Daily Mashriq


(عسکری قیادت ۔ تبدیلی اور چیلنجز )

(عسکری قیادت ۔ تبدیلی اور چیلنجز )

بالآخر عسکری قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے جاری وہ گو مگو کی کیفیت گزشتہ روز اس وقت اپنے منطقی انجام تک جا پہنچی جب وزیر اعظم کی ایڈ وائس پر صدر مملکت نے لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئر مین جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی اورلیفٹیننٹ جنر ل قمر جاوید باجوہ کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا ۔ دونوں اعلیٰ افسران نے بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا ۔ دونوں 29نومبر کو ذمہ داریاں سنبھالیں گے ۔ پاک فوج کی نئی قیادت کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا وہ نہ تو نئی ہیں اور نہ ہی ان سے عہدہ بر آہ ہونے میں کوئی مشکل پیدا ہو سکتی ہے ، کیونکہ موجودہ آرمی چیف کے ساتھ بطور ایک ٹیم کے ان تمام مسائل سے نمٹنے میں نئی قیادت ہر قدم پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ساتھ رہتی آئی ہے ۔ ان مسائل میں اہم ترین کئی طرح کے چیلنجز ہیں ،جن میں اگر دہشت گردی سے نمٹنے کا مسئلہ ہے ، تو کشمیر کنٹرول لائن پر بھارتی مسلح افواج کی مسلسل ایسی کارروائیاں ہیں جن کی وجہ سے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں سویلین آبادی کے خلاف جارحیت بھی شامل ہے جس کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے افسراور جوان جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر تے رہتے ہیں ۔اسی طرح سی پیک کے منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری اور گوادر بندرگاہ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات بھی خصوصی توجہ کے مستحق ہوں گے ۔ جبکہ بلوچستان میں گنتی کے چند باقی رہ جانے والے علیحدگی پسندوں کی سر کوبی اور ان کو اپنے مذموم مقاصد سے باز رکھنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بر قرار رکھنے کی ضرورت بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے ۔ اسی طرح کراچی میں اگرچہ حالات اب بہت حد تک بہتری کی طرف گامزن ہیں تاہم اس بہتری کو تسلسل دینا بھی ضروری ہے ۔ بد قسمتی سے ان تمام حقائق میں سے اکثر کے پیچھے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ اب کوئی پوشیدہ امر نہیں ہے ، اور اس حوالے سے اب تک جتنے اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہ صحیح سمت کی جانب پیش رفت ہیں تاہم بدقسمتی سے ہمارا دشمن ایک مکار اور چالاک بلکہ منافق دشمن ہونے کے ناتے کسی بھی وقت کوئی بھی پینترا تبدیل کر کے ہمارے لئے مسائل کھڑے کر سکتا ہے ، اسی طرح افغانستا ن میں جاری جنگ کے بھی اثرات پاکستان پر لا محالہ پڑنے کے امکانات رہتے ہیں اور جب تک افغانستان میں مکمل امن قائم نہ ہو اس وقت تک پاکستان میں امن وآتشی کی توقعات مثبت نتائج پیدا نہیں کر سکتے ، خصو صاً جب حال ہی میں روس کو بھی سی پیک منصوبے میں شمولیت کے حوالے سے خبریں سامنے آئی ہیں ، اور اس سے پہلے تاپی کا منصوبہ بھی خطے میں امن و سکون کا متقاضی ہے کیونکہ اس منصوبے کے تحت ترکمانستان سے گیس پائپ لائن افغانستان سے گزرتے ہوئے پاکستان کے راستے بھارت تک پہنچے گی اور اگر اس کے راستے میں ایسے عناصر موجود ہوں گے جو اس پائپ لائن کے لئے مشکلات کھڑی کر سکیں تو یہ منصوبہ جس طرح اب تک تکمیل کے مراحل پورے نہیں کر سکتا اسی طرح آئندہ بھی یہ صورتحال برقرار رہنے کے خدشات موجود رہیں گے ۔ اب تازہ ترین مسئلہ بھارتی حکمران مودی کی وہ دھمکیاں ہیں جو اس نے پاکستان کو پانی سے محروم رکھنے کے حوالے سے دی ہیں ۔ اگر چہ بعض تجزیہ نگار ان دھمکیوں کو بھارت کی بعض ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کی بنیاد پر وقتی بڑھک قرار دے رہے ہیں مگر بھارت جیسے مکار دشمن اور خصو صاً مودی جیسے شاطر اور چالاک شخص سے کچھ بھی بعید نہیں اور اگر بھارت کے اندرونی حالات حکمران جماعت کے خلاف جاتے ہوئے دکھائی دیں تو مودی کے خلاف اندر ونی حالات پر قابو پانے اور اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے تصادم کی راہ اختیار کر کے پاکستان کے خلاف کوئی بھی شرارت کرسکتا ہے ۔ اس وقت بھی کشمیر کنٹرول لائن پر پاکستان کے مسلسل احتجاج کے باوجود بھارتی مسلح افواج گولہ باری کر کے دونوں ملکوں کے درمیان حالات خراب کرنے میں مصروف ہیں اور ظاہر ہے ان حرکتوں پر حکومتی آشیر باد کے بغیر عمل درآمد کیسے ممکن ہے ، غرض جس بھی زاویئے سے دیکھا جائے پاکستان کے خلاف بھارت نے کہیں اعلانیہ اور کہیں غیر اعلانیہ طورپر کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ، اور اس کی یہی کوشش ہے کہ وہ پاکستان کو کسی نہ کسی طورا نگیخت کر کے بھارت کے خلاف کسی بڑے حملے پر اکسانے میں کامیاب ہو جائے تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان پر جنگ مسلط کر کے ایک جانب کشمیر اور دوسری جانب اندرونی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹاسکے ۔ مگر یہی وہ چیلنجز ہیں اور امتحان کی گھڑی ہے جو پاکستان کی نئی عسکری قیادت کو درپیش ہے ۔ اور وہ تحمل اور بر دباری سے نہ صرف ان چیلنجز سے نمٹ سکے بلکہ بھارت جیسے مکار دشمن کو کمال مہارت سے ایسا سبق بھی سکھا سکے کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہ سکے ۔ امید ہے کہ قوم اپنی نئی عسکری قیادت سے جو تو قعات لگائے بیٹھی ہے ، ان پر عسکری قیادت پوری اترے گی ۔

متعلقہ خبریں