Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کیلا، دلہنیا

طبی ماہرین مختلف تکالیف میں کیلا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں مگر بابائے مشرقیات کا مشورہ ہے کہ کبھی بھی کیلا نہیں کھانا چاہیے کہ ایسا کریں تو آج کل کے بچے بھی کیلا کیلا کا شور کرتے ہیں۔ زیادہ مہذب بچے ہوں تو کیلے کی بجائے Bananaکا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ کیلا چونکہ ہر وقت دستیاب پھل ہے اس لئے اسے کھائے بغیر بھی گزارہ نہیں، یہ پوٹاشیم اور فائبر سے بھرپور پھل ہے جس کے چھلکوں کو رقیبوں کو پھسلانے کیلئے ہی استعمال نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے باریک کتر کر اگر گملوں میں ایک انچ مٹی میں دبا دیں تو پودوں کی نشوونما اچھی ہو۔ ثابت ہوا کہ کیلا بذات خود فرحت بخش پھل ہے۔ جب بھی پارلیمان کی کارروائی دیکھیں تو ممبران کو کیلا کھاتے ہوئے دیکھیں گے حالانکہ ایوان میں وزیر خزانہ کو بجٹ پیش کرتے ہوئے پانی پینے کی اجازت ہے اس کے علاوہ کھانا پینا قطعاً ممنوع ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ یہاں کھاتے پیتے لوگ ہی آتے ہیں اگر کوئی لاغر بھی آئے تو جلد کھاتا پیتا بن جاتا ہے۔ دیکھتے نہیں پانامہ سے اقامہ، ایان علی سے ڈاکٹر عاصم اور وہ جو بلوچستان میں سرکاری افسر کے گھر سے پورا خزانہ برآمد ہوا تھا مشکل یہ ہے کہ چور چور کی آوازیں لگتی ہیں مگر چوری سبھی نے کی ہوتی ہے اس لئے جب بھی اس قسم کی آوازیں ایوان میں سنائی دیں تو سمجھ لینا کہ یہ سارے ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان آوازوں کی عمدہ مثال کسی جگہ چوری کرنے والے شخص کے اپنے ساتھیوں کی جانب سے چور چور کی آوازیں دے کر چور کو پتلی گلی سے نکلنے کا موقع دینا ہوتا ہے۔ حددرجہ معذرت ان معزز ایماندار ارکان اسمبلی سے جن کا دامن صاف ہے مگر کیا کریں وہ ایسے تالاب کے اندر ہیں جہاں ایک مچھلی گندا نہیں بلکہ ایک آدھ مچھلی صاف باقی سب گندے ہیں۔ گند تو بھارتی دماغوں میں بھی کم نہیں کہ بھارت نے باریش طالب علموں کو بھارتی سنگ میل کیساتھ ٹیک لگا کر تصویر کھینچنے پر ان پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا۔ تصویر میں دہلی 360کلومیٹر لکھا گیا ہے طالب علموں کا دل تو للچایا ہوگا کہ وہ یہ تین سو ساٹھ میل بھاگ کر طے کریں اور دہلی کو قدموں تلے لائیں جس طرح درہ خیبر سے آنے والے قافلے وہاں پڑائو ڈالا کرتے تھے۔ چھوڑیں جی یہ کیا شدت پسندی کی باتیںلے کر بیٹھ گئے وہاں تو پریانکا چوپڑا کو اتنے بڑے ہندوستان میں کوئی مرد نہیں ملا کہ فرنگی نک جونز سے بیاہ رچا لیا۔ ہمارے نوجوانوں کو دیکھو کوئی دن نہیں گزرتاکہ امریکہ سے گوریا اس طرح دبوچتی ہیں کہ وہ خود بخود کچھار آجاتی ہیں بس تھوڑی سی عمر میں زیادہ ہونے پر لوگ دولہے کو پپو آنٹی کی گود میں کی پھبتی کستے ہیں حالانکہ اس سے کوئی فرق پڑتانہیں کہ آخر دلہا دلہا ہی ہوتا ہے اور دلہن دلہن۔ دل والے ہی دلہنیا لے آتے ہیں اب جدید دور ہے دلہنیاخود چل کر آنے لگی ہیں آکر سر بھی رکھ دیتی ہے قدموں میں۔

متعلقہ خبریں