Daily Mashriq


قلم،لفظوںاور کتابوں کے پیچھے پناہ لینا

قلم،لفظوںاور کتابوں کے پیچھے پناہ لینا

ساڑھے چار دہائیاں ہوئی ہیں قلم مزدوری کا آغاز کئے۔ ان ماہ وسال کی باتیں اب یادوں کا حصہ ہیں، روشن یادیں۔ ہمیشہ ان سے رہنمائی لیتاہوں۔ دوسرے طالب علموں کی طرح مجھے صوفی سرمد شہیدؒ اس لئے عزیز ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ہر گزری ساعت بہترین اُستاد ہے‘‘۔ یہاں ساعت بھر کیلئے سانس لے لیجئے۔ مجھے کوئی سنجیدہ موضوع یا تصوف کے مکتب سے موتی نہیں چُننے۔ عصری سیاست پر روز ہی لکھتے ہیں، سماج میں گھٹن اور نفسا نفسی بڑھے یا کم ہو سانس لیں گے اور رہیں گے بھی، مجبوری ہے۔ ہم سے بے نوا زمین زادے سرحد کی دوسری اور کدھر جائیں گے۔ ساڑھے سات صدیوں سے ایک عشرہ کم ہوا، نسل درنسل اسی سرزمین پر رہتے ہوئے۔ ہاکڑا، موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گندھارا تہذیبوں کی جنم بھومی انڈس ویلی میں۔ کبھی یہ انڈس ویلی سندھ کہلاتی تھی۔ باہر کی دنیا ہند اور سندھ نام کی دو ریاستوں سے آگاہ تھی۔ وقت آگے بڑھتا رہا، پھر متحدہ ہندوستان ہوا، مغل ایمپائر بعد کی بات ہے اس سے قبل بھی مسلم سلاطین حکمران ہوئے۔ ان سلاطین کی مملکتوں کے کھنڈرات پر مغل ایمپائر قائم ہوئی اور صدیوں تک اس نے سفر کیا۔ زوال کی بہت ساری وجوہات ہیں سب سے اہم اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت کے اقدامات ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر سے شروع ہوا زوال بہادر شاہ ظفر تک پہنچتے پہنچتے مکمل ہوا۔ پھر ایک دن بر صغیر یا متحدہ ہندوستان تقسیم ہوگیا۔ بھارت اور پاکستان کے نام سے دو ملک معروض وجود میں آئے۔ اس بٹوارے نے لاکھوںزندہ ا نسانوں کو نگل لیا۔ دھول اُڑی، لہو خاک میں ملا، قبرستان وسیع ہوئے۔بٹوارے کے پس منظر اور بٹوارے پر سرحد کے دونوں اور پورا سچ لکھنے کی جرأت کسی میں ہوئی نہ ہو پائی۔ بٹوارے سے بنے دونوں ملکوں میں سرکاری تاریخ پڑھتے کئی نسلیں پروان چڑھیں اور رخصت ہوئیں نفرت، حسد، عدم برداشت، انکار،سچ سے فرار دونوں طرف یہی سودے اکہتر برسوں سے فروخت ہو رہے ہیں۔ دروازے کھل رہے ہیں نفرت کی دوکانوں کے، مال دھڑا دھڑفروخت ہورہا ہے۔ ہمارے جناح صاحب ملائیت زدہ معاشرے اور تھیوکریٹ ریاست کے قائل نہیں تھے۔ وہ سوشل ڈیمو کریٹ ریاست پر یقین رکھتے تھے۔ میرے سامنے ان کی 11اگست 1947 والی تقریر ہے۔ بہت سارے دوست ان کی اسلامی نظام اور تجربہ گاہ والی باتوں سے بھری تقاریر طالب علم کے سامنے رکھ کر منہ چڑھاتے ہیں۔ بحثوں اور اُلجھنوں کے باوجود مجھے جمہوریت پسند اور سیکولر چہرے والے جناح اچھے لگتے ہیں۔ اسی لئے قرارداد مقاصد کی راہ پر مولوی حضرات کو لگانے والے مسلم لیگ کے خان بہادروں، نوابوں اور ملکان سے رتی برابر ہمدردی نہیں۔ یہ سطور 26 اور 27 نومبر کی درمیانی شب میں رقم کر رہا ہوں۔ آپ کی آسانی کیلئے عرض کئے دیتا ہوں کہ یہ کالم حال سے فرار کی سچی نیت سے لکھ رہا ہوں اسلئے تاریخ کے اوراق پلٹے ہیں ۔ پورا سچ یہ ہے کہ تحریر نویس کی خواہش ہے کہ اس کی نورالعین فاطمہ حیدر (بیٹی) تھک کر سو جائے۔ 27نومبر میری بیٹی کا جنم دن ہے۔ اپنے جنم دن پر یقیناً وہ اپنے باپ سے کچھ توقعات رکھتی ہوگی اور کچھ فرمائش کا ارادہ بھی، جب تک لکھنے پڑھنے کی اداکاری کروں گا۔ وہ لائبریری میں داخل نہیں ہوگی اُسے معلوم ہے میرے باپ کی روزی روٹی قلم مزدوری سے بندھی ہے۔ لفظ لفظ آگے بڑھتے اور سطریں جوڑتے میری خواہش بس اتنی ہے کہ کسی طرح بیٹی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ وہ سو جائے تو میں لائبریری سے اپنے کمرے کا رُخ کروں، صبح وہ کالج کیلئے روانہ ہوگی تو میں سونے کی اداکاری کر رہا ہوں گا۔ وجہ یہی ہے کہ اس کالم نویسی سے ہٹ کر جس ادارے میں پچھلے چار برسوں سے مزدوری کررہا ہوں وہاں تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ کیوں نہیں مل رہیں یہ سوال نہ دریافت کیجئے گا۔ پچھلے چند برسوں کے دوران بیٹی کی سالگرہ سادات کے سالانہ سوگ کے 2ماہ اور 8دنوں کے درمیان آتی رہی۔ نہ اُس نے سالگرہ منائی، فرمائش کی نہ ہم شرمندہ ہوئے اور آنکھیں چراتے یا قلم وکاغذ اور کتابوں کے پیچھے چھپنے کی نوبت آئی۔ عجیب بات ہے نہ ہم صحافی لوگ خود کو خدائی فوجدار سمجھتے ہیں۔ لوگوں کی ہمارے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ صحافی تو بلیک میلر ہیں، ان سے ہر کوئی ڈرتا ہے اور ڈر کے مارے نذرانہ پیش کر دیتا ہے۔ جس میڈیا گروپ میں یہ قلم مزدور ملازمت کرتا ہے اس کے معاملات قدرے مختلف اور مسائل سنگین ہیں۔ وہ تو شکر ہے کہ’’مشرق‘‘ سے دیرینہ رشتے کی وجہ سے اس کا کالم کلامی چلتی رہتی ہے اور زندگی بھی چل رہی ہے۔ ورنہ صحافیوں کو خدائی فوجدار سمجھنے والوں کو سمجھانے کیلئے یہ نہ لکھنا پڑتا کہ ’’ارے کیسی خدائی فوجداری، اپنے حق میں دوسطریں لکھتے ہوئے مزدوری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ عدم توازن دوسرے شعبوں کی طرح ہمارے شعبہ میں بھی ہے۔ تجربے اور اہلیت پر تین حرف بھیج دیجئے۔ بس اتنی دیر میں یہ سطریں لکھنا تھیں کہ بیٹی اپنی خواب گاہ میں سوجائے، میری لائبریری کے باہر سے آوازیں آناکم ہوگئی ہیں، کچھ دیر قبل ٹی وی بند ہوا تھا اب خاموشی ہے ۔ کالم بھی اختتام تک پہنچ چکا۔ اس عہد میں جینا بذات خود ایک سزا ہے۔ مایوس آدمی تھا نہ ہوں۔ اُمید پرست ہوں، اُمیدیں ابھی قائم ہیں۔ کل کی طرح آج بھی میرا ایمان اس بات پر ہے کہ موسم کوئی بھی اور کیسا بھی ہو ہمیشہ نہیں رہتا۔ بے نوائی کا یہ موسم بھی ایک دن تبدیل ہوگا۔ ہم نہ سہی ہماری آئندہ نسلیں جبر واستحصال سے نجات حاصل کرلیں گی۔

متعلقہ خبریں