Daily Mashriq


کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

چین سی پیک سے متعلق تحفظات دور کرنے کیلئے تیار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین اقتصادی تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اقتصادی تعاون میں غیر معمولی اضافہ سی پیک کی وجہ سے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے متعلق مختلف آراء سامنے آرہی ہیں جن کا جواب بہت ضروری ہے۔ انہو ں نے کہا کہ چین معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان کا خواہاں ہے ۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین پاکستان کے معاشی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے ۔ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کی سخت ضرورت ہے اور اس حوالے سے چین نے بھی اہم فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں چین سرمایہ کاری بڑھائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی مصنوعات کی خریداری میں بھی اضافہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے اندر تکنیکی ، معاشی اور صنعتی شعبوں میں خاطر خواہ تعاون کرے گا کیونکہ سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے اعتماد کا مظہر ہے ۔ سی پیک سے متعلق تمام تحفظات دور کئے جائیں گے ۔ سی پیک روڈ اینڈ بیلٹ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس میں صرف چین نہیں بلکہ پاکستان کا بھی فائدہ ہے ۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ واضح کرتا ہوں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ صرف چینی کمپنیاں سی پیک سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، سی پیک پر معلومات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، سی پیک پر پاکستان اور پاکستانیوں کے تمام خدشات کا ازالہ کریں گے۔دنیا کی کچھ طاقتیں چین کو ابھرتا ہوا خوشحال ملک نہیں دیکھنا چاہتیں جبکہ کچھ قوتوں کو پاکستان اور چین کے درمیان تعاون، تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے۔اگرچہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے ضمن میں پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر تحفظات کا اظہار سامنے نہیں آیا نہ ہی اس قسم کے معاملات میں تحفظات کااظہار ہوتا ہے تاہم چینی سفیر کے بیان سے اس امر کی بہر حال تصدیق ہوگئی ہے کہ پاکستان کو چین سے معاملت میں تحفظات ہیں۔ اس قسم کی چہ میگوئی سابق دور حکومت کے چین سے تعلقات میں تبدیلی کی نوبت آنے تک کی شنید ضرور تھی اس وقت کے وزیر اعظم کی جانب سے درون خانہ بعض تحفظات کا شاید اظہار بھی سامنے آیا تھا مگر بظاہر اور میڈیا میں ایسا کچھ نہیں بلکہ برعکس معاملہ تھا۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کا بھی سی پیک کے حوالے سے لب و لہجہ محتاط اور مثبت ہی رہا ہے لیکن ہر دو حکومتوں میں یکساں قسم کے موقف کے باوجود ایسا کیا کچھ ہے جسے تحفظات کا نام دے کر اسے دور کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ سب اچھا ہے اور تعریف و تحسین کے بجتے ڈونگروں میں فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ ریکارڈ پر ضرور ہے جس سے مبینہ طور پر پاکستان کے وزیر تجارت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکومت سی پیک میں کیجانے والی سرمایہ کا جائزہ لے گی اور ایک دہائی قبل دستخط کئے گئے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرتے ہوئے نئے تجارتی معاہدے کرے گی کیونکہ سابقہ معاہدوں میں چینی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ حد تک فائدہ پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے سی پیک کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے9ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل کا بھی عندیہ تھا جو سی پیک سے متعلق معاملات پیش کرے گی۔ماہرین سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور فوائد ونقصانات کا اندازہ لگائیں گے۔ عبدالرزاق داؤد نے کہا تھا کہ میرے خیال میں تمام چیزوں کو ایک سال تک روک دینا چاہئے تاکہ چیزوں کا بغور جائزہ لیا جا سکے اور ہم اس منصوبے کو پانچ سال تک بھی پھیلا سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت پاکستان میں موجود چین کے سفارتخانے نے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیاتھا۔ چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سی پیک پر پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق ہے کہ یہ باہمی فوائد کا حامل منصوبہ ہے اور پاکستان کی ضرورت اور ترقی کے مطابق دونوں ملک اس کو آگے لے کر چلیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ غلط معلومات کی حامل اس طرح کی بدنیتی پر مبنی رپورٹس، اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ رپورٹر کو پاکستان، چین کے روایتی تعلقات اور سی پیک کا بالکل بھی علم نہیں جبکہ اس رپورٹ میں انہیں نظرانداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین نے سی پیک کے جاری منصوبوں اور تعاون کے نئے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاق رائے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے3روزہ دورہ پاکستان کے دوران ملک کی اہم قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں طے پایا۔گو کہ اس وقت میڈیا ہی کو معتوب ٹھہرایاگیا تھا اور دونوں ممالک کی طرف سے سراسر تردید پر مبنی وضاحتیں پیش کی گئی تھیں مگر پلوں کے نیچے کافی پانی بہہ جانے کے بعد محولہ رپورٹ کی گویا چینی سفیر نے از خود تصدیق کردی۔ اس سارے دورانیے میں چینی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد اور چین کی سفارتی سطح پر پاکستان میں مقتدرین سے ملاقاتوں کے تانے بانے بلا وجہ نہیں سمجھے جا سکتے محولہ بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر جائزہ لیا جائے تو گزشتہ حکومت میں پاک چین اقتصادی راہداری میں کمزوریوں، سقم اور کسی منفعت ودباؤ یا پھر کسی مصلحت کے تحت ملکی مفاد کو نہ سمجھنا یا اس سلسلے میں کوتاہی برتنے کی گنجائش کو یکسر مسترد کرنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان اور چین ایسے دو اہم دوست ممالک ہیں جن کا عوام سے عوام اور حکومت کا حکومت سے گہرا رشتہ اور تعلق کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس لئے اس قسم کے معاملات درون خانہ ہی حل ہونے چاہئیں۔ سی پیک دونوں ممالک کے درمیان صرف معاشی واقتصادی ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ اس کے تزویراتی پہلو بھی ہیں۔ بنابریں یہ ہر لحاظ سے اہم اور حساس ہے یہ منصوبہ صرف پاکستان ہی کی ضرورت نہیں بلکہ چین کیلئے بھی برابر اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس پر عملدرآمد سے چینی معیشت کی بڑھوتری اور چین دنیا میں معاشی ومعیشتی برتری کا حامل نمایاں ملک بن سکے گا۔ کسی بھی منصوبے میں ایک فریق کا دوسرے فریق کے مقابلے میں زیادہ بہتر مراعات کا حصول ہر سودے اور معاہدے کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ اگر ہماری اُس وقت کی حکومت نے اُس وقت اس امر کا ادراک کرنے میں غلطی کا ارتکاب کیا تھا تو موجودہ حکومت کو پاکستان کے عوام کے مفاد میں اس بارے بات چیت کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ معاملہ اصولوں پر مبنی ہونا چاہئے تھا کہ عظیم دوست وہمسایہ ملک کو گراں نہ گزرے۔اور نہ ہی پاکستان اس اہم منصوبے کے اس قسم کے ثمرات سے محروم رہے جس کا پاکستان کے عوام کو خواب دکھایاگیا ہے۔

متعلقہ خبریں