Daily Mashriq


قصائی ڈاکٹر، سٹریٹ لائٹ، ڈپلومہ اور کرک ناانصافی

قصائی ڈاکٹر، سٹریٹ لائٹ، ڈپلومہ اور کرک ناانصافی

خدمت خلق کے اس سلسلہ وار کالم میں عوامی مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے اطمینان کی جو کیفیت ہوتی ہے وہ میرے لئے اپنے قارئین سے وابستگی کی بنیادوں کو مزید مضبوط اور توانا بنانے کا باعث ہے۔ مستزاد جب کسی قاری کی جانب سے مسئلہ حل ہونے یا متعلقہ حکام کا کسی مسئلے کا نوٹس لینے کی اطلاع ملتی ہے تو سیر خون بڑھ جاتا ہے۔ آج کا پہلا برقی پیغام حیات آباد فیز7 سے ہمارے قاری حسن شیخ کا ہے، ان کو پی ڈی اے کے شعبہ الیکٹریکل سے مین ڈبل روڈ فیز7 پر عرصہ سے خراب سٹریٹ لائیٹس کی عدم تبدیلی وبحالی کا شکوہ ہے۔ اس طرح کی شکایت حیات آباد فیز ایف9 کے گلی نمبر11 اور گلی نمبر4 کے مکینوں کی طرف سے بھی آئی تھی۔ حیات آباد فیز6اور7قبائلی ضلع خیبر ایجنسی سے متصل ہونے کی بناء پر حساس ہیں۔ یہاں کے مکینوں کو چاردیواری توڑ کر قبائلی لوگوں کی آمد ورفت کیساتھ ساتھ منشیات لانے اور فروخت کرنے کی بڑی شکایت ہے۔ شاہ کس سے آنے والے موٹر سائیکل سوار ان گھروں کے لڑکوں کو پھنسانے کیلئے بن بلائے گھنٹی بجا کر پوچھتے ہیں کہ انہوں نے شاہ کس سے کسی چیز کا آرڈر تو نہیں دیا تھا۔ تھانہ تاتارا کی حدود میں منشیات کے حوالے سے قبل ازیں بھی تذکرہ ہو چکا۔ بہرحال فی الوقت سٹریٹ لائیٹس کی شکایت کا ازالہ مطلوب ہے۔ منشیات کی روک تھام بڑے دل گردے والے ہی کر سکتے ہیں۔ ہماری پولیس تو اپنا حصہ لیکر منشیات اور قحبہ خانوں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے۔ کرک سے وطن بادشاہ کو سخت شکایت ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ان کے علاقے میں بجلی، گیس، پانی کی بہم رسانی اور سڑکوں کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ سابق ادوار میں کرک کو ملنے والی گیس کی رائیلٹی بھی روک دی گئی اور کرک کے حصے کی پانچ ارب روپے سے زائد رائلٹی کی رقم نوشہرہ منتقل کی گئی۔ اس امر سے تو اتفاق نہیں کیا جاسکتا کہ کرک کو گزشتہ دورحکومت میں مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہو، رائیلٹی کی مد میں عوام کے حق کی عدم ادائیگی اور منتقلی کی خبر اگر جزوی طور پر بھی درست ہے تو یہ علاقے کیساتھ بڑا ظلم ہے۔ کرک ایک بے آب وگیاہ علاقہ ہے جہاں کے مکینوں کو پانی کی شدید قلت کے باعث مشکلات کا سامنا ہونا فطری امر ہے۔ اسی وجہ سے کرک میں واٹر ٹینکروں کا کاروبار پھلتا پھولتا جارہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے مگر ایسا تب ممکن ہوگا جب عوام کو خرید کر پانی کے استعمال کی مجبوری سے نجات دلائی جائے۔ کرک کے ممبران اسمبلی کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ صوبائی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ کرک میں ترقیاتی کاموں اور فلاحی سکیموں پر اپنے پلے سے خرچ کرے اور گیس رائیلٹی کی بقایاجات فوراً ادا کرے۔ کرک کے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ گیس پائپ لائن سے غیرقانونی کنکشن لیکر بڑے بڑے جنریٹر لگا کر ایئر کنڈیشنڈ چلانے کا ظلم نہ کریں۔ ظلم حکومت کرے یا عوام دونوں ظلم اور ظلم کرنے والا ظالم کہلائے گا۔ کوہاٹ سے ہمارے ایک قاری کو سول، الیکٹریکل، ڈی اے ای اور دیگر ڈپلومہ ہولڈرز کو روزگار نہ ملنے کا سخت افسوس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب روزگار نہیں ملتا تو خواہ مخواہ ہمارا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بصد احترام اس سے اختلاف نہیں کہ ہمارے ڈپلومہ ہولڈرز سے لیکر پی ایچ ڈی کرنے والے تک بیروزگاری کا شکار ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ ان شعبوں میں کوئی جائے ہی نہیں۔ مختلف شعبوں میں گنجائش ہر وقت ہوتی ہے اور لوگوں کو روزگارملتے بھی ہیں اور بہت سے نوجوان بیروزگاری کا بھی شکار ہوتے ہیں مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ بندہ کوشش ہی کرنا چھوڑ دے۔ ہمارے نوجوانوں کو صرف سرکاری روزگار ہی کیلئے انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ خودروزگار پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ ڈپلومہ کرنے والے تو کسی نہ کسی فنی شعبے اورعملی کاموں سے واقف ہوتے ہیں، وہ تھوڑی سی مزید محنت اور جدوجہد کر کے اپنا قدم جما سکتے ہیں۔ بس ہمت مرداں کی دیر ہے، مدد خدا منتظر ہے۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طالب علم نظام الدین حکومت کی توجہ من مانے ٹرانسپورٹ کرایوں اور ڈاکٹروں جن کو موصوف نے قصائی لکھ کر بریکٹ میں ڈاکٹر لکھا ہے کی من مانیوں کی طرف توجہ دلانے کا کہا ہے۔ موجودہ حکومت کے سو دنوں میں مہنگائی میں اضافہ کوئی الزام نہیں۔ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ کے باعث آئے روز بسوں، ویگنوں اور اڈوں پر مسافروں کی توتکار سنی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں نے تو واقعی قصائی کاروپ دھار لیا ہے، ان کی فیسیں مقرر کرنے کیلئے جو مسودہ قانون تیار کیا گیا تھا صوبائی حکومت خود ہی اسکی منظوری میںٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے سو دن مکمل ہونے پر لوگوں کی رائے میں تبدیلی بھی محسوس ہونے لگی ہے۔ پہلے ٹیکسی، رکشہ، بس میں لوگ پی ٹی آئی، پی ٹی آئی کرتے تھے اب ہائی ہائی کرنے لگے ہیں۔ لوگوں کو اس کا تو علم نہیں ہوتا کہ حکومت کی کیا معاشی مجبوریاں ہیں، اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے، جانے والے چلے گئے، خزانہ خالی کر گئے مگر ایسا تو ہر حکومت میں ہوتا رہا ہے۔ اس قسم کی بدنیتی کوئی نئی بات نہیں آنے والے کو ہی سب سنبھالنا پڑتا ہے، نہ سنبھلے تو عوام تو چیخیںگے، چلائیں گے بیچارے عوام کے پا س اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تونہیں قہردرویش برجان درویش۔ تحریک انصاف کو اب صورتحال کا ادراک ہونا چاہئے اور عوامی مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی سے توجہ دینی چاہئے۔ ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسے ہی کسی جماعت کے حق میں یا اس کیخلاف رائے عامہ بنتی ہے، اگر ابتدائی تین ماہ میں حمایتی بھی مخالفین کی زبان بولنے لگیں اور مخالفین کا تو کام ہی شعلہ اُگلنا اور حکومت کو بد نام کرنا ہے تو بنے گا کیا؟۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں