Daily Mashriq


ممبئی واردات کے حوالے سے امریکہ کا انعام کااعلان

ممبئی واردات کے حوالے سے امریکہ کا انعام کااعلان

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دس سال پہلے ممبئی میں 26نومبر کی دہشت گردی میں ملوث کسی بھی فرد کی گرفتاری یا سزا یابی پر منتج ہونے والی اطلاع دینے کیلئے پچاس لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ تیسرا ایسا اعلان ہے۔ اپریل 2012ء میںامریکہ کے دفتر خارجہ نے ایسا ہی اعلان لشکر طیبہ کے حافظ سعید اور حافظ عبدالرحمان مکی کو انصاف کے کٹہرے تک لانے والی اطلاع دینے والے کیلئے کیا تھا۔ دسمبر 2001ء میں امریکی دفتر خارجہ نے لشکر طیبہ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور مئی 2005ء میں اقوام متحدہ نے اس تنظیم کو سیکورٹی کونسل کی پابندیوں کی مربوط فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی دفتر خارجہ کے حالیہ بیان میںکہا گیا ہے کہ ہم پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام ملکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم کے ذمہ دار لشکر طیبہ اور اس کے وابستگان کے حوالے سے دہشت گردوں کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد کرنے کی ذمہ داری نبھائیں۔دس سال پہلے 26نومبر کو بھارت کے بڑے شہر ممبئی میں دہشت گردی کی ایک بہیمانہ واردات ہوئی تھی جس میں دہشت گردوں نے ریلوے سٹیشن پر اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک سو سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ یہ تاریخ اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ انہی دنوں نئی دلی میں پاک بھارت جامع مذاکرات کے سلسلے کے آخری مذاکرات ہونے والے تھے۔ ایجنڈے میں تنازع کشمیر شامل تھا۔ جامع مذاکرات ایک عرصے پر محیط سفارتی کوشش تھی جس میں پاک بھارت تنازعات کو ایک ایک کر کے طے کرنا مقصود تھا۔ اس سے پہلے اعتماد سازی کے اقدامات کیے گئے تھے۔ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان تجارتی راستے کھولے گئے تھے۔ پانیوں کے بارے میںمذاکرات ہوئے تھے۔ سرکریک کے بارے میں بھی مذاکرات ہو چکے تھے۔ یہ مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ 26نومبر کو جب نئی دلی میں تنازع کشمیر طے کرنے کیلئے اس سلسلے میں آخری مذاکرات ہونے والے تھے کہ اچانک یہ واردات ہو گئی۔ دہشت گردوں اور بھارتی سیکورٹی فورسز کے درمیان کئی دن تک مقابلہ ہوتا رہا ۔لیکن جونہی یہ واردات ہوئی بھارت کے میڈیا اور بعض سرکاری اہل کاروں نے پاکستان پر اس کا الزام لگا دیا۔ اس وقت تک کسی کو پتہ نہیں تھا کہ دہشت گرد کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی کو پتہ نہیں تھا کہ دہشت گرد کون ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے تو بھارت نے فوری طور پر تنازع کشمیر پر ہونے والے فائنل مذاکرات ختم کیوںکر دئیے؟ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اگلے ہی روز پاکستان آئیں (ابھی بھارتی فورسز اور دہشتگردوںکے درمیان لڑائی جاری تھی) ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کو پاکستان کیخلاف اقدام سے روکا ہے اور یہ کارروائی پاکستان ہی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ابھی واردات جاری تھی تو وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی ہے؟