Daily Mashriq


زندگی کی پچ پر بڑا سکور

زندگی کی پچ پر بڑا سکور

مارک ٹوئن کا کہنا ہے کہ زندگی کی کامیابی کا آدھا راز اس بات میں ہے کہ جو چاہو کھائو اور ہاضمے کے لیے خدا پر بھروسہ رکھو!ہمیں اس قسم کے جملے اس وقت یاد آتے ہیں جب ہم کسی ولیمے میں بنفس نفیس موجود ہوتے ہیں اپنے سامنے موجود نعمتوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ میزبان نے یہ شاہی دسترخوان ہمارے لیے ہی تو سجایا ہے اور اگر ہم ان نعمتوں سے پوری طرح انصاف نہ کرپائے تو یقینا کفران نعمت کے مرتکب ہوں گے ۔بوفے میں تو آپ کو پوری پوری آزادی ہوتی ہے۔ آگے بڑھ کر کشتوں کے پشتے لگاتے چلے جائیے اور وہ وقت ایسا ہوتا ہے کہ سب کو اپنی اپنی آتش شکم کو بجھانا ہوتا ہے اس لیے آپ کی طرف کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔سب کو اپنی پڑی ہوتی ہے سیانے کہتے ہیں کہ ایسے موقعوں پر تھوڑی دیر کے لیے شرم و حیا کو بالائے رکھ دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں بصورت دیگر خالی پیٹ گھر واپس لوٹنا پڑتا ہے لیکن جہاں تک خوانچہ روٹی کا تعلق ہے تو وہاں تہذیب کے تقاضے طوعاًکر ہاًنبھانے پڑتے ہیںآپ کے سامنے میز پر موجود اصحاب نے بھی اپنے حصے کا رزق کھانا ہوتا ہے اس لیے اگر کوئی بے قاعدگی ہوجائے تو عزت سادات خطر ے میں پڑسکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ سفر میں بندے کی پہچان ہوجاتی ہے لیکن ہم کہتے ہیں کے کھانے کی میز پر بندہ بے نقاب ہوجاتا ہے یہ وہ ظالم وقت ہوتا ہے کہ ذہن کمبخت کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔پوری توجہ اپنے سامنے پڑی ہوئی نعمتوں پر مرکوز ہوتی ہے اور ہاتھ مشینی انداز میں چل رہے ہوتے ہیں۔ دراصل بسیار خوری ایک ایسی لت ہے کہ اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔وزن بڑھتا چلا جاتا ہے بندہ سست الوجود ہوجاتا ہے اس کے لیے حرکت کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اسی لیے وہ زندگی کی اہم ذمہ داریاں نباہنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ انسان اگر زندہ رہنے کے لیے کھائے تو زندگی ہنسی خوشی گزر جاتی ہے لیکن جب مقصد حیات ہی چٹخارے دار کھانوں سے لطف اٹھانا ہوجائے تو پھر موٹا پا اور اس کے ساتھ منسلک بے شمار بیماریاں اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہیں ۔بسیار خوری سے پیچھا چھڑایا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ اپنے آپ کو یہ یقین دلادیں کہ میں انسان ہوں اور زندگی میں بہت سی غلطیاں کرتا رہتا ہوں لیکن مجھے اپنی ذات سے پیار ہے۔ اپنی زندگی سے پیارہے اپنے بیوی بچوں سے پیار ہے ۔یہ زندگی اللہ پاک کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے اور میں صرف اپنے لیے نہیں جی رہا بلکہ میرے ساتھ بہت سی زندگیاں ۔ موٹاپا ایسی جونکیں ہیںجن کی وجہ سے انسان عضو معطل ہو کر رہ جاتا ہے اگر میں صرف کھانے کے لیے زندہ ہوں تو یہ کیا زندگی ہے؟میں کھاکھا اپنی زندگی کو ضائع نہیں کروں گا پیٹو تو اپنی دانتوں سے اپنی قبر کھودتا ہے ! بے ادبی معاف! اگر آپ بڑے تاریخی قسم کے پیٹو ہیںتو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا انسان ساری زندگی سیکھتا رہتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں سے سیکھتا ہے آپ اپنے ارد گرد دیکھیے آپ کو عبرت کے لیے بہت سے بسیار خور نظر آجائیں گے ان کا ڈیل ڈول دیکھ کر آپ کا دل لرز اٹھے گا ۔ ان مائوں سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو زبردستی مت کھلائیں یہ عادتیں بچپن ہی سے پروان چڑھتی ہیں اگر ہوسکے تو اپنے بچوں کو کم کھانے کی ترغیب دیں!ان کی باتیں سن کر ہمیں اپنے حکیم صاحب یاد آگئے ۔وہ اکثر کہتے کہ بھوک رکھ کر کھانا ہر بیماری کا علاج ہے پانی اور سانس کے لیے بھی جگہ چھوڑنی چاہیے معدے کو ہر وقت امتحان میں نہیں ڈالنا چاہیے اسے بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایک دن ہمیں حکیم صاحب کے برخوردار کہنے لگے کہ والد صاحب کبھی کبھی بڑی زیادتی کرتے ہیں میں صرف ایک بازاری روٹی کھاتا ہوں آپ تو جانتے ہیں کہ بازاری روٹی عاشق نامراد کی طرح کمزور ہوتی ہے بمشکل پیٹ بھرتا ہے لیکن وہ مجھے بار بار کہتے ہیں کہ کھانا کم کھایا کرو ۔اب آپ ہی بتائیں کہ میں کیا کروں ؟ہمیں ان کی مظلومانہ فریاد سن کر بڑا لطف آیا بس ان سے یہی کہا کہ حکیم صاحب چوراسی (84)رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے باوجود بھی اسی طرح چا ق و چوبند ہیںانہیں دیکھ کر کسی بھی حوالے سے سستی یا کاہلی کا احساس تک نہیں ہوتا لگتا ہے کہ وہ سنچری بناکر ہی چھوڑیں گے وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا بھی زندگی کی پچ پر بڑا سکور کرے۔ آپ ان باتوں سے پریشان نہ ہوا کریں!مارک ٹوئن نے بھی خوب کھانے پینے کو زندگی کی کامیابی کا آدھا راز شاید اسی لیے کہا تھا کہ مکمل کامیابی کے لیے کم کھانا بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں