Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

جنگ یرموک میں رومیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ تھی۔ میدان جنگ میں ایک خیمے کے اندر خواتین ٹھہری ہوئی تھیں‘ ان کی ذمہ داریوں میں زخمیوں کی تیمارداری اورمرہم پٹی‘ ان کو پانی پلانا‘ شہیدوں کی قبریں کھودنا اور ان کے کفن کا انتظام کرنا شامل تھا۔مجاہدین اسلام میدان جنگ میں لڑ رہے تھے۔ رومی مسلمان خواتین کو اپنے خیمے میں تنہا پاکر ان کے خیمے پر حملہ آور ہوئے اور چاروں طرف سے ان کے خیمے کو گھیر لیا۔اس اچانک حملے سے خواتین بے حد پریشان ہوئیں‘ اس صوتحال سے نمٹنے کے لئے وہ حضرت خولہؓ کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ اب کیا کریں؟ ہمارے پاس نہ تو ہتھیار ہیں کہ ان بزدلوں کا مقابلہ کریں اور نہ ہی زہر جس کو کھا کر مرجائیں اور اپنی عزت بچائیں۔حضرت خولہؓ نے ان کی ہمت بندھائی اور کہا ’’ بہنو! خدا پر بھروسہ رکھو‘ وہی ہماری مدد کرے گا۔ ہمت سے کام لو اور جان لو اسلام میں خودکشی حرام ہے‘ حرام موت کا تصور اپنے ذہنوں سے نکال دو۔ ہمارے پاس ہتھیار نہیں ہیں تو کیا ہوا‘ ان خیموں کے کھونٹے نکال لو اور دشمنوں پر حملہ کردو۔ انجام اس پر چھوڑ دو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔‘‘خواتین نے اس تجویز کو پسند کیا اور خیموں کے کھونٹے نکال کر رومی فوج پر حملہ آور ہوگئیں۔ حضرت خولہؓ بھی نہایت ہمت اور شجاعت کے ساتھ رومی فوج کے حملوں کو روکتی رہیں۔ حملے اور ان کا ہر وار دشمنوں کے لئے خدا کا عذاب ثابت ہو رہا تھا۔ ذرا سی دیر میں تیس رومی فوجی خاک و خون میں ہلاک ہوچکے تھے۔ یہ دیکھ کر باقی رومی فوجیوں کے اوسان خطا ہوگئے اور انہوں نے گھیرا اور تنگ کردیا۔حضرت خولہؓ یہ دیکھ کر حق تعالیٰ سے سامنے سربسجود ہو کر یہ دعا کرتی ہیں: ’’ اے پروردگار ہماری حفاظت کر‘ ہم مظلوم ہیں‘ کمزور ہیں اور تو طاقت والا ہے‘ تیرے قبضے میں اور اختیار میں ہر چیز ہے‘ ہمیں ان کافروں سے بچا اور اپنی حفاظت میں رکھ۔‘‘حضرت خولہؓ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہی ایک سمت سے نعرہ تکبیر کا شور سنائی دیتا ہے‘ جب آپؓ سجدے سے سر اٹھاتی ہیں تو حضرت خالد بن ولیدؓ اور مجاہدین نے پوری شدت سے رومیوں پر حملہ کیا۔ دشمنوں کے لئے مجاہدین کے وار سے بچنا مشکل ہوگیا۔ رومیوں نے منظر دیکھا تو وہاں سے بھاگنے میں اپنی عافیت سمجھی اور مسلمانوں کو جنگ یرموک میں فتح نصیب ہوئی۔قرون اولیٰ کے واقعات میںجہاں صحابہؓ کے کارنامے پڑھنے کو ملتے ہیں وہاں صحابیات نے اپنے کردار و عمل سے ایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جس کی مثال بہت کم ملتی ہے ۔ میدان عمل میں ان خواتین کے کارنامے پڑھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ قرون اولیٰ مسلمان خواتین بھی بہادر ی اور دلیری میں کسی سے کم نہیں تھیں اپنے اسلام کے کارناموں کو بار بار پڑھنا چاہیئے کہ ان جیسا جذبہ ہم میں بھی پیدا ہو ۔ اور حالات سے گھبرانے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کریں ۔ جیسی بھی مشکلات و مصائب ہوں مایوس ہونے کی بجائے اللہ کی ذات پر بھروسہ ہی ان سے نجات دلا سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں