Daily Mashriq

چین کے ’’سب کی جیت کا نعرہ‘‘؟

چین کے ’’سب کی جیت کا نعرہ‘‘؟

چین کے ون روڈ، ون بیلٹ منصوبے کو اس وقت ایک چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستان اور نیپال نے چین کے ساتھ ڈیم بنانے کے دومنصوبوں سے انکار کردیا۔ پاکستان اور نیپال کی جانب سے چین کے ان دو منصوبوں سے پیچھے ہٹنے سے چین کے ’سب کی جیت‘ کے نعرے کی نفی ہوتی ہے جس کا مطلب چینی سرمایہ کاری کے تحت ون روڈ، ون بیلٹ میں شامل ہونے والے ہر ملک کو مالی فوائد ملنا ہے۔ چین کے اس نعرے پر تنقید کرنے والوںکا ماننا ہے کہ دیگر کسی بھی ملک کے مقابلے میں چین ان منصوبوں سے دو گنا زیادہ فوائد حاصل کررہا ہے جبکہ دوسرے ملک کو ملنے والے معاشی فوائد اتنے نہیں ہیں۔ یہی وہ نعرہ ہے جس کے تحت چین پاکستان کے زرعی شعبے کا انتظام سنبھالنے کے علاوہ سنگِ سلیمانی، گرینائٹ اور بلیک گولڈ ماربل جیسے دھاتیں نکالنے کے ٹھیکے بھی لے رہا ہے۔پاکستان اور نیپال نے پچھلے ہفتے دو مختلف اعلامیوں میں ان ڈیموں کی تعمیر سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے ۔ واٹر اینڈ پاور اتھارٹی پاکستان کے چیئرمین مزمل حسین کا کہنا تھا کہ ’’ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے چینی سرمایہ کاری کی شرائط قابلِ عمل ہیں اور نہ ہی ہمارے مفاد میںہیں‘‘۔ اس کے علاوہ گلگت ۔بلتستان میں کشمیر کے متنازعہ علاقے کے قریب ہی دریائے سندھ پر14 ارب ڈالر کی لاگت سے بنائے جانے والے4500 میگاواٹ ڈیم کے منصوبے پر بھی چین اور پاکستان کے درمیان اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان کے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے چینی سرمایہ کاری نہ لینے کے اعلان سے دو دن پہلے نیپال کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ توانائی کمال تھاپا نے چین کے گیزوبا گروپ کے ساتھ دریائے بدھی گنداکی پر بنائے جانے والے 2.5 ارب ڈالر کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان کے بعد بھارت کی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کمپنی نیپال کے مذکورہ منصوبے کا معاہدہ حاصل کرنے کے لئے پَر تول رہی ہے جس کے لئے اس ماہ ہونے والے انتخابات کے نتائج کا انتظار کیا جارہا ہے تاکہ نیپالی کانگریس اقتدار میں آکر بھارت کو اس معاہدے سے نواز سکے۔ چین کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے اور بھارت کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے جنوبی ایشیاء میں اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کے کھیل کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ون روڈ، ون بیلٹ منصوبے کے اہم جزو سی پیک کے پیکج میں بلوچستان کے علاقے گوادر تک انفراسٹرکچر کی تعمیر اور گوادر کو چین سے ملانے کے ساتھ ساتھ توانائی، ٹیلی کمیونکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر منصوبوں کے علاوہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ دیا میر بھاشا ڈیم کے منصوبے میں پاکستان کا چین سے سرمایہ لینے سے انکار اس لئے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ ورلڈ بنک اور ایشیئن ڈیویلپمنٹ بنک جیسے عالمی مالیاتی اداروں سے متنازعہ علاقے کے قریب ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے انکار کے بعد اس منصوبے کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا تھا۔ دوسری جانب اگر اس منصوبے کے آغاز کی بات کی جائے تو پچھلے 15 سالوں میں پانچ دفعہ اس منصوبے کا افتتاح کیا جاچکا ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث ابھی تک اس منصوبے کی تعمیر کا آغاز نہیں کیا جاسکا۔ چین سے سرمایہ کاری نہ لینے کے اعلان کے موقع پر واپڈا کے چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے ایک پانچ سالہ فنڈنگ پلان پر عمل کیا جارہا ہے جس کے ذریعے سال 2026ء میں اس منصوبے کو مکمل کرلیا جائے گا۔کچھ چینی ماہرین کی رائے میں پاکستا ن اور نیپال کی جانب سے ان منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری سے انکار سے بین الاقوامی سطح پر ایک نئے رجحان کا آغاز ہو سکتا ہے کیونکہ چین جنوبی ایشیاء کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں ایسے کئی بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میںبھی چین کو نہ صرف سرمایہ کاری کی شرائط کے حوالے سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ان منصوبوں سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کی تقسیم بھی وجہ تنازعہ ہوسکتی ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان سے خام سنگِ مرمر کی چین منتقلی اور پھر چین سے سیمی پراسیسڈ سنگِ مر مر کی ایکسپورٹ پاکستان کی سنگِ مرمر انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ پاکستان کی ماربل انڈسٹری لیک ہونے والے اُس چینی استعماری پلان کی ایک جھلک دیکھ رہی ہے جس کے تحت سی پیک کے منصوبے نہ صرف پاکستان کی معیشت پر قابض ہونے کا ایک طریقہ ہیں بلکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کا منظر نامہ بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔چین کی اسی حکمتِ عملی کی وجہ سے چین کو سری لنکا، میانمار اور بلوچستان سمیت دنیا کے بہت ممالک اور خطوں میں مزاحمت کا سامنا ہے۔سی پیک کے منصوبوں کے تحت پاکستان کو ایک خام مال فراہم کرنے والاملک بنانے کی کوشش کی جائے گی جو کسی بھی ملک کی انڈسٹری کے زوال کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔اس لحاظ سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری سب سے زیادہ نقصان میں رہے گی جہاں سے خام کپڑا اور کاٹن لے کر اسی کپڑے کو دگنی قیمت پر واپس پاکستان میں بیچاجائے گا۔ پاکستان اور نیپال کی جانب سے ڈیموں کی تعمیر کے لئے چین کی سرمایہ کاری سے انکار سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ چین جنوبی ایشیاء میں اپنے معاشی مقاصد بھی اس وقت حاصل نہیں کرسکتا جب تک وہ ’سب کی جیت‘ کے نعرے پر اس کی روح کی مطابق عمل نہیں کرتا۔ (ترجمہ: اکرام الاحد) 

متعلقہ خبریں