Daily Mashriq


حضرت اقبال کا شاہین تو ہم سے اُڑ چکا

حضرت اقبال کا شاہین تو ہم سے اُڑ چکا

لمحات ، ایام ، مہینے اور سال ہمیں زندگی میں اہم واقعات کی یاد دلاتے ہیں ۔ زندہ قومیں اپنے قومی ملی اور دینی معاملات و واقعات کو اپنی نوجوان نسلوں کو منتقل کرنے کے اُ ن مختص ایام اور مہ وسال میں اُن کو سناتی ہیں اور اُن اہم واقعات کی اہمیت فضیلت اور تقدس نوجوان اور آنے والی نسلوں کے اذہان و قلوب میں راسخ رکھنے کے لئے تقریبات کاانعقاد کرتی ہیں ۔ بیسویں صدی میں برصغیر پاک وہند کے مسلمان غلام تھے لیکن اس دور میں اللہ تعالیٰ مسلمانان ہند میں دین و سیاست ، معاشرت و معیشت ، علم وادب اور صنعت و تجارت میں جو قد آورشخصیات پیدا کیں ، اور اُنہوںنے اپنی قوم کو جن مشکل حالات سے نکالا ، اُن میں ہر ایک شخصیت اپنے اپنے مقام اورکام کے لحاظ سے آج بھی نمایاں اور معتبر ہے ۔ ان عظیم شخصیات میں علامہ محمد اقبال کی اپنی ایک انفرادی شان ہے کیونکہ آپ کا پیغام زمان ومکان کی قید سے بالا تر آج تک تر و تازہ ہے اور امید ہے کہ اسی طرح تر و تازہ ر ہے گا اس لئے کہ نیا نظریہ اور کوئی نیا پیغام یا نئی بات کہیں صدیوں کے بعد ہی آتی ہے اور پھر اقبال کے علام کو خاص انفرادیت حاصل ہے وہ یہ کہ آپ کے پیغام کے سوتے قرآن کریم سیر ت نبی پاک ۖ سے پھوٹتے ہیں ۔ اسلام کا پیغام قیامت تک کے لئے ہے ۔ اس لئے جب تک پاکستان قائم ہے اور دنیا میں اردواور فارسی زبان موجود ہے ۔ اقبال کے پیغام کی افادیت اور ابدیت اسی طرح قائم رہے گی ۔ لیکن ستم ظریفی ملا خطہ کیجئے کہ کس خوبصورتی ، کے ساتھ کتنے غیر محسوس طریقے سے علامہ اقبال کے نام اور کلام کو پاکستان کے دفاتر اور تعلیمی اداروں سے نکال باہر کیا گیا ۔ آپ قیام پاکستان کے ایام اور مہ وسال کے دوران دیکھئے اور پو چھیئے ، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بانی قوم محمد علی جناح کی تصویر کے ساتھ عموماًو بیشتر علامہ کی تصویر بھی آویزاں ہوتی تھی ۔ سکولوں اور کالجوں میں تو علامہ اقبال کی تصویر اور اشعار 'نظمیں ' دیواروں پر مناسب جگہوں پر خطاط کے ذریعے لکھوائی جاتی تھیں ۔ نصاب میں اور مضمون کی کتاب میں پانچویں جماعت سے لیکر بی اے تک اچھی نظمیں اور غزلیں پڑھائی اور یاد کرائی جاتی تھیں ۔ علامہ اقبا ل کے اشعار زبانی سنانے کے مقابلے ہوتے تھے ۔'' شکوہ اور جواب شکوہ ''کے چند اشعار یاد کرنا تو پڑھے لکھے ہونے کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔یوں بزرگوں سے اپنی قومی شخصیات کی یاد کا یہ سلسلہ نوجوانوں تک منتقل ہونے کا وسیلہ بنتا ۔ لیکن پھر مملکت خدا داد نے ترقی کرلی ۔ مغرب کی ترقی سے ہم اتنے مرعوب ہوئے کہ انگریزی زبان کو ترقی کی بنیاد سمجھ لیا ۔ انگریزی کی سائنس کی زبان ہونے کے سبب افادیت اپنی جگہ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں تھا کہ اپنی وہ زبان جس کا قیام پاکستان اور استحکام پاکستان سے گہرا بلکہ بنیادی تعلق ہے ایسے بھول جائیں کہ آج کے نوجوان '' شعر اور شیر '' میں فرق کرنے کے قابل نہیں رہے۔ نام نہاد ترقی کے نام پر اردواور اس کے نتیجے میں علامہ اقبال اور دیگر بہت بڑے شعراء اور ادباء و فضلا ء کے کلام اور فن پاروں کو ایسادیس نکالا دیاگیا کہ آج یونیورسٹی سطح کی کلاس میں ضرورت کے تحت کہیں اقبال کا شعر سنایا جائے تو بجائے اس کے کہ طلباء عش عش کر اُٹھیں ،ٹک ٹک دیدم کی کیفیت سے دوچار ہو کر بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسا ر کر کا مجسمہ بن جاتے ہیں ۔ انگریزی میڈیم (جسے عام طور پر انگریزی میڈم ہی بولا جاتا ہے ) کے شوق میں ہم پتلون کے تاک میںلنگوٹیا بھی کھو بیٹھے ۔ گزشتہ نصف صدی سے انگریزی سیکھنے کے لئے ہلکان ہوتے ہوئے اپنی قومی اور مادری زبانوں کو بھی لہو لہان کر بیٹھے ۔ آج پاکستان میں اردواور مادری زبانوں میں انگریزی کے الفاظ کو جس بے ڈھنگے طریقے سے ملایا جاتا ہے اُس سے اپنی ثقافت و تہذیب سے جڑے رہنے والے سلیم الطبیع اور باذوق لوگوں کو جو ذہنی و روحانی کوفت ہوتی ہے اُس کا اندازہ اردو، پنجابی اور فارسی زبانوں میں با مقصد اور بہت ہی اعلیٰ مزاح نگار انور مسعود کی شاعری سے لگایا جا سکتا ہے ۔ 

دوستو!انگریزی پڑھنا لازم ہے ہمارے واسطے

فیل ہونے کو بھی ایک مضمون چاہیئے

مرد ہونی چاہئیے اور عورت ہونا چاہیئے

اب گرائمر کا یہی قانون ہونا چاہیئے

ان سطور کے ذریعے ذمہ داران ملک و ملت ، والدین و اساتذہ اور ٹیکسٹ بک بورڈ کے منتظمین سے التجا ہے کہ علامہ اقبال کے کلام کو نصاب میں ایسا پھیلا دو کہ گریجویشن کرنے تک طلباء اقبال کے اہم کلام و پیغام کو سمجھنے کے اہل ہوں ۔ اس کے لئے اردو زبان کی تدریس کے بھی ضروری اقدامات کئے جائیں ۔ کہ ایک تو اس سے پاکستان کی مختلف اقوام کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے ۔ دوسرا اقبال فہمی کی راہیں ہموار ہوں گی یوں وطن عزیزکو جو خطرات درپیش ہیں ، قومی یکجہتی کے ذریعے اُس کا سد باب ہوگا ، ورنہ یاد رکھیئے کہ ہمارے طلبہ کی حالت یہ ہے کہ اقبال تو اپنی جگہ بہت ہی اہم ہیں ان کو اپنی مادری زبانوں کے اہم شعرا ء کے ایک دو اشعار بھی یاد نہیں ۔ آج پشتون طلبہ کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ خوشحال بابا ، رحمن بابا ، حمزہ شنواری ، عبد الحمید بابا وغیرہ جیسے شعرا کی شاعری کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ لہٰذا ضرروت اس بات کی ہے پاکستان کے وزیر اعظم اس حوالے سے اقدامات کریں ورنہ حال یہ ہوگا۔

حضرت اقبال کا شاہین تو ہم سے اُڑچکا

اب اپنامقا می کوئی جانور پیدا کرو

متعلقہ خبریں