Daily Mashriq

دعوے اور حقیقت

دعوے اور حقیقت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ان دعوئوں پر یقینا اظہار اطمینان کیا جانا چاہئے کہ صوبے کو بجلی منافع کی مد میں اب 150ارب روپے ملیں گے اور بجلی منافع کا معاہدہ اے جی این قاضی فارمولے کے مطابق ہوگا۔ وزیر اعظم نے 10دسمبر تک 34ارب روپے دینے کا وعدہ دہرایا ہے جبکہ چشمہ رائٹ بنک کینال منصوبہ بھی منظور کرلیا گیا ہے۔ تاہم اصل مسئلہ اردو زبان کے اس محاورے میں آکر اٹک جاتا ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ جہاں تک اس قسم کے دل خوش کن دعوئوں کا تعلق ہے ماضی میں بھی صوبے کی مختلف حکومتوں کے ادوار میں لگ بھگ یہی دعوے کئے جاتے رہے ہیں اور عوام کو تسلی دی جاتی رہی ہے مگر وقت گزرنے کے بعد تمام دعوے صرف سراب ثابت ہوتے رہے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اے جی این قاضی فارمولے کی باز گشت سابقہ کئی ادوار کی حکومتوں میں سنائی دیتی رہی ہے لیکن عملی اقدامات کبھی سامنے نہیں آئے۔ یہاں تک کہ وقت گزرنے کے بعد انہی صوبائی حکومتوں نے پارلیمانی جرگے بنا بنا کر فاقی حکومتوں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے ملاقاتوں میں ہر ممکن کوشش کی کہ وعدے وفا کئے جائیں لیکن ہمیشہ واپڈا نے ہی وعدہ خلافی کی اور اے جی این قاضی فارمولے کے تحت رقم کی ادائیگی سے صاف انکار کیا۔ یہاں تک کہ عدالتوں سے رجوع کرکے ادائیگی کی راہ کھوٹی کرنے میں کامیابی حاصل کی حالانکہ اس وقت رقم بھی کہیں کم تھی۔ اب جبکہ رقم 150 ارب سالانہ ہونے جا رہی ہے تو واپڈا حکام ٹھنڈے پیٹوں اس صورتحال کو کیسے برداشت کرنے پر تیار ہوں گے۔ بہر حال بقول وزیر اعلیٰ دس دسمبر کی تاریخ کونسی دور ہے اور اگر مقررہ تاریخ کو واقعی وزیر اعظم نے 34ارب روپے کی ادائیگی کا وعدہ پورا کردیا تو اس کے بعد 11دسمبر کو پانی کے خالص منافع کی رقم سالانہ 150 ارب کئے جانے کے دعوئوں کو بھی تسلیم کئے جانے کی امید پیدا ہوسکتی ہے۔ جہاں تک گیس کے نئے ذخائر میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ کی جانب سے خرچہ کرنے کی بات ہے اور صوبے کا ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں تو ان دعوئوں کا دار و مدار بھی دس اور گیارہ دسمبر کے اقدامات پر ہی ہوگا۔ جبکہ آئین کے مطابق گیس اور پن بجلی پر متعلقہ صوبوں کے اختیار یا ان کو ترجیح کی اس وقت جو صورتحال ہے اور سوئی گیس حکام کے دعوئوں کے برعکس صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی گیس کی لوڈشیڈنگ شروع کی جاچکی ہے۔ اس کے بعد تو قدرتی گیس کے حوالے سے بھی تمام دعوے سراب ہی لگتے ہیں۔ ان تلخ حقائق کے باوجود ہماری خواہش یہی ہوگی کہ وزیر اعلیٰ کے دعوے سچ ثابت ہوں اور وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ کئے جانے والے وعدے محض دعوے ہی نہ رہیں بلکہ ان پر عمل درآمد سے صوبے کی مشکلات پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔

تجھ کو پرائی کیا پڑی!

لگتا ہے ملکی اقتدار پر ناجائز قبضہ کرکے لگ بھگ دس سال سے بھی زیادہ عرصے تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے سابق آمرجنرل(ر) پرویز مشرف کا دل آئین کی بار بار بے حرمتی کرنے اور بلا شرکت غیرے ملک پر حکمرانی کرنے سے ابھی بھرا نہیں کہ انہوں نے ایک بار پھر سپریم کورٹ کو انگیخت کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ عدالت عظمیٰ مداخلت کرے ورنہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ پھر جیت جائیں گے۔ جہاں تک ملک میں کسی عبوری حکومت کے قیام کا تعلق ہے تو اس کی آئین میں صرف اتنی گنجائش ہے کہ یا تو منتخب حکومت اپنی مدت پوری کرے تو قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے مشورے سے ہی عبوری حکومت کا قیام عمل میں آسکتا ہے۔ ایسے میں سپریم کورٹ صرف اپنا آئینی کردار ہی ادا کرسکتی ہے نہ کہ وہ حکومتوں کے قیام یا انہیں گرانے کا غیر آئینی کردار ادا کرے۔ رہ گئی پیپلز پارٹی ‘ لیگ ن یا کوئی بھی تیسری چوتھی جماعت‘ اگر عوام ان میں سے کسی بھی جماعت کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرکے اسے ووٹوں کے ذریعے اکثریت دلا دیتی ہے تو عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے کا کسی بھی ادارے کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ جنرل صاحب عدالت عظمیٰ کو اس قسم کے غیر آئینی اور غیر قانونی مشورے دینے کے بجائے اگر وہ اپنے آپ کو قانون کی پاسداری کا مشورہ دے دیں اور وطن واپس آکر عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرکے عدالتوں کے سامنے سرنڈر کریں۔ اس لئے انہیں یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ تجھ کو پرائی کیا پڑی‘ اپنی نبٹ تو۔

متعلقہ خبریں