دفاع وطن کے فریضہ کی ادائیگی میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ اسی لئے ہر اس پاکستانی کو جسے پاکستان سے محبت کا دعویٰ ہے‘ پاک افواج سے محبت کرتا ہے کیونکہ پاکستان اور افواج پاکستان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور میں یہ بات ببانگ دہل لکھتا اور کہتا ہوں دفاع وطن کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں یہی ابنائے وطن دیتے ہیں اور اسی لئے ہم پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی اپنی افواج کو مضبوط وتوانا رکھنے ومسائل کی فراہمی پر پختہ یقین رکھتے ہیں کیونکہ میرا ایمان اور تجربہ ہے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ جس قوم کی اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں غیروں کی فوجیں ہوتی ہیں اور ماوزے تنگ کے الفاظ میں ’’طاقتور وہ قوم ہوتی ہے جس کی فوج طاقتور ہوتی ہے‘‘۔ پاک فوج اور ان کے شہداء کے طفیل ہم سب رات کو چین کی نیند سوتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت ایسے ملک اور اقوام ہیں جو اپنی فوج نہ ہونے یا کمزور افواج کے سبب اپنی آزادی اور راحت وآرام سے محروم ہیں۔ فلسطین اور عرب ممالک اور ا ن کی خانہ جنگیوں اور دیگر بہت سارے معاملات سے یہ چیز واضح ہے۔مندرجہ بالا سطور میں بیان کردہ احساسات وافکار چند دن قبل اس وقت بیدار ہوئے جب پختونخوا کے ایک مردم خیز علاقے صوابی میں کرنل شیر خان شہید کے مزار پر حاضری کا موقع ملا، آپ کی قبر کی پائنتی کھڑا ہوکر رمضان کے مبارک لمحات میں جب میں نے آنکھیں بند کرکے دعا کے لرزتے ہاتھ اٹھائے تو خاتم النبیینؐ کی غزوات اور ان میں شہید صحابہ بالخصوص غزوہ احد اور جنگ یمامہ اور پھر تاریخ کے صفحات پلٹتے پلٹتے کرنل شیر خان تک پہنچا اور جب آنکھیں کھولیں تو زبان پر بے اختیار اللہ تعالیٰ کے مبارک کلام کی یہ آیت کریمہ تھی، ترجمہ: ’’جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ مت کہو‘ وہ زندہ ہیں لیکن تم (زندہ لوگوں) کو اس کا شعور نہیں‘‘۔ اس آیت کریم کی تلاوت کے بعد السلام علیک یا شہید اسلام ووطن‘ بے شک تیری موت ہماری حیات ہے اور سچ کہا ہے شاعر نے کہ

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

اکبوتر 1947ء سے لیکر 1965ء، 1971ء اور اب 2001ء سے جاری دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان سے محبت کرنے والی عوام اور پاک افواج کے ہزاروں شہداء نے جو قربانیاں پیش کی ہیں پوری قوم کو ان پر فخر ہے کیونکہ انہوں نے ہمارے بہتر اور محفوظ مستقبل کی خاطر اپنا تن من دھن خاک وطن پر قربان کر دیا۔ علامہ اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا ہے

شہادت ہے مطلوب ومقصود مومن

نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

کرنل شیر خان پوری قوم کے ہیرو ہیں اور ہمارے پختونخوا کے پہلے نشان حیدر‘ اللہ آپ کے والدین‘ اساتذہ اور پورے صوابی پر رحمتیں نازل فرمائیں کہ ہمیں ایسا بہادر سپوت عطا کیا جن کی شجاعت کے دشمن بھی قائل ہو کر گواہیاں دے چکے۔جیسا کہ عرض کیا کہ مجھے پاکستان کے ذرے ذرے سے محبت سرشت میں ملی ہے‘ لیکن بعض علاقوں کیساتھ بعض واقعات وحالات وتاریخ وصفات کے سبب ایک گونا زیادہ انسیت ہوتی ہے۔ صوابی پختونخوا کا وہ علاقہ ہے جس میں چلتے پھرتے میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ گویا یہ میری جنم بھومی کا علاقہ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے لیکن اس کی وجہ شاید یہاں کی کشادہ زرخیز سر زمین‘ ہرے بھرے کھیت‘ خوبصورت پہاڑ‘ لیکن سب سے بڑھ کر یہاں کے غیور لوگوں کی پختون ولی اور پختون روایات ہیں جو ہمارے دل میں رچ بس گئے ہیں اور ہاں‘ اصل بات تو یہاں کی تاریخی شخصیات اور مردان حر ہیں جن کے سرخیل اب بہرصورت کرنل شیر خان ہیں اور آپ کے بعد ہمارے یار طرحدار میجر عامر بھی تو ہیں اور ساتھ مولانا طیب صاحب اور ان دونوں کے والد گرامی بزرگوارم ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں