Daily Mashriq

بد خبری سے خوشخبری تک

بد خبری سے خوشخبری تک

ایک ا چھی خبر جسے سن کر دل و دماغ روشن ہو جائے وہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کروں گا پہلے بصد معذرت ایک عبرت انگیز قسم کی بد خبری سے آغاز کیا جائے گا تاکہ بعد میں اچھی خبر سے ذہنی کوفت کا ازالہ ہو جائے۔ یہ بد خبری جو میں بادل ناخواستہ پیش کرنے لگا ہوں آپ کی نظروں سے بھی گزری ہوگی۔ اس کی جانکاری کچھ عرصہ پہلے ہمارے ایک دوست ڈاکٹر سید جاوید بادشاہ کی جانب سے ہوئی تھی۔ آپ تک پہنچانے کا موقع اب ملا۔ واقفان حال نے گزشتہ دنوں دنیا میں جامعات کی کارکردگی کے حساب سے ان کی درجہ بندی پر مبنی ایک جائزہ رپورٹ پیش کی تھی۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ ایک قوم جو ایک ایسے دین کی پیرو کار ہے جس کی بنیاد اقراء پر استوار کی گئی ہے علم کا پھیلائو اور حصول اس کی بنیادی تعلیمات کا حصہ ہے۔ بتایا گیاہے کہ علم مومن کی میراث ہے اور ساتھ یہ بھی تلقین کی گئی ہے کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ آج کے چین کا ذکر نہیں جس کے سی پیک کے تحفے کی تقسیم پر ہم متفق نہیں ہوسکے بلکہ کم و بیش ساڑھے چودہ سو سال پہلے کے چین کے بارے میں کہا گیا ہے جہاں تک رسائی کے لئے اس زمانے میں کئی سال درکار ہوتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ متذکرہ جائزہ رپورٹ کی اطلاع کے مطابق درجہ بندی کے حساب سے رہے نام اللہ کا ' پہلی 500جامعات میں ہماری کسی پاکستانی یونیورسٹی کا نام شامل نہیں۔ ہاں البتہ اس جائزہ رپورٹ میں نظر ماتے کے طور پر یا یوں سمجھئے تلچھٹ میں 5پاکستانی جامعات کو 701کا درجہ ملا ہے جس میں لاہور کی Lums یونیورسٹی شامل ہے۔ دوسری جانب پاکستانی جامعات کے مقابلے میں دنیا کی 500 اعلیٰ جامعات میں سات بھارت کی' 24چین کی' دو ایران' 5ترکی' تین سنگا پور' چار اسرائیل' تین سعودی عرب'5ملائشیائ' چھ لبنان اور چھ ہانک کانگ کی جامعات کو شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ کار کردگی کی بنیاد پر درجہ بندی کی اس فہرست میں امریکہ اور برطانیہ کی جامعات نے اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ چشم کشا حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظام تعلیم کو دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے مزید 60 سال درکارہوں گے۔ ہمیں تو خیر وہ زمانہ دیکھنا نصیب نہ ہوگا خدا کرے ہماری آئندہ نسلوں کو یہ موقع مل جائے۔ وطن عزیز کے نظام تعلیم میں اس زوال کی بے شمار وجوہات ہیں' ایک تو یہ کہ گزشتہ 70سالوں کے دوران ملک کا تعلیمی شعبہ ہمیشہ تجربوں کا ہدف ہی بنا رہا اور اس عرصے میں کبھی بھی یہ شعبہ حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آیا۔ اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ ہمارے صوبے کی جامعات کے سربراہوں کو اپنی میعاد کار کے د وران مالی معاملات میں ان کی مبینہ مشکوک کارکردگی سے بچنے کے لئے قبل ازگرفتاری ضمانت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس کے تعلیمی اداروں میں مالی بدعنوانی کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ رئیس الجامعات کو شب و روز اپنی صفائی کے لئے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ معزز اساتذہ مالی بے قاعدگیوں کے الزام میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور یونیورسٹی کے سربراہ کی خالی آسامی پر تقرری کے لئے بوجوہ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے۔ جب ہماری جامعات کے سربراہ اپنے اداروں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی مبینہ مالی بے قاعدگیوں کے معاملات کو سلجھانے میں لگے رہیں تو پھر کسی بھی جامعہ کی معیار تعلیم کے لحاظ سے کسی عالمی جائزہ رپورٹ کی درجہ بندی میں شمولیت کا آئندہ صدی تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ان تلخ حقائق کے بعد اب یہ خوشخبری بھی سن لیجئے کہ جامعہ پشاور کے شعبہ طبیعات میں قائم میٹیلریز ریسرچ لیبارٹری کے دو طلبہ سید شاہین شاہ اور فلک نیاز نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پہلا اور دوسرا انعام حاصل کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ان محنتی طلباء کو جس تحقیق پر یہ اعزاز ملا ہے ان کے لئے آلات بیرون ملک سے نہیں منگوائے گئے بلکہ جامعہ پشاور کے شعبہ طبیعات میں قائم لیبارٹری کے ایک معلم کی نگرانی میں خود تیار کئے گئے ہیں۔ اس مقابلے میں شریک طلباء کی تحقیقی کاوشوں کا جائزہ لینے کے لئے جج صاحبان تمام غیر ملکی تھے جن تک رسائی یا کسی ذاتی پسند و نا پسند کی بنیادپر ان سے کوئی فیصلہ کروانا ممکن ہی نہ تھا۔ جامعہ پشاور کے شعبہ طبیعات کی بنیاد پروفیسر میاں مجید نے 1956ء میں رکھی تھی جو اس سے قبل گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے تھے اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام اور ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق چیئر مین اشفاق احمد خان جیسے نامور شاگردوں کی راہنمائی کرچکے تھے۔ شعبہ طبیعات کے موجودہ چیئر مین بھی بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ نا مساعد حالات کے باوجود شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کوشاں ہیں۔ جس شعبے کی وساطت سے گزشتہ 50سال میں کسی ایمپیکٹ فیکٹر جریدے میں ایک مقالہ تک شائع نہیں ہوا تھا اب 25سے 30 تحقیقی مضامین ان میں جگہ پا رہے ہیں۔ گزشتہ نصف صدی میں یہاں سے ایک پی ایچ ڈی سکالر برآمد نہیں ہوا تھا اب اسی شعبے سے 5سے 6تک ڈاکٹریٹ کی اسناد حاصل کی جا رہی ہیں۔ جامعات میں سربراہوں کی تقرری ' ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے کلیتاً اہلیت کی بنیاد پر کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ سال کسی بین الاقوامی سطح کی جائزہ رپورٹ میں کسی پاکستانی یونیورسٹی کا نام شامل نہ ہو۔ 

اداریہ