Daily Mashriq


بھارتی ایجنسیوں کے اندرکا خوف

بھارتی ایجنسیوں کے اندرکا خوف

بھارتی سیکورٹی اداروں نے مرزاغالب کے دیوان سے استفادہ کرنے کا وتیرہ اختیار کر رکھا ہے اور اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے ایسی ایسی حرکتیں ان سے سرزد ہوتی رہتی ہیں جو یا تو فوری طورپر ان بھارتی سیکورٹی اداروں کیلئے وجہ شرمندگی بن جاتی ہے یا پھر کچھ عرصہ بعد ہی ان کے اختیار کئے ہوئے بیانئے کا کچھا چٹھا کھل کر سامنے آجاتا ہے جبکہ ان کی حرکتوں پر غالب کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے کہ

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی

تازہ ترین لطیفہ جو بھارتی سیکورٹی اداروں نے چھوڑا ہے وہ یہ ہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر اپنی دانست میں دو ’’پاکستانی دہشتگردوں‘‘ کی تصاویر کے پوسٹر چسپاں کر کے عوام سے ان دہشتگردوں کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کردی ہے، حالانکہ جن کو بھارتی اداروں نے دہشت گرد ظاہر کیا ہے وہ بے چارے جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے دو طالبعلم ہیں جو 9تا 11نومبر کو رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کے بعد واہگہ بارڈر کا چکر لگا نے گئے اور وہاں ایک سنگ میل کیساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنوائی، سنگ میل پر واہگہ بارڈر سے فیروزپور اور نئی دہلی تک کے فاصلے کلومیٹرز میں درج ہیں۔ نئی دہلی کا فاصلہ360کلومیٹر ہے جبکہ دونوں ’’دہشتگرد‘‘ واپس اپنے مدرسے بھی پہنچ چکے ہیں اور بھارتی سیکورٹی ادارے انہیں ابھی تک بھارتی راجدھانی ہی میں تلاش کر رہے ہیں، اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ دونوں طالبعلم فوق البشر قسم کی مخلوق ہیں، جنات ہیں یا چھلاوہ جو9نومبر کو رائے ونڈ اجتماع میں شرکت کرنے پہنچے۔11نومبر تک وہیں رہے ، شاید 12یا 13نومبر کو واہگہ بارڈر گئے ہوں گے اور بغیر ویزہ پاسپورٹ کے نئی دہلی پہنچ گئے اور پھر اُڑکر واپس بھی آگئے، وہ بھی بھارتی سیکورٹی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، یعنی بے چارے بھارتی سیکورٹی ادارے اب اتنے گئے گزرے ہوگئے ہیں کہ دو بندے اتنا طویل فاصلہ طے بھی کرلیتے ہیں مگر راستے میں کسی کی ان پر نظر ہی نہیں پڑسکی، وہ جو تصویر پوسٹر میں سیکورٹی اداروں نے نئی دہلی میں ہر جگہ چسپاں کی ہے اس پر ہم نے بہت غور کیا اور ہر زاویئے سے اسے پرکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دونوں کے سروں پر موجود ٹوپیوں کا جائزہ لیاکہ کہیں یہ قدیم داستانوں میں بیان کردہ سلیمانی ٹوپیاں تو نہیں ہیں، مگر اس کا کوئی ثبوت ہمارے ہاتھ نہیں لگ سکا، اس لئے کہ اگریہ واقعی سلیمانی ٹوپیاں ہوتیں تو ان کو سر پر رکھنے کے بعد دونوں نظر کیسے آتے اور تصویر کیوں کر کھینچی جاسکتی تھی وہ بھی ٹوپیوں سمیت۔بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کو ہر بار اپنی ’’کارکردگی‘‘ دکھانے کیلئے کوئی نہ کوئی شوشا چھوڑنے پر مجبورہونا پڑتاہے تاکہ وہ اپنی حکومت اور عوام کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی رہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ نغمہ شادی کے نہ ہوتے ہوئے نوحٔہ غم سنا کر کوئی نہ کوئی ہنگامہ پیدا کر دیتی ہیں، گویا بقول خالد خواجہ

فضول بحث کا دروازہ کھول دیتا ہوں

خموش رہ نہیں سکتا ہوں بول دیتا ہوں

ابھی دنیا بھارتی ایجنسیوں کا وہ شوشابھولی نہیں ہوگی جب ایک کبوترنے پاکستانی سرحد پار کرکے بھارت کی فضائوں میں پرواز کی تو بھارتی ایجنسیوں نے اسے پکڑ کر تحقیقاتی مرکز میں اسکا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا اورپاکستان پر جاسوس کبوتروں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنے کے الزامات لگا دیئے تھے، دراصل یہ بھارتی اداروں کے اندر سرایت کردہ وہ خوف ہے جس نے انہیں لرزا کر رکھ دیا ہے اور کہیں پتا بھی کھڑکتا ہے تو ان کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ ان اداروں کے اہلکاروں کو ہر جانب پاکستانی ’’جاسوس‘‘ ہی نظر آتے ہیں

ہر سو دکھائی دیتے ہیں وہ جلوہ گر مجھے

کیا کیا فریب دیتی ہے میری نظر مجھے

اب یہی دیکھ لیجئے، وہ جو چند برس پہلے بھارت کے اندر ایک تخریب کاری میں کسی اجمل قصاب کوپاکستان کے نام سے متعارف کراکے بھارت نے پوری دنیا کو سرپر اٹھالیا تھا اور پاکستان پر بھارت کے اندر دہشتگردی کرانے کے الزامات عائد کئے تھے جبکہ پاکستان کی بسیار کوششوں کے باوجود ہمارے سیکورٹی حکام کو اجمل قصاب تک رسائی کی اجازت نہیں دی تھی تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں کیونکہ بھارتی اداروں کو اصل بات پہلے ہی سے معلوم تھی یعنی اب جبکہ اتنی مدت کے بعد خود بھارت کے اندر سے یہ اطلاعات سامنے آچکی ہیں کہ اجمل قصاب دراصل بھارتی شہری تھا اور اسے جس عجلت میں پھانسی دی گئی اس سے معلوم ہوتا تھا کہ دال میں کچھ تو کالا کیا پوری دال ہی کالی تھی۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ جن بے گناہ بے چارے مدرسے کے طالبعلموں کی تصویر کا پوسٹر بنا کر نئی دہلی میں چسپاں کیا گیا ہے اورجن کے حوالے سے اب پاکستانی میڈیا نے اصل حقائق طشت ازبام کرکے بھارتی ایجنسیوں کے گھنائو نے اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، اس پر بھارتی حکومت کوئی یوٹرن لیتی ہے یا پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ اور واویلا کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت کو مطلوب ’’نئے دہشتگردوں‘‘ کو اس کے حوالے کیا جائے کیونکہ یہ تو بھارت کا پرانا وتیرہ ہے جسکی بنیاد پر وہ ہمیشہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اس قسم کے بے بنیاد الزامات کے ہنگام وہ اپنے بھیجے ہوئے اصلی دہشتگرد کلبھوشن یادو کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے بھی نہیں چوکتا، بقول داغ دہلوی

کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

متعلقہ خبریں