Daily Mashriq


میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

سردی کی شدت میں دن بدن اضافہ ہونا بدلتے موسموں کے بہت پرانے تیور ہیں۔ اکتوبر کے آتے آتے ساون اور بھادوں رت اپنا اپنا بوریا بستر گول کرکے چلتی بنتی ہیں۔ اسوج، کاتک، مگھڑ کے دیسی مہینے اپنے ساتھ جاڑوں کا موسم لیکر آتے ہیں جو نومبر کے جاتے جاتے پوہ اور ماگھ کے دوران شدید سے شدیدتر ہوتے جاتے ہیں۔ مگھڑ نومبر کے وسط میں شروع ہوتا ہے اور دسمبر کے آتے آتے اس میں پوہ کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، پوہ اور ماگھ کی سردیوں کے یخ بستہ موسم کے شدائد سے بچنے کیلئے جہاں لوگ دھوپ میں رہنا اور اس کی حدت کو اپنے اندر سمونا پسند کرتے ہیں وہاں گرمیوں کے پہناوؤں کو ایک طرف دھکیل کر جرسیاں، سویٹر، کوٹ واسکٹ اور پل اوؤر جیسے گرم پہناوؤں سے اپنے جسم اور جان کو ڈھکنے اور گرم کرنے لگتے ہیں۔ لوگوں کی اس طلب یا ضرورت کے پیش نظر جگہ جگہ گرم کپڑوں کی مارکیٹیں سج جاتی ہیں۔ نئے پہناوے مہنگے داموں ملتے ہیں اسلئے محدود آمدن والے یا کفایت شعار لوگ اپنی سفیدپوشی ڈھانپنے کیلئے سستے داموں سردیوں کے پہناوے خریدنے کے ارادے سے لنڈے بازار کا رخ کرتے ہیں اور یوں وہ یخ بستہ موسم کی گاڑی کو دھکا اسٹارٹ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اخروٹ، بادام، کشمش اور اس قبیل کے دیگر خشک میوہ جات سردیوں کے من بھاتا کھاجے ہیں لیکن اس ارمان کو بھی وہی لوگ پورا کرسکتے ہیں جو سردیوں کے موسم میں جیبوں کو گرم رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ جن کی جیبوں میں جاڑے کی سردی دھری رہتی ہے وہ بھنے ہوئے کالے چنوں یا مونگ پھلیوں پر اکتفاء کرتے ہیں اور یوں ہمارے شہروں اور دیہاتوں کی دکانوں میں اس قسم کے سستے چنے چبینے بھی منہ مانگے نرخوں میں دھڑا دھڑ بکنے لگتے ہیں۔ سردیوں کے پکوانوں میں سوجی کا حلوہ، گاجریلہ، کارن فلور سوپ، اُبلے ہوئے انڈے، مرغی کی یخنی اور فرائی کی ہوئی مچھلی خوب پسند کی جاتی ہے۔ خوش خوراک لوگوں کی اس طلب کو پورا کرنے کی غرض سے جگہ جگہ ان پکوانوں کے سٹال یا ہتھ ریڑھیوں پر چلتی پھرتی دکانیں لگ جاتی ہیں۔ تکہ کڑاہی، مٹن کڑاہی، سیخ کباب اور چپل کباب جیسی سدا بہار نمکین ڈشیں ہر موسم میں جینے کیلئے کھانے اور کھانے کیلئے جینے والوں کے کام ودہن کی تواضع یا پیٹ پوجا کیلئے تیار رہتی ہیں۔ اگر آپ تلی ہوئی مچھلی کھانا چاہتے ہیں تو اس کی چند دکانیں آپ کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بھی مل جائیں گی۔ اگر آپ کی جیب ان دکانوں کی کرسیوں، میزوں پر بیٹھنے کا بل ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتی تو کوئی بات نہیں آپ کسی پُرہجوم بازار مثلاً جناح پارک کیساتھ والی ریلوے پھاٹک کراس کرتے ہوئے باچا خان چوک کی جانب دو قدم اُٹھائیں تو آپ کے کان میں پشتو زبان میں پہلے سے ریکارڈ شدہ آواز بھونپو پر ہوتے اعلان کی صورت پہنچے گی جس میں آپ کو آئیے آئیے اس پار چلے آئیے تازہ مچھلی آدھ پاؤ تیس روپے کی اور ایک پاؤ پچاس روپے کی۔ اگر آپ کو بھوک لگی ہے یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق آپ کیلشیم کی کمی کو دور کرنے یا کولیسٹرول سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ خواہ مخواہ پیڑھی یا چوکی کھینچ کر وہ چیز نوش جان کرنے لگیں گے جس کا بھونپو یا لاؤڈ سپیکر پر ریکارڈ پلے ہو رہا ہو۔ مچھلی سردیوں کے موسم کا مرغوب ترین پکوان ہے بہت سے لوگ دکانوں یا تھڑوں پر بیٹھ کر مچھلی کھانے کی بجائے اپنے گھروں میں فرائی کرکے یا اس کو مختلف انداز سے پکاکر کھانا پسند کرتے ہیں۔ اگر وہ پشاور کے رہنے والے ہیں تو مچھلی خریدنے کیلئے انہیں پشاور کے گھنٹہ گھر کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں مدت مدید سے مچھلی بازار ہی نہیں مچھلی منڈی کے طور پر جانا جاتا ہے، یہاں پرچون کے علاوہ بپاریوں میں تھوک کے حساب سے بھی مچھلی فروخت ہوتی ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ گھنٹہ گھر کے نیچے قائم ہونے والا یہ مچھلی بازار کسی زمانے میں گھنٹہ گھر سے متصل زنانہ خریداری کے مرکز مسلم مینا بازار میں قائم تھا، جس کی مناسبت سے قدیم لوگ مسلم مینا بازار کو مچھی ہٹہ کہتے تھے، مسلم مینا بازار اگر آج بھی مچھی ہٹہ ہی ہوتا تو شائد وہاں کوئی بھی سلمہ ستارہ یا منیاری کی دکان نہ کھول سکتا اور اگر کھول بھی لیتا تو اسے پچانوے کا گھاٹا ہوتا کہ وہاں مردہ مچھلیوں کی بو باس کے علاوہ برف اور پانی کے وافر استعمال سے کیچڑ اور مچھلی کی باقیات کا سامنا کرنا پڑتا۔ مچھی ہٹہ کی ساری بو باس جانے کب سے گھنٹہ گھر کے پہلو میں پھیلائی جارہی ہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے بھی متعدد بار چارہ گروں کے دروازوں پر دستک دی اور صدائے احتجاج بلند کی لیکن جانے کیوں ان کی شنوائی نہیں ہوئی، گھنٹہ گھر پشاور کو بلدیہ پشاور والوں نے کتنی بار پرکشش بنانے کی کوشش میں یہاں سے تجاوزات ہٹانے کا عندیہ دیا لیکن وہ زیروپوائنٹ سے آگے نہ بڑھ سکے، اب تو گھنٹہ گھر پشاور ہیری ٹیج ٹریل کا صدر دروازہ بن چکا ہے لیکن یہاں پر قائم مچھلی مارکیٹ ہیری ٹیج ٹریل کے سیر بینوں کو پکار پکار کر کہہ رہی ہے

انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

متعلقہ خبریں