Daily Mashriq

رشوت خور کا سوشل بائیکاٹ

رشوت خور کا سوشل بائیکاٹ

جب شادی ہال نہیں تھے تو تب بھی لوگوں کی شادیاں ہو جایا کرتی تھیں لیکن اب شادی ہال کو شادی کے ساتھ لازم وملزوم کردیا گیا ہے بچی کی شادی ہے اور باپ بیچارا شادی ہالوں کے چکر کاٹ رہا ہے شادی سے چار مہینے پہلے بکنگ کروانا ضروری ہے ! لیکن اسی کا نام زندگی ہے۔ظاہر ہے زمانے نے بدلنا ہوتا ہے سائنس کی ترقی نے حضرت انسان کو بیدار کردیا یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب حالات بدلتے ہیں دولت کی ریل پیل ہوتی ہے تو وہ اپنے اخراجات بھی بڑھا دیتا ہے۔ وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اپنے رکھ رکھائو کا خیال بھی رہتا ہے وہ اپنے لیے کچھ نئے ضابطے اور قوانین بھی مرتب کر لیتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب وہ ضروریات زندگی سے ایک قدم آگے بڑھا کر اپنے سٹیٹس کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اگر اس جنون کو ہمارا معاشرتی پاگل پن کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ مغرب کے مقابلے میں ہمارے یہاں یہ بیماری بہت زیادہ ہے۔ سب ایک ہی رو میں بہتے چلے جارہے ہیں۔امیر کی بے جا خوشامد کی جاتی ہے سرمایہ دار کے ساتھ تعلق کو مختلف حیلے بہانوں سے ظاہرکیا جاتا ہے۔ ہم رشوت کو بہت برا سمجھتے ہیں اسے حرام کی کمائی کہتے ہیں لیکن رشوت خور کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس کی دولت سے بہت جلد مرعوب ہوجاتے ہیں۔ رشوت خور کی گاڑی اس کا بنگلہ اس کا لباس ہمیں بہت متاثر کرتا ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ گریڈ اٹھارہ انیس یا بیس کا آفیسر بڑے بڑے بنگلوں کا مالک نہیں ہوسکتا اگر وہ صرف اپنی تنخواہ کے مطابق زندگی گزارے تو یقین کیجیے ان تمام آفیسرز کا شمار اکیسویں صدی کے درویشوں میں ہوگا۔ ایک کھاتے پیتے خوشحال تاجر کے مقابلے میں گریڈ بیس کا آفیسر بیچارا کیا حیثیت رکھتا ہے لیکن بالائی آمدنی کی کرامات کی وجہ سے وہ شاہانہ زندگی گزارتا ہے اور ہم سب اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔ اس قسم کی سب برائیوں کی سب سے بڑی وجہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ ہم ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کو برا کہتے ہیں لیکن جس کے پاس یہ دولت ہوتی ہے اس کی خوشامد کرتے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے دانش ور اس بات پر حیران و پریشان ہیں کہ سچے دین سے تعلق رکھنے والے نماز روزہ کی پابندی کرنے والے ،حج و عمرہ کی بار بار سعادت حاصل کرنے والے اپنے کردار کی حفاظت کیوں نہیں کرسکتے !وہ رشوت لینے سے باز کیوں نہیں آتے!یہ لوگ جعلی دوائیوں کے کاروبار میں کیوں ملوث ہوتے ہیں؟ یہ ذخیرہ اندوزی کیوں کرتے ہیں؟ہمارے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ برا سمجھنا تو دور کی بات ہے ان کے مال ودولت کی وجہ سے ان کی خوشامد کی جاتی ہے ان کے ساتھ تعلقات بنانے پر فخر کیا جاتا ہے ! آپ کے ارد گرد کتنے ایسے لوگ رہتے ہیں جن کے بارے میں آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ بندہ رشوت خور ہے اس نے رشوت کی کمائی سے اتنا بڑا گھر بنایا ہوا ہے لیکن آپ نے یہ کبھی بھی نہیں دیکھا ہوگا کہ کسی کے بچے کی شادی ہے اور وہ اسے دعوت نہ دے اور سب سے ببانگ دہل کہے کہ میں رشوت خور اور چور کو ایک جیسا سمجھتا ہوں اس لیے میں نے اس کا سوشل بائیکاٹ کر رکھا ہے ! بات شادی ہال سے شروع ہوئی تھی کہ یہ ہمارے ہماشرے کی ایک انتہائی اہم ضرورت بن گیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا وہی معاشرتی رویہ ہے جس کے حوالے سے اس کالم میں بات کی جارہی ہے۔پہلے شادی ہالوں کے کرایے بھی کم تھے اب ایک عام سے شادی ہال کا ایک رات کاکرایہ ستر ہزار روپیہ ہے اس کے ساتھ تیس ہزار روپے سٹیج کی سجاوٹ کے نام پر لیے جاتے ہیں۔ آج کل سردی کا موسم ہے اس لیے اچھے شادی ہال میں ہیٹر کا کرایہ پچیس ہزار روپے ہے یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے ہمارے معاشرے کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ مائنڈ سیٹ کیا ہے ؟ صاحب حیثیت ہونے یا نظر آنے کی خواہش! ہم نے عزت کو دولت کے ساتھ مشروط کردیا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی دل سے عزت نہیں کی جاتی ایک چھوٹے سے گریڈ کے کروڑوں کے مالک پٹواری کو اس معاشرے میںجو عزت ملتی ہے اس کا حال سب کو معلوم ہے لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ اس کو مصنوعی عزت بھی نہ دی جاتی اس کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہ کیا جاتا۔ یہ ذہن میں رہے کہ ہم نے پٹواری کو ایک علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جہاں جہاں جو کوئی بھی جس شعبے میں ہے لیکن اپنی تنخواہ کے علاوہ ناجائز ذرائع سے حرام کی دولت کا مالک بنا ہوا ہے اس کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے !لیکن اس کے برعکس ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ کسی پٹواری یا کسٹم کے سپاہی کے ساتھ تعلق جوڑنے یا رشتہ قائم کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا !سیاستدانوں کی کرپشن کے تذکرے ہر جگہ کیے جاتے ہیں جہاں دو چار احباب اکٹھے ہوئے وہاں سیاستدانوں کی غیبت شروع ہوگئی۔ اس کی سابقہ حیثیت اور موجودہ حیثیت کے حوالے سے بات چیت کی جاتی ہے۔ یہ غریبوں کا خون چوس کر آج اس مقام تک پہنچا ہے اپنے حلقے کے سارے فنڈ ہڑپ کرجاتا ہے اگر اس میں دیانت داری کی تھوڑی سی رمق بھی ہوتی تو آج ہماری سڑکوں اور گلیوں کا یہ حال نہیں ہوتا جو گلیاں اس کے دور میں بنی ہیں وہ بھی چند ہفتوں کے بعد توڑ پھوڑ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ لیکن جب ان لوگوں سے مختلف تقریبات میں ملاقات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ عزت ان کی کی جاتی ہے ۔

متعلقہ خبریں