Daily Mashriq

حالات کی زنجیر

حالات کی زنجیر

وزیرداخلہ احسن اقبال نے شاید اسی لمحے کے لئے کہا تھا کہ وہ فیض آباد چوک کے نہیں پورے پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں۔ گویا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے لئے فیض آباد کی چنگاری کے پورے ملک میں شعلہ بن کر لپکنے کا انتظار کر رہے تھے اور پورے پاکستان میں پھیلتا ہوا احتجاج اب ان کی صلاحیتوںکے لئے امتحان بنتا جا رہا ہے۔ فیض آباد چوک کی جس چنگاری کو وہ اپنے بہتر فیصلوں سے مسل سکتے تھے وہ اب شعلوں میں ڈھل کر ان کے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ فیض آباد کی چنگاری کو وہیں ختم کرنے کا آسان طریقہ وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ تھا۔ دھرنے والوں کا نکتہ یہ تھا کہ حکومت نے ختم نبوتؐ کے قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کسی بھول چوک کے باعث نہیں ایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت کی ہے۔ حکومت اور بیرونی این جی اوز اور اداروں میں ’’قادیانیت فرینڈلی‘‘ ایجنڈے کے بدلے کچھ معاملات طے پاچکے تھے، اس لئے ناموس رسالت کے قوانین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔ اس راستے کو بند کرنے کے لئے وہ وزیر قانون کا استعفیٰ چاہتے تھے تاکہ آنے والے وقتوں اور حکومتوں کے لئے ایک مثال قائم ہو۔ حکومت اس معاملے کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہی۔ ان کا خیال تھا کہ طاہرالقادری اور عمران خان کے دھرنوں کی طرح یہ دھرنا بھی بے نتیجہ رہے گا۔ ایک وقت آئے گا جب مظاہرین تنگ آکر گھروں کی راہ لیں گے۔ ماضی کے دھرنوں سے تحریک لبیک کے دھرنے کا موازنہ بنتا ہی نہیں تھا کیونکہ ماضی کے دھرنوں کی بنیاد سیاسی تھی اور تحریک لبیک کے دھرنے میں اول تا آخر مذہبی جذبات غالب تھے۔ اپنی حساسیت کی وجہ سے اس کا موازنہ لال مسجد بحران سے ہی کیا جا سکتا تھا۔ لال مسجد بحران نے ایک طاقتور حکومت کو کٹی ہوئی پتنگ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ایک مضبوط فوجی حکومت کا اعتبار اور ساکھ ہوائوں میں تحلیل ہو تی چلی گئی تھی۔ راجہ ظفرالحق کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائے بغیر حکومت ایک قدم پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ حکومت نے آپریشن کا آپشن آزمانے کا فیصلہ کیا اور یوں پرویز مشرف کی طرح اندازے کی غلطی کا شکار ہوگئی جس کے بعد فیض آباد چوک کا بحران پاکستان کے بحران میں بدل گیا۔ شعلے اس قدر بھڑک اٹھے کہ جی ایچ کیو، وزیراعظم ہائوس اور چاروں صوبوں تک حدت محسوس کی جانے لگی۔ پاکستان دنیا میں بہت سے حوالوں سے انوکھا ملک ہے اس کے معاملات بھی دنیا سے الگ ہیں۔ اسی لئے یہاں ترکی ماڈل، مصر ماڈل، عرب سپرنگ ماڈل، بنگلہ دیش ماڈل کچھ بھی نہیں چلتا یہاں اس وقت تک فقط ’’پاکستان ماڈل‘‘ ہی چلتا رہے گا جب تک ریاستی ادارے داخلی سیاست پر ہم آہنگ نہیں ہوتے۔ جب تک سیاست بیرونی اثرات اور عسکریت داخلی اور جیو سٹریٹجک بنیاد پردو الگ سمتوں میں سفر جاری رکھے گی پاکستان کی سیاست یونہی غیر یقینی کے سایوں تلے جاری ہے۔ فیض آباد میں دھرنا ختم کرانے کی کوشش میں وہی ہوا جو طاقت کے استعمال کے بعد ہوتا ہے۔ حکومت نے شاید بہت سوچ سمجھ کر طاقت کے استعمال سے گریز کا راستہ اختیار کر رکھا تھا۔ عوام اور عدلیہ اور میڈیا کا دبائو حکومت کے لئے ہلہ شیری ثابت ہوا۔ حکومت اپنی محتاط پالیسی کو بالائے طاق رکھ کر آخر کار زور آزمائی پر اتر آئی اور یوں دھرنا ختم کرتے کرتے حکومت کا پائوں ایک لمبے دھاگے میں الجھ کر رہ گیا۔ ابھی ماڈل ٹائون کا واقعہ حکومت کے لئے ایک بھیانک یاد بن کر تازہ ہی تھا کہ حکومت نے وزیر قانون زاہد حامد کو بچاتے بچاتے اس سے بھی زیادہ پرخطر راہ اختیار کی۔ چنگاری شعلوں میں بدل کر ملک کے طول وعرض میں پھیل گئی ہے اور حکومت کے لئے چیلنج بھی اسی قدر پھیل گیا ہے۔ آپریشن کے بعد ملک میں ایک احتجاجی تحریک کا وہ ماحول بن گیا جو بڑی سیاسی جماعتیں گزشتہ چار سال میں نہ بنا سکی تھیں۔

