Daily Mashriq


عوام آخر کتنی قربانی دیں؟

عوام آخر کتنی قربانی دیں؟

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تجویز پیش کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو موبائل فون کے پری پیڈ کارڈز پر دوبارہ ٹیکس لگا کرڈیم کیلئے پیسے جمع کیے جائیں گے،ساتھ ہی انہوں نے قوم سے اس حوالے سے رائے بھی طلب کرلی۔چیف جسٹس جس اہم ملکی ضرورت کیلئے کوشاں ہیں اس سے توانکار نہیں لیکن جو بیس لاکھ مقدمات عدالتوں میں فیصلہ کے منتظر پڑے ہیں وہ بھی کچھ کم مسائل نہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو بیرون ملک مقیم پاکستانی بالخصوص اور پاکستان بھر کے عوام بالعموم قرض اُتارو ملک سنوارو سے لیکر دیگر حکومتی اپیلوں کا مثبت جواب دیتے رہے ہیں۔ مختلف سطحوں پر عوام کی جانب سے رفاہی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنا کوئی راز کی بات نہیں لیکن بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے کہ عوام کا اب حکومتی سطح پر ہونے والے اقدامات سے اعتماداٹھ چکا ہے اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ چیف جسٹس کی سبکدوشی کے بعد ان کی مہم جاری رکھی جائے گی اورعوام کا پیسہ محفوظ ہوگا۔ جہاں تک موبائل پر کارڈ ٹیکس عائد کرنے کی بات ہے اگر ایک خاص آمدنی کاحامل طبقہ ہی موبائل استعمال کررہا ہوتا تو اس کی حمایت کی جاسکتی تھی ایک دیہاڑی دار مزدور جو بمشکل اپنے اہل خاندان کی کفالت کرتا ہو اور نوبت فاقوں تک بھی آجاتی ہو،نیزجہاں بجلی سرے سے موجود ہی نہ ہو ایسے لوگوں سے کس طرح کارڈ پر ٹیکس لیا جائے۔ عوام تو بجلی بلوں کیساتھ پہلے ہی نیلم جہلم سرچارج دے رہے ہیں، ٹیلی ویژن فیس کے نام پر رقم وصول کی جارہی ہے۔ اب ایک اور ٹیکس کی تجویز حیران کن ہے۔ چیف جسٹس سوروپے کا کارڈ لوڈ کرکے دو تین ماہ چلانے والے صارفین کو تو معاف رکھیں البتہ پوسٹ پیڈ صارفین سے ٹیکس وصولی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ عوام پہلے ہی گیس، بجلی بلوں، ٹیلیفون اور ڈی ایس ایل کے بلوں پر قسم قسم کے ٹیکس اور سرچارجز ادا کر رہے ہیں اور روزبروز مہنگی ہوتی بجلی وگیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ عوام حکومت سے ریلیف کے منتظر ہیں مزید بوجھ کے نہیں ۔ حکومت اور عدالت ملک کی لوٹی ہوئی جو دولت واپس لانے کی جدوجہد میں ہیں اس پر توجہ دی جائے اور وصول شدہ رقم ڈیم فنڈ میں دی جائے ۔

وزیراعلیٰ دبائو کو خاطر میں نہ لائیں

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی طرف سے وفاقی وزراء کے رشتہ داروں کو خیبر پختونخوا کابینہ میں شامل نہ کرنے کے فیصلے پر کئی وفاقی وزراء کے تحفظ کا اظہار اس امر پردال ہے کہ پی ٹی آئی ایک موروثی سیاسی جماعت میں تبدیل ہورہی ہے جو نیک شگون نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا بینہ میں توسیع وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی صوابدید ہے اور وہ وزیراعظم کے مشاورت کے بعد جن کا نام تجویز کریں وفاقی وزراء کو اس پر معترض ہونے کی گنجائش نہیں۔ تحریک انصاف کی کامیابی میں کارکنوں کا کردار کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ بنابریں کابینہ میں توسیع اور نئے ناموں پر کارکنوں کی جانب سے قیادت پر دبائو ڈالنا اور قیادت کی جانب سے ان کی رائے کا احترام کرنے کی گنجائش تو موجود ہے لیکن کسی وفاقی وزیر کو ہر گز یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود مرکز میں وزیر بنے اور اعزہ کیلئے صوبائی کا بینہ میں نشست مختص کروائے۔ یہ تحریک انصاف کے منشورکی خلاف ورزی اور حقداروں کی حق تلفی ہوگی اور عوام میں اس کا مثبت اثر نہیں لیا جائے گا۔ صوبائی کابینہ کی توسیع آزادانہ اور خدمات و اہلیت کو مد نظر رکھ کر ارکان شامل کئے جائیں نہ کہ دبائو میں فیصلہ کیا جائے۔

ایس ایچ او کی معطلی کافی نہیں

یکہ توت کے ایس ایچ او اور ان کے محافظ پر ایک شہری کے ماورائے عدالت قتل پر مقدمے کا اندراج کافی نہیں۔ پولیس جس طرح ایک عام شخص کیخلاف مقدمہ درج ہوتے ہی اسے گرفتار کرتی ہے اس معاملے میں ایسا کیوں نہ کیا گیا؟ کیا یہ دوہرے معیار اور قول وفعل کا تضاد نہیں۔حالات وواقعات اس امر پر دال ہیں کہ زیر معطل ایس ایچ او عادی متشدد اور قانون شکن ہیں جنہیں اس سے قبل بھی دو دفعہ شہریوں پر تشدد اوراس قسم کے دیگر واقعات میں سنگین الزامات عائد ہونے پر معطل کیاگیاتھا جبکہ گزشتہ دنوں بھی انہوں نے بیرون یکہ توت کے رہائشی نوجوان کے پائوں کی ہڈی توڑ دی تھی جبکہ ہفتہ قبل مقامی کباب فروش کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔اندریں صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام عوامی احتجاج پر نمائشی کارروائی کرنے سے بڑھ کر قدم اٹھائیں اور قانون کے تقاضے پورے کریں۔

متعلقہ خبریں