ایک دہشتگرد زخمی حالت میں گرفتار ہوا اس کا نام اجمل قصاب بتایا گیا اور کہا گیا کہ وہ لاہور کے قریب ایک گاؤں کا رہائشی تھا۔ وہ لاہور کے فلمی دفاتر کے علاقے میں تیل مالش کی مزدوری کرتا تھا اس کا والد غالباً پکوڑے بیچتا تھا۔ بھارتی میڈیا نے اسے قصاب کس طرح قرار دیا یہ معلوم نہیں۔ لیکن حال ہی میں اخبارات میں خبر چھپی ہے کہ وہ جنوبی بھارت کے علاقے کا رہنے والا تھااور اس کے ڈومیسائل کی تصدیق وہاںکے عدالتی اہلکار نے بھی کی ہے۔ کیا اس پر مزید چھان بین ضروری نہیں ہے؟ دیگر پانچ یا چھ دہشت گرد سیکورٹی فورسز کا مقابلہ کرتے رہے۔اجمل قصاب پر ایک سال تک بند کمرے میںمقدمہ چلایا گیا۔ اس کا کوئی بیان عام نہیںکیا گیا۔ اس کے بیانات سے یہ بات کھل سکتی تھی کہ واردات کا منصوبہ کس نے بنایا تھا۔ کس نے اسے بھرتی کیا تھا۔ بھارتی حکومت کا یہ رویہ ناقابلِ فہم ہے۔ اس کو پھانسی دے دی گئی۔بھارتی حکام کے مطابق اس واردات کے بارے میں ایک اور شخص کو بھی کچھ معلومات تھیں جو امریکی سی آئی اے کیلئے کام کرتا رہا اور کسی وجہ سے امریکی جیل میںہے۔ بھارتی عدالت نے اس کے پیش کیے جانے کامطالبہ کیا لیکن امریکہ نے یہ مطالبہ منظور نہیںکیا۔ کیوں؟ دہشت گردوں کے بارے میںکہا گیاکہ وہ ایک چھوٹی کشتی میں سمندر کے راستے ممبئی پہنچے۔ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیں کہ آیا کسی چھوٹی کشتی میں سمندر کے راستے پاکستان سے ممبئی کا سفر آسانی سے طے کیا جا سکتا ہے؟ دہشت گردوں نے ریلوے سٹیشن پر اندھا دھند فائرنگ مسافروں پر کی ‘ ریلوے سٹیشن کی کمپیوٹر تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جہاںکہا جاتا ہے کہ روزانہ ایک سو کے قریب گاڑیاں آتی ہیں۔ اگر وہ ریلوںکی آمدورفت کے نظام کو نشانہ بناتے تو بھارت کا بڑا نقصان ہو جاتا۔ دہشت گردوں نے قریبی اسٹاک ایکسچینج کا رُخ نہیںکیا جس پر حملے سے بڑا نقصان ہو سکتا تھا۔ دہشت گردوں نے قریبی بندرگاہ پر جا کر کسی چھوٹے جہاز پر قبضہ کر کے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔ کیوں؟(یہ کہا گیا ہے کہ سمندر ی سفر کے ذریعے وہ ممبئی آئے تھے ۔) جس عدالت نے اجمل قصاب کو موت کی سزا دی ہے کیا اس نے فیصلہ میں لشکر طیبہ اور اس سے متعلق اکائیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں قابل یقین شواہد کا ذکر کیا؟ جب اتنے سارے سوالات جواب طلب ہیں تو بھارت کو اور امریکہ کو کیسے یقین ہو گیا کہ واردات کا منصوبہ پاکستان میں بنا تھا اور اس میں لشکر طیبہ اور اس سے متعلقین ملوث تھے۔ کیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس واردات کے حوالے سے لشکر طیبہ کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے سے پہلے اس پر یقین کرنے کیلئے کوئی باقاعدہ تحقیقات کیں؟ درج بالا نکات پر غور کرنے سے یہ واردات بھارت کی خانہ جنگی لگتی ہے۔ جس طرح اسکے دس سال بعد بھارتی میڈیا نے اور بھارتی پولیس نے پاکستان کے دو طالبعلموں کی تصویریں شائع کر کے اعلان کیا ہے کہ پاکستان سے یہ دو دہشت گرد بھارت میں داخل ہو نے والے ہیں۔

متعلقہ خبریں