Daily Mashriq


اب بھی صدیق ورفیق نہیں

اب بھی صدیق ورفیق نہیں

امریکی صدور میں رچرڈنکسن جہا ں ایک کا میاب صدر ثابت ہو ئے تھے وہاں وہ واٹر گیٹ اسکینڈل کی نذربھی ہوئے تاہم ا ن کی خارجہ پالیسی، اورسلامتی کی پالیسیا ں کامیا ب قر ار پا تی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ امریکا کی سلا متی کے مشیر کی اہلیت کا بڑا دخل ہے۔ ہنری کسنجر ایک دانا بینا شخصیت تھے جن کے بارے میںیہ علم ہی نہیں ہو سکا کہ وہ صیہونیت النسل تھے یا کیتھولک عیسائی تھے مگرایک با ت مسلمہ تھی کہ وہ مسلم دنیا کے خیر خواہ نہ تھے بلکہ ان کا پو ری طرح جھکا ؤ اسرائیل کی طرف تھا چنا نچہ عالمی سطح پر اسرائیل ان کے دور میں امریکا میںبھی اور بیرونی دنیا میںمضبوط لا بی کا ملک بنا گیا تھا گویا ہنری کسنجر نہ صرف کتابیں رقم کر تے ہیں بلکہ تاریخ بھی رقم کر تے رہتے ہیں۔ تقریباًپینتیس ،چالیس سال بعد انہو ں نے ایک ایسا انکشاف کردیا ہے کہ دنیا حیر ان رہ گئی ہے کہ کیا امر یکا اونٹ کی طرح کینہ پرور ملک ہے چہر ہ کس طرح دمک رہا ہوتا ہے اور دل ظلمت سے لبریز ہو تاہے۔حال ہی میں انہو ں نے امریکی میگزین کے چیف ایڈیٹر کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں بنگلہ دیش کے قیا م کے بارے میں اہم ترین انکشاف کر تے ہو ئے امریکا کے چہر ے سے وہ نقاب اتار پھینکا ہے جس سے امریکا کی حیا ء قائم تھی۔ چہر ہ اس طرح عیا ں کیا ہے کہ دنیا کے سامنے امریکا کا اصل روپ آگیا ہے کہ وہ اپنے مفادا ت کے لیے اپنے محسنو ں کی کمر میںکس طر ح چھر ا گھو نپتاہے ،اور اپنا مطلب پو را کر تا ہے ۔ کسنجر کے انٹرویونے امریکا کے بارے میں یہ یقین قائم کرا دیا ہے کہ وہ کسی کا دوست نہیں بلکہ اپنی مطلب براری کا ملک ہے۔یوںتو بھارت کے وزیراعظم نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران یہ اعتراف جر م کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے قیا م میںبھارت نے مد د کی تھی ، مگر کسنجر نے اس سے بھی بڑھ کر جر م کا اعتر اف کیا ہے۔ سابق امر یکی وزیر خارجہ نے امریکی میگزین کے چیف ایڈیٹر کے ایک سوال جوا ب میں کہا کہ امریکا نے پا کستان پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کو خود مختاری دے دے۔ جب ان سے کہا گیا کہ1971ء میں تو ایسی خبر یں آرہی تھیں کہ امر یکا پاکستان کی حما یت کر رہاہے توکسنجر نے کہا کہ پاکستان کی حما یت کا دعویٰ محض اپنا مطلب پور اکرنے کے لیے تھا کیو ں کہ امر یکا اس وقت پا کستان کے ذریعے چین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں مصروف تھا اور پا کستان کو راضی رکھنا لا زمی تھا اور چین سے 1969ء میں رابطہ قائم ہو گیا تھا جیسے ہی رابطے قائم ہو ئے تو امر یکا نے پاکستان پر بنگلہ دیش کو آزاد کر نے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ انہو ں نے انکشاف بھی کیا کہ پاکستان کے صدر جنر ل یحییٰ خان نے رچرڈنکسن سے وعدہ کرلیا تھاکہ ما رچ 1972 ء میں بنگلہ دیش کو آزادی دے دی جا ئے گی ، لیکن بھارت نے حملہ کر کے یہ کا م پہلے نمٹا دیا۔ امریکا کے کر دار سے بھا رت واقف تھا چنا نچہ امریکا اور بھارت کے درمیان 1972ء میں دوستی کی اچھی بنیا د قائم کر دی گئی تھی ،یعنی امریکا اور بھارت کے درمیان اچھی دوستی کا قیا م بنگلہ دیش کے لیے کر دار ادا کر نے کی بنیاد پر ہوا ۔ ہنر ی کسنجر نے اسی طرح ایک اور سوال کے جو اب میںیہ انکشاف کیا کہ بنگلہ دیش کی تحریک کی انسانی حقوق کے حوالے سے امر یکا نے اس وقت اس طرح کھل کر اس لیے حمایت نہیں کی کہ چین سے پا کستان کے ذریعے جو رابطہ تھا وہ متا ثر ہوجا تا، لیکن رابطہ قائم ہو تے ہی امریکا نے اپنا کر دا ر ادا کیا۔ ہنر ی کسنجر کے انٹرویو میں بہت سے انکشاف ہو ئے ہیں جس سے اصل امر یکی چہر ہ سامنے آیا ہے۔ پاکستان امریکا کے ساتھ دو فوجی معاہد وں میںشامل تھا ایک سیٹو اور ایک سینٹو تھا ، اس میں سے سیٹو مشرقی پا کستان کے دفاع سے متعلق تھا جس کے تحت بیر ونی جا رحیت پر سیٹو میں شامل ممالک مشرقی پا کستان کے دفاع کے لیے پا کستان کی امد ا د کے پا بند تھے مگر امریکا نے1965 ء کی جنگ میں بھی پاکستان کو ہتھیا ر فراہم کر نے سے انکا ر کر دیا تھا جبکہ مشرقی پا کستان پر بھارت کے حملے کے مو قع پر سیٹو معاہد ے کے تحت امریکا کو پاکستان کی مد د کے لیے آنا چاہیے تھا اس زمانے میںامریکا کی طرف سے ساتویں بحری بیڑے کی روانگی کا بڑاچرچا کیا گیا لیکن وہ سقوط مشرقی پا کستان کے روبہ عمل ہو نے تک نہ پہنچا یہ محض دکھا وا تھا ۔ گو یا جہا ں مشرقی پا کستان کی علیحدگی میں پا کستان کے دو لیڈرو ں اور بھارت کی اندرا گاندھی کا کر دار شامل ہے وہا ں امریکا بھی اس کا ایک اہم ترین حصہ رہا ہے۔ امریکا کل تک جس ملک کی بیساکھیا ں استعمال کر کے بیجنگ میںداخل ہو ا تھااسی کو دولخت بھی کیا ۔ ترکی نے یورپی یو نین میں شمولیت کے لیے کیا کیا جتن کیے مگر اس کو رکن نہیںبنا یا گیا ، ہر دفعہ کوئی نہ کوئی شر ط عائد کر دی جا تی ، حالانکہ ترکی کی تما م حکو متو ں نے یو رپی یو نین کے عشق میں دودھ کی نہر یں کھودیں۔ اب اردگا ن امریکی اور مغرب کی چال بازیو ں کو جا ن چکے ہیں چنا نچہ اپنے پاکستان کے دورے میںانہو ں نے پا کستان کی پا رلیمنٹ سے جو خطا ب کیاوہ اہل پاکستان کے لیے ایک مخلصانہ اور انتہا ئی سنجید ہ پیغام ہے۔اگر پاکستان کی سیا سی قیا دت کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ بھی اس کو اسی سنجید گی سے سمجھنے کی کو شش کر ے جس اخلاص سے ارباب پاکستان کو اردگان سمجھا گئے ہیں۔ اردگان نے واضح کر دیا ہے کہ انہو ں نے اب یو رپی یو نین میں شمولیت کا خواب دیکھناچھو ڑ دیا ہے۔ ترکی کے لیے اب راستہ شنگھائی معاہدے کی طرف کو جا تا ہے ، پاکستا ن کو بھی اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا ، آخر میںایک اہم بات یہ کہ ہنری کسنجر کے انٹرویو پر کسی الیکٹرانک میڈیا نے جمعہ بازار نہیںلگا یا۔ ان کو صرف عشائیہ کی پڑی رہی کیو ں کہ اسی کو امریکی لابی کی وفاداری کہا جا تا ہے ۔بہر حال کسنجرنے سازشوں کی تاریخ میں ایک نیااضا فہ کیا ہے چنا نچہ اب سقوط مشرقی پا کستان کی تاریخی کتب میں ترامیم کر نا ہو گی البتہ ایک اہم پہلو یہ بھی کہ چالیس سال بعد ایسے مو قع پر جب کنٹرول لا ئن پر پاکستان اور بھارت کے درمیا ن سخت کشید گی کی فضا قائم ہے اور پھیلتی جا رہی ہے کسنجر کا مشرقی پاکستان کے حوالے سے ایسا انٹرویو آنا بھی اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بھارت کو یہ سمجھادیاجا ئے کہ پہلے بھی کبھی امریکا پا کستان کا حقیقی دوست نہیںرہاہے اور نہ اب صدیقی ہے۔

متعلقہ خبریں