پاکستان وسط ایشاء کاگیٹ وے

پاکستان وسط ایشاء کاگیٹ وے

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ علاقائی رابطے اور اقتصادی استحکام پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم جزو ہیں اور پاکستان وسطی ایشیاء کے ممالک کے لئے گیٹ وے کاکردار ادا کر رہاہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وسط ایشیاء کی ریاستوں کے گیٹ وے کے طور پر اس کی اہمیت صدیوں سے قائم رہی ہے۔ وسط ایشیاء کی ریاستوں اور متحدہ ہندوستان کے مابین صدیوں کے تجارتی رشتوں کے علاوہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کی غالب آبادی اور متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مابین نہ صرف مذہبی بنیادوں پر رشتے استوار تھے بلکہ ثقافتی' لسانی یہاں تک کہ انسانی رشتے بھی استوار رہے ہیں۔ آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسے خاندانوں کی کمی نہیں جن میں خواتین کا تعلق ترکمانستان' بخارا' سمر قند' آذر بائیجان اور دوسرے علاقوں سے ہے۔ بر صغیر کے مسلمان تاجر وہاں تجارتی قافلوں کے ساتھ جاتے تو ان کے مابین شادیوں کے بندھن سے جو رشتے بنے ان کے تحت وہاں کی خواتین ہندوستان کے علاقوں میں آکر بستی رہیں تاہم بر صغیر پر انگریزوں کے تسلط کے بعد یہ روابط ختم ہوگئے اور بعد ازاں روس میں انقلاب آنے کے بعد تو صورتحال بالکل ہی تبدیل ہوگئی اور جب سوویت یونین کی تحلیل کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں نے آزادی حاصل کی تو اقتصادی روابط ایک بار پھر شروع ہوگئے۔ اس دوران میں ان ریاستوں اور پاکستان کے مابین خوشگوار تعلقات سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جبکہ اب سی پیک منصوبے سے امکانات کے نئے باب کھل بھی رہے ہیں اور باہمی روابط کی استواری سے مستقبل میں یہ امکانات مزید روشن ہو رہے ہیں اور سی پیک کا منصوبہ خطے میں خوشحالی لانے کا اہم ترین منصوبہ ثابت ہوگا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد نہ صرف چین ' وسط ایشیائی اسلامی ریاستوں بلکہ روس کو بھی مشرق وسطیٰ' مغربی ممالک اور دنیا کے دوسرے خطوںکے ساتھ تجارتی روابط میں جو آسانیاں فراہم ہوں گی ان کے لئے پاکستان کی سرزمین رابطے کاکام دے گی اور اس سے تمام ممالک میں اقتصادی استحکام آئے گا اور خوشحالی کی راہیں کھلیں گی۔
این ایف سی اجلاس پر تحفظات
خیبر پختونخوا حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت کا اعلان کردیا ہے جسے اگر دیر آید درست آیدکہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شرکت کرکے نہ صرف بھرپور انداز میں صوبے کا مقدمہ پیش کیاجائے گا بلکہ صوبوں کے حصے' دہشت گردی کے خلاف جنگ کے فنڈز میں اضافہ اور پی ایس ڈی پی منصوبوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کے لئے جامع انداز میں اپنا کیس لڑا جائے گا۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بروقت اطلاع نہ ہونے پر احتجاجاً 28نومبر کو ہونے والے این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے گزشتہ کئی برس سے مختلف وفاقی حکومتوں کا رویہ مناسب نظر نہیں آتا اور سابقہ حکومتوں کے ادوار میں بھی اجلاس کے نہ بلائے جانے یا انتہائی تاخیر سے بلانے کے رویوں نے صوبوں کو مشکلات سے دوچار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بد قسمتی سے ملک میں گزشتہ کئی برس سے مردم شماری نہ ہونے کیوجہ سے بھی چھوٹے صوبوں کو شدید تحفظات لاحق ہیں اور اس صورتحال پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹس کے ذریعے وفاقی حکومت کو جلد از جلد مردم شماری کرانے کی جو ہدایات وقتاً فوقتاً دی ہیں اور اب تک یہ مسئلہ حل ہونے کے واضح امکانات پھر بھی نظر نہیںآرہے ہیں تو اس کی وجہ سے بھی صوبوں کو اپنی آبادی کے حوالے سے جائز حصہ ملنے کے امکانات معدوم نظرآتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی نے جس قسم کے مسائل کھڑے کئے ہیں اور صوبے کو مالی مشکلات کاسامنا ہے۔ اس پر خصوصی توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ قابل ذکر امر جو خیبر پختونخوا حکومت کے احتجاج کا باعث بنا۔ اجلاس کے ایجنڈے اور ورکنگ پیپرز کی بروقت فراہمی نہ ہونا ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روزجب اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیاگیا وضاحت کردی گئی تھی کہ صوبائی حکومت کے بار بار اسلام آباد سے رابطہ کرنے کے باوجود ضروری معلومات کی عدم فراہمی تھی اور چونکہ اس قدر تنگ وقت میں اجلاس کے لئے تیاری خاصی مشکل تھی اس لئے صوبائی حکومت نے بہ امر مجبوری اجلاس کے بائیکاٹ کااعلان کیا۔ تاہم ازاں بعد اس فیصلے سے رجوع کرکے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیاگیا جو ایک مثبت فکر اور سوچ قرار دی جاسکتی ہے۔ اس لئے وفاقی حکومت سے گزارش ہے کہ ان شکایات کا ہمدردی سے جائزہ لے کر آئندہ کے لئے اس قسم کے روئیے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ کسی بھی صوبے کو مشکل صورتحال سے دو چار نہ ہوناپڑے۔

اداریہ