آپریشن سے پہلے حکومت کے پاس کھیلنے کو بہت سے کارڈ تھے آپریشن کے بعد حکومت کئی کارڈ ضائع کر چکی۔ اب یہ مولانا خادم حسین رضوی اور زاہد حامد یعنی دھرنا دینے والوں اور حکومت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ اس میں ایک اور فریق کا اضافہ ہوگیا ہے، وہ فریق ہے فوج۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تو ازراہ تفنن دھرنا ختم کرانے کے لئے فوج سے مدد لینے کی بات کی تھی مگر اب حالات حقیقت میں اسی نہج پر پہنچتے جا رہے ہیں۔ مظاہرین اور حکومت کے درمیان پہلے انا اور مطالبات کے فاصلے تھے اب لاشیں، آنسو گیس، تشدد، زخمی، گرفتاریاں اس فاصلے میں فیصل بن کرکھڑے ہوگئے ہیں۔ اب اس خلیج کو طاقتور فریق کے ذریعے پاٹنا ممکن ہے۔ حکومت نے فوج کو طلب کیا مگر فوج نے وزارت داخلہ کے خط کے جواب میں کئی سوال اٹھا دئیے ہیں گویا کہ لال مسجد حادثے کے بعد فوج مذہبی جذبات سے مغلوب کسی گروہ کے سامنے آنے کے مضمرات کو سمجھ چکی ہے۔ اسی لئے جی ایچ کیو نے وزارت داخلہ کے خط کے جواب میں کہا کہ پولیس کو پوری طرح استعمال نہیں کیا گیا، فوج ہنگاموں کو روکنے کے لئے استعمال ہوتی ہے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے نہیں ایسے میں جبکہ عدلیہ نے آتشیں اسلحہ استعمال کرنے سے منع کر رکھا ہے فوج معاملات کو کیوں کر کنٹرول کر سکتی ہے؟۔ تحریک کی فضاء بن چکی ہے اور مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر تک دراز ہوگیا ہے۔ چوہدری نثار، زاہد حامد کے گھروں اور جاوید لطیف پر حملے جذبات میں اشتعال کی سطح کو ظاہرکرتے ہیں۔ حکومت کے ہاتھ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی بندش کا آسان نسخہ آ گیا ہے یہ تحریک کا ماحول بنانے کی جانب حکومت کا اپنا قدم ہے۔ تحریک کا ماحول حکومتوں کے لئے بہت کڑا مقام ہوتا ہے۔ ان سے ایک کے بعد دوسری غلطی اور حماقت سرزد ہوتی ہے۔ یوں حماقتوں کی ایک زنجیر بن جاتی ہے اور حکمران حماقتوں اور حالات کی اس زنجیر میں جکڑ کر رہ جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں