اس کی کیا وجہ ہے؟

اس کی کیا وجہ ہے؟

ایک عجب سی سرا سیمگی ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر تنہائی کا شکا ہو رہا ہے۔ بھارت اپنی کوششوں میں کامیاب ہے۔ لائن آف کنٹرول پر روز ایک نیا واقعہ ہوتا ہے۔ کون جانے حالات کا یہ اونٹ کونسی کروٹ بیٹھے گا۔ کیا ہوگا ' کیسے ہوگا۔ بھارت او ر امریکہ کی محبت کا یہ اضافہ پاکستان کے لئے کس حد تک نقصان دہ ثابت ہونے والا ہے۔ پاکستان اپنے کئی معاملات کو چین کی محبت اور دوستی کو اپنے لئے استعمال کر رہاہے لیکن یہ ایک عالمی کھیل ہے اس میں کھلاڑی بہت بڑے ہیں اور پاکستان ایک ننھا سا ملک ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے نتیجے میں جو تین دریا اس کے حصے میں آتے ہیں وہ ان کے پانی کی ایک بوند بھی پاکستان کو نہیں دیں گے۔ ادھر پاکستان عالمی طاقتوں کو یہ پیغام بھیج رہا ہے کہ بھارتی رویہ امن کے لئے تباہ کن ہے۔ یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔ روس کو سی پیک میں خوش آمدید بھی کہا جا رہا ہے اور آرمی چیف کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے آنے والے دن بہت اچھے ہوں گے۔ ایک عام آدمی یہ سب دیکھ رہا ہے اور اپنی رائے بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فضا میں اسے جو مٹی دکھائی دیتی ہے وہ اس سے سخت پریشان ہے لیکن ترقی کے سنہرے خوابوں کی روشنی میں وہ امید و بیم کے درمیان جھولتا رہتا ہے۔ کیا ہوگا اور کب ہوگا' کوئی نجومی اسے وقت نہیں بتاتا' اس کی سراسیمگی کبھی آنکھیں موند لیتی ہے اس پر ہلکی ہلکی نیند طاری ہونے لگتی ہے اور کبھی کوئی زور کی آواز اسے جگا دیتی ہے۔یہ دنگل ہے' سیاسی دنگل۔ یہ سارے کھلاڑی ایک بڑی جنگ کے چھوٹے چھوٹے پیادے ہیں۔ اس کا فیصلہ دنیا کی حکومت کا فیصلہ ہے لیکن اس کی تباہی پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں کو بھگتنی ہے۔ وہ ملک جو بڑے ملکوں کے کھیل میں جذباتی ہو کر خود ہی سامنے آجاتے ہیں اور اس کھیل میں شامل ہو کر سمجھتے ہیں کہ ساری بساط ہی ان کی مرضی کے مطابق بچھ رہی ہے۔ ان کے اشارہ ابرو پر قدم اٹھائے جارہے ہیں۔ چونکہ وہ صفوں میں آگے ہیں اس لئے ساری نگاہیں ہی ان پر ہیں اور اصل ہیرو وہی ہیں۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ان جیسے چھوٹے چھوٹے پیادے بادشاہوں کو بچانے کے لئے سب سے پہلے جنگ میں اپنی جان گنواتے ہیں۔ بادشاہ کا گھوڑا تو ڈھائی قدم چلتا ہے لیکن یہ پیادہ ایک قدم بھی بمشکل اٹھا تاہے۔ یہ سب سے آگے بھی اس لئے ہوتے ہیں کیونکہ ان کی جان سب سے ارزاں سمجھتی جاتی ہے۔ یہ بس یونہی کام آجایا کرتے ہیں۔نریندر مودی کی حکومت بھارت کو بھی جانے کیا سمجھ رہی ہے۔ امریکہ کی دوستی کیسی جان لیوا ہوا کرتی ہے انہیں معلوم نہیں۔ اگر انہیں اپنی دنیاداری پر بہت ناز ہے تو تاریخ کے چند صفحے پلٹ کر ایک بار ان دنوں کی یاد دہرا لیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر میں اپنے قدم جمانے شروع کئے تھے یا اس سے بھی چند دہائیاں پہلے جب پرتگالی کمپنیاں بر صغیر کا رخ کر رہی تھیں تب بھی معیشت کی جنگ لڑی جا رہی تھی اور میدان جنگ ان کے اپنے گھروں' ان کے ملکوں سے دور یہاں سجا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ نے اور امریکہ کی خانہ جنگی کے بعد امریکہ نے یہ طے کرلیا ہواہے کہ کوئی میدان جنگ اب وہاں نہ سجے گا۔ اس کے لئے اور لوگ بہت آسانی سے تیار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان بھارت اس وقت جس حماقت کاشکار ہیں یہ حماقتیں ان سے پہلے کئی دوسرے ملکوں نے کی ہیں۔ شمالی اور جنوبی کوریا کی مثال وقت کے اوراق پر زیادہ دور نہیں۔ افریقہ کے کئی ممالک امریکی مفادات کی جنگ بھگتا رہے ہیں۔ جہاں جہاں ڈی بیئرز (De Beers) کے کاروبار کو سمیٹا گیا وہاں ہی خانہ جنگی نے جنم لیا اور پھر Black diamonds( کالے خونی ہیرے) کی کہانی منظر عام پر آئی۔ یہ جنگ معیشت اور میڈیا کے ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔ غریب ملکوں کے خوابوں کی روشنی ایسی تیز کر دی جاتی ہے کہ ان کی اپنی ہی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ معاملات کسی اور کے طے پا جاتے ہیں اور قربانی کسی اور کی وصول کرلی جاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی آپس کی کشمکش اس وقت بے شک بھارت کی موجودہ حکومت کی حماقت کے علاوہ کچھ نہیں لیکن یہ جنگ روس ' امریکہ اور چین کی ہے۔ روس اور چین اس وقت مل کر امریکہ کو شکست دینا چاہتے ہیں۔ اس شکست کے لئے پاکستان اور بھارت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ بھارت تو خوشی خوشی استعمال ہو بھی رہا ہے کیونکہ کامیابی اور فتح کے سنہرے خوابوں کو بہادری اور بڑائی کے روپیلے دھاگوں سے باندھ کر ان کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا ہے۔ تاریخ میں پہلے بھی کئی بار کئی ملکوں نے ایسی کئی حماقتیں کی ہیں سو اب بھی بھارت سے کوئی بعید نہیں۔ قربانیوں کی روایت بڑی پرانی ہے لیکن خمار میں کئی بار قربان ہو جانے والا خود اپنی شہ رگ پر خنجر پھیر لیتا ہے۔ بھارت بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار نظر آتا ہے۔ بھارت یہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ حماقتوں کے انجام کبھی خوبصورت نہیں ہوا کرتے۔ غلط فیصلے قوموں کو تباہ کردیا کرتے ہیں۔ یہ جنگ جو بھارت خودہی گھڑ رہا ہے اور جادوگر کی آگ کی طرح اپنی ہتھیلیوں کے درمیان رکھ رہاہے اس میں سب سے پہلے اس کی اپنی ہتھیلیاں جل جائیں گی۔ پاکستان کو بھی اس کا نقصان ہوگا لیکن آخر اس سب کی ضرورت کیا ہے؟ دشمنی کمال کی شے ہوگی لیکن نفرت اور دشمنی کا ایک بوجھ ہوتا ہے جس کو اٹھانا پڑتا ہے' ڈھوناپڑتا ہے۔ غربت کے وزن سے کمر دوہری ہو رہی ہو تو اس وزن کو کاندھوں پر لاد لینے کی کیا ضرورت ہے۔ ہمیں بچپن سے سمجھایا گیا تھا کہ ہندو بنیا ہے' بنیا بہت چالاک ہوتا ہے' کبھی نقصان کا سودا نہیں کرتا لیکن میں تو حیران ہوں ایسی حماقت وہ بھلا کیوں کر رہا ہے اور آخر اس سب میں اسے کیا فائدہ دکھائی دیتاہے۔ ہمارے کئی بڑے دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف لاشعوری طور پر بھارت کے مدد گار ہیں۔ سمجھنا یہ ہے کہ بھارت شعوری اور لا شعوری طور پر اپنا ہی دشمن کیوں ہو رہا ہے؟۔

اداریہ