Daily Mashriq


صوبے کو مکمل اجازت ملنی چاہیئے

صوبے کو مکمل اجازت ملنی چاہیئے

وفاقی حکومت کی طرف سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی کاپانچ سال میں صوبے میں گیس اور تیل کی پیداوار شروع نہ کرنا صوبے کے عوام سے ناانصافی ہے ۔ اطمