Daily Mashriq

اصل فائدہ کس کا ہے ؟

اصل فائدہ کس کا ہے ؟

تاریخ کے سارے سبق ہم بھلا چکے ہیں اور شاید اپنی ہی بنیاد سے ہم واقف نہیں ۔ اسی لیے تو وہ ہوا جو اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے چوک ، فیض آباد میں ہم نے دیکھا ۔ لیکن کچھ باتیں ، کچھ جذبے ڈی این اے کا حصہ ہوا کرتے ہیں ۔ وہ بظاہر بھول بھی جائیںتو اک ذرا سی تپش کی دیر ہوتی ہے ۔ سب ملمع دھل جاتا ہے اور اصلیت اُبھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ اسی لیے تو ایف سی کے جوان اور پولیس کی وردی پہنے مسلمان سب واپس پلٹ گئے ۔ حکم ماننے کی تربیت ایک حد سے زیادہ اپنا آپ نہ منوا سکی ۔ لیکن ہمارے حکمران یہ دیکھ نہیں سکتے یہ سمجھ بھی نہیں سکتے ۔ وہ جن کا مطمح نظرہی اس قوم کو لوٹنے اور برباد کردینے سے زیادہ کچھ نہ ہو ، وہ بھلا ان باتوں کو کیا سمجھ سکیں گے ۔ اور وہ جو آج اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کررہے ہیں کہ حکمت عملی درست نہ تھی ۔ آپریشن ناکام ہو چکا انہیں کیا پہلے سے اس بات کا علم نہ تھا ۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ اس معاملے میں حکومت ایسا کوئی بھی آپریشن کرکے ، طاقت استعمال کر کے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وہ لوگ جو مسلسل صرف ٹریفک کے دبائو اور رش کے باعث آپریشن کے خواہشمندتھے جنہیں آمدورفت میں مسئلہ تھا اور اس مسئلے کے لیے وہ ’’مولویوں ‘‘ کے خلاف آپریشن چاہتے تھے انہیں میرے جیسے کئی لوگ نے کئی بار کہا کہ یہ معاملہ صرف ’’مولویوں ‘‘ کی حد تک محدود نہیں ۔ یہ ہماری اساس ہے ۔ ہماری مسلمانی کی بنیاد ہے ۔ نبی حضر ت محمد ؐ سے محبت اور وہ بھی اس حدتک کہ وہ ہمیں ہمارے جان مال ، ہماری اولاد ، ہمارے ماں باپ سب سے زیادہ عزیز نہ ہو جائیں اس وقت تک ہمارا دین مکمل نہیں ہوتا لیکن اب ہم لوگ ماڈرن ہو چکے ہیں ، نام کی مسلمانی ہی ہمارے لیے کافی ہے ۔ ہم ایک ایسے مذہب کے ماننے والے ہیں جس کی تعلیم کا آغاز ہی پڑھنے کے حکم سے ہوا تھا لیکن ہم علم سے کوسوں دور ہیں اپنی لاعلمی کی جاہلیت سے خوش ،بند آنکھوں سے سارے فیصلے کیا کرتے ہیں ۔ یہ جو آج ’’مولوی ‘‘ کہلاتے ہیں ، انہوں نے ہماری جہالت کے باوجود ہماری بنیاد کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ ہم ان کی بات ،ان کی سوچ سے بے شک اختلاف رکھیں لیکن اپنی بنیاد سے اختلاف کیسے رکھ سکتے ہیں ۔ وہ تمغے جو حکومت اپنے سینے پر سجانے کے لیے بیتاب تھی ۔ جو کہتی تھی کہ 2002سے معاملہ بالکل خاموش تھا اور اس نے اسے زندہ کردیا ، اس کے جھوٹ سنتے سنتے ، کئی بار لگتا ہے کان پکنے لگے ہیں ۔ وہ تو اپنی سی کر چکے تھے کہ 7بی اور7سی کو ختم ہی کر ڈالتے اگر یہ لوگ آکر فیض آباد پر دھرنا دے کر بیٹھ نہ جاتے۔ ہم انکے طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں پھر سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ان کی بات سنتی اگر انہوں نے اس طرح لوگوں کے معمول میں خلل نہ پیدا کیا ہوتا ۔ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کو اس بات میں ملکہ حاصل ہے کہ وہ کسی بھی معاملے کو مسئلہ بناسکتے ہیں ۔ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ زاہد حامد کی وزارت کو اس قدر مقدس قرار دیئے جانے کی کیا وجوہات تھیں ۔ کیونکہ اس معاملے میں توکئی جانب سے لوگ مریم نواز کا نام بھی لے رہے ہیں ۔ اگر تو واقعی مریم نواز کو بچانا مقصود ہوتا تو زاہد حامد کی قربانی دے دی جاتی ۔ سمجھ نہیں آتا کہ آخر کیا کیا جارہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کی اصل وجوہات کیا ہیں ؟ صرف حکومتی بد نظمی اور بد انتظامی ہے یا اسکے پس منظر میں اور بھی عوامل کار فرما ہیں۔ سو چیں تو ہزاروں سوالات جنم لیتے ہیں ۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ حکومت کو معلوم ہی نہ ہو کہ تو ہین رسالت ؐ کے حوالے سے قوانین کا معاملہ کس قدر شدت اختیار کر سکتا ہے ۔ نہ ہی انہیں کسی اور نے اس حوالے سے کوئی بات سمجھانے کی کوشش کی ہو ۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ حکومت میں سے کسی کو یہ احساس نہ ہو ا ہو کہ وہ اگر ان مظاہرین کو زور زبردستی ہٹانے کی کوشش کرینگے تو معاملات کس حد تک بڑھ سکتے ہیں اور یہ معاملہ پورے ملک میں کس طرح کے حالات کو جنم دے سکتا ہے ۔ میں مان نہیں سکتی کہ بظاہر سمجھدار دکھائی دینے والے وزیر داخلہ واقعی یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ دو گھنٹے میں ساری جگہ کلیئر کر والیں گے ۔ جبکہ وہ خود ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو اس معاملے سے وابستہ مسلمانوں کے جذبو ں کی شدت سے بخوبی واقف ہیں یا شاید انہیں مسلم لیگ (ن) کا حصہ بنے ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے جس کے باعث وہ درست طور پر معاملات کی شدت کا اندازہ نہیں کر سکے ۔ یہ ساری صورتحال جو اس وقت ملک میں دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ حکومت کی کوتاہ اندیشی کا ثبوت ہے یا کسی اور بات کا جو ابھی تک پورے طور ہم پرواضح نہیں ہو سکی لیکن اتنا ضرور ہے کہ معاملات میں سلجھائو کی صورتحال کا تعین کرنا اور اسکی راہ تلاش کرنا بہت ضروری ہے ۔ اگر حکومت یہ نہ کر سکے تو اس میں حکومت ذمہ داربھی ہوگی اور اس کا نقصان ملک کو اٹھانا پڑے گا ۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ اس صورتحال کا فائدہ کس کو ہونے والا ہے ۔ ذرا غور سے دیکھیں تو ہمارے ملک کے اس اندرونی خلفشار کا فائدہ بہت دور تک ملکوں کو ہورہا ہے ۔ ہم نے تو صرف بھارت پر نظریں جما رکھی ہیں ۔ جبکہ ہمارے اصل دشمن اس وقت ہم پر مسکرا رہے ہیں ۔ توہین رسالت ؐ کے حوالے سے ان قوانین کو صرف نظر کیا جاتا تو بھی ان کافائدہ تھا اور اب ملک میں بد نظمی ہے تو بھی ان کا ہی فائدہ ہے ۔ 

متعلقہ خبریں