Daily Mashriq

بعد از خرابیٔ بسیار

بعد از خرابیٔ بسیار

حکومت اور فیض آباد دھرنا دینے والوں کے مابین بالآخر 6نکاتی معاہدے طے پا جانے کے بعد دھرنا ختم کرنے کے حوالے سے آنے والی خبروں سے ملک بھر میں عوامی سطح پر یقینا اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ ان سطور کے لکھتے وقت میڈیا چینلز پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق فریقین میں جو معاہدہ طے ہوا ہے اس پر حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ‘ سیکرٹری داخلہ کے ساتھ ساتھ د ھرنے کے ذمہ داروں کی جانب سے مولانا خادم رضوی‘ پیر افضل قادری‘ وحید نور نے معاہدے پر دستخط کئے۔ معاہدے پر میجر جنرل فیض حمید نے بھی دستخط کئے۔ معاہدے کے اہم نکات کے مطابق وزیر قانون زاہد حامد کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا جائے گا۔ ( ایک چینل نے زاہد حامد کے استعفیٰ دینے کی بھی خبر دی ہے) ‘ راجہ ظفر الحق رپورٹ کو 30دن کے اندر اندر سامنے لایا جائے گا۔ دھرنے کے خلاف حکومتی ایکشن پر انکوائری بورڈ قائم کرکے ذمہ داروں کے خلاف 30 دن کے اندر اندر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دھرنے کے قید کئے جانے والے افراد کو تین روز میں رہا کیا جائے گا۔ املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کریں گی۔ معاہدے کے بعد دھرنا دینے والے کارکنوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی خبریں بھی سامنے آئیں جبکہ رینجرز کی نفری بھی کم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دھرنا دینے والوں نے دھرنا کے مقام سے اپنا سامان سمیٹنا شروع کردیا ہے اور امید ہے کہ ان سطور کے چھپنے تک جڑواں شہروں میں حالات بڑی حد تک معمول پر آچکے ہوں گے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دھرنے کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کردیا تھا کہ عوام کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرسکتے۔ انہوں نے میڈیا پر پابندی ختم کرنے اور ختم نبوتؐ قانون میں ترمیم کرنے والوں کو سزا دینے کا بھی مشورہ دیا تھا۔ آمدہ اطلاعات کے مطابق آرمی چیف نے دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذاکرات میں مدد دینے کی بھی پیشکش کی تھی۔ آرمی چیف کے واضح موقف کے بعد حکومت نے پیمرا کو میڈیا چینلز پر سے پابندی ہٹاتے ہوئے چینلز کو ضابطہ اخلاق میں لانے کے احکامات جاری کئے جبکہ مبینہ 6نکاتی معاہدے پر فریقین کے دستخطوں کے ساتھ میجر جنرل فیض حمید کا نام سامنے آیاہے جس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آرمی چیف کی جانب سے بطور ضمانت معاہدے پر دستخط کئے ہوں گے اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جو معاہدے کو معتبر بنا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال کو اگر بعد از خرابئی بسیار قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ جڑواں شہروں کے سنگم پر لگ بھگ 19روز تک دھرنے کی نوبت اور اس کے نتیجے میں راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کو جن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس سے دھرنے کے آغاز میں ہی آسانی کے ساتھ نمٹا جاسکتا تھا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے ایک اہم مقام کو ابتدا میں چند سو افراد نے احتجاج کے لئے استعمال کرتے ہوئے بعد میں وہاں بعض دستیاب معلومات کے مطابق 20ہزار افراد کے دھرنے میں تبدیل کیا جبکہ حکومتی ذرائع احتجاج کرنے والوں کی تعداد دو ڈھائی ہزار ظاہر کر رہی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومتی دعوئوں کے مطابق دھرنا والوں نے دو ڈھائی گھنٹے احتجاجی مظاہرے کے بعد وہاں سے منتشر ہونا تھا مگر صورتحال نے خاصی تشویشناک شکل تب اختیار کی جب نہ صرف دھرنا دینے والوں نے مقررہ مقام کے بجائے جڑواں شہروں کے سنگم پر قبضہ جما کر دونوں شہروں کو لاک ڈائون کرلیا اور پھر نوبت یہ اینجا رسید کہ پورے 19 دن تک صورتحال خاصی غیریقینی سے دو چار رہی۔ چونکہ احتجاج کا بنیادی نقطہ ہر مسلمان کے لئے اپنے ایمان کا حصہ یعنی ختم نبوتؐ کے حوالے سے تھا جس پر یقینا کوئی گنہگار مسلمان بھی کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوسکتا اس لئے ایسا لگتا ہے کہ حکومت صورتحال کا صحیح ادراک نہ کرسکی اور مسئلے سے بہ حسن خوبی نبٹنے کی بجائے اسے طول دینے کی غلط پالیسی اختیار کرتے ہوئے صورتحال کو نازک لمحات سے دوچار کیا۔ اس ضمن میں پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ اور ازاں بعد سپریم کورٹ نے نوٹس لے کر دھرنے والوں کو ہٹانے اور عام شہریوں کو درپیش مسائل سے نجات دلانے کے احکامات صادر کرتے ہوئے درست طور پر قرار دیا کہ احتجاج کا حق کسی سے نہیں چھینا جاسکتا تاہم اگر کسی کے احتجاج سے عام شہریوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہوں تو اس بات کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تب تک پانی سر سے اس قدر اونچا ہوگیا تھا کہ جب عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ نے دھرنا دینے والوں کے خلاف آپریشن کیا تو اس کے نتائج پورے ملک میں دینی حلقوں کی جانب سے ملک گیر احتجاج پر منتج ہوئے اور خدشہ تھا کہ ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے اور یہی وہ حالات ہو تے جن کی ملک دشمن قوتوں کو توقع تھی۔ ان میں اندرون ملک کے علاوہ بیرونی طاقتیں بھی شامل ہیں۔ مگر مقام شکر ہے کہ بالآخر آرمی چیف کی کوششوں سے صورتحال پر قابو پالیا گیا۔ فریقین میں مصالحت پر آمادگی کے بعد چھ نکاتی معاہدہ عمل میں آچکا ہے اور امید ہے کہ معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر بڑے شہر میں آئندہ کسی کی جانب سے بھی احتجاج کے لئے مقامات کا تعین کریں اور ان کے علاوہ کسی کو بھی کسی دوسری جگہ احتجاج کی اجازت نہ دی جائے تاکہ عام شہریوں کے حقوق پامال نہ ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں