Daily Mashriq


وزیراعظم کا خودمختار پالیسی کے عزم کا اعادہ

وزیراعظم کا خودمختار پالیسی کے عزم کا اعادہ

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر دوسروں کی مسلط کردہ جنگ لڑ کر بھاری قیمت چکائی تاہم اب ہم ملک کے اندر کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ میران شاہ میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور افواج نے دہشت گردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں دیں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج سے زیادہ کسی دوسری فوج نے کامیابیاں حاصل نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسروں کی مسلط کردہ جنگ اپنے ملک میں اپنے خون، پسینے اور اقتصادی نقصان کی صورت میں بھاری قیمت چکا کر لڑی، تاہم آئندہ پاکستان کے اندر کبھی ایسی جنگ نہیں لڑیں گے۔ وزیر اعظم نے دہشت گردی کے مشکل دور کا بہادری سے سامنا کرنے پر قبائلی علاقے کے لوگوں کو سراہا اور دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز پر پاک فوج، دیگر سیکورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے دورے کے دوران سیکورٹی صورتحال، استحکام کیلئے جاری آپریشنز، سماجی اور اقتصادی منصوبوں اور ٹی ڈی پیز کی بحالی پر بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم نے غلام خان ٹرمنل کا دورہ اور سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کا معائنہ بھی کیا۔ خیال رہے کہ عمران خان کا بطور وزیراعظم شمالی وزیرستان کا یہ پہلا دورہ ہے، اس دورے کے دوران وزیردفاع پرویز خٹک، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم عمران خان قبل ازیں بھی ایک قومی تقریب میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کو دوسروں کی جنگ قرار دیکر آئندہ اس سے احتراز کا کہہ چکے ہیں اس مرتبہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے اور دہشتگردوں کے سابق مقبوضہ علاقے میں کھڑے ہو کر اس امر کا اعادہ کیا۔ اصولی طور پر اور بطور پالیسی وزیراعظم کے اس اعلان اور عزم سے اختلاف ممکن نہیں اور یہی پالیسی موزوں ہوگی لیکن وزیراعظم کے ابتک ہونے والی جدوجہد کو پرانی جنگ قرار دینے سے ان قربانیوں کے حوالے سے سوال اٹھنا فطری امر ہوگا جو انمول اور ناقابل یقین حد تک کی حقیقتیں ہیں۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ امریکہ کی شروع کردہ تھی مگر جب اس جنگ کو سرحدپار دھکیلا گیا تو ہمارا ملک بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اور سترہزار جانوں کی قربانیاں اور اربوں روپے کا نقصان کرنے کے بعد ہی کہیں ہم سرخرو ہو پائے۔ اس کے اثرات سے ہمارے معاشرے اور معیشت کو نکلنے میں ابھی خاصا وقت لگے گا بہرحال وزیراعظم نے یکے بعددیگر ے دنیا کو جو پیغام دیا ہے اس کا قومی تقاضا ہونے میں شک نہیں۔ بلاشبہ ہمیں اپنے ملک کے مفاد کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور یہی قومی خودمختاری اور مفاد کا تقاضا بھی ہے۔ وزیراعظم نے قبائلی ضلع کے اپنے پہلے دورے میں قبائلی اضلاع میں صحت، تعلیم، روزگار اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات وبہتری کا جو یقین دلایا ہے اس طرح کے اقدامات کی قبائلی اضلاع میں عملی طور پر سامنے آنے سے ہی قبائلی عوام کو صوبے میں انضمام اور تبدیلی کا احساس ہوگا۔ اس مقصد کیلئے حکومت کو بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کیلئے جن وسائل کی ضرورت ہوگی وزیراعظم کو ان کا بھی خصوصی بندوبست کرنا ہوگا۔ مالی وسائل کی فراہمی اور عملی اقدامات کے بغیر قبائلی اضلاع کا قومی دھارے میں آنا نہ آنا یکساں تھا۔ یہاں کے عوام پہلے ہی سے پسماندگی کا شکار تھے، دہشتگردی کیخلاف جنگ سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی جس سے صرف وہ گھربار سے ہی محروم نہ ہوئے بلکہ ان کو اپنے کاروبار اور روزگار سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ میرانشاہ میں روزنہ اربوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا اسی طرح دیگر علاقوں میں بھی کاروبار ہی اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش تھا۔ ہم سمجھتے ہیں حکومت کو لازم ہے کہ وہ شہری سہولتوں کیساتھ ساتھ ترجیہی بنیادوں پر قبائلی نوجوانوں اور عام افراد کے کاروبار اور روزگار کی بحالی اور ترقی پر توجہ دے اور نوجوانوں کی فنی تعلیم وتربیت اور ان کو اندرون ملک وبیرون ملک روزگار کے مواقع میں ترجیح دے تاکہ وہ جس مشکل دور سے گزر کر آچکے ہیں اس کا کسی حد تک ازالہ ہو۔ وزیراعظم کی جانب سے میران شاہ میں یونیورسٹی اور کیڈٹ کالج کے قیام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں قبائلی نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا اعلان خوش آئند ہے لیکن اس پر عملدرآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ فاٹا میں اگر خواتین کی حالت زار کا جائزہ لیا جائے تو فاٹا کی خواتین نہ صرف مردوں سے بہت پیچھے ہیں بلکہ ان کو سرے سے کوئی حقوق حاصل معلوم نہیں ہوتے۔ قبائلی اضلاع میں ترقی وتبدیلی کیلئے فاٹا کے خواتین کو بھی اسی طرح قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے جتنا وہاں کے مردوں کو مواقع دینے کی جدوجہد ہو رہی ہے۔ قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے عزائم اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں قبائلی اضلاع کیلئے چوبیس ارب روپے کی تجویز تھی جبکہ گزشتہ حکومت نے انضمام کیساتھ فوری طور پر سوارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا اگر موجودہ حکومت اور بجٹ نہیں دے سکتی تو اعلان شدہ رقم ہی دے دی جائے تو قبائلی علاقوں میں نظر آنے والی تبدیلی کا آغاز ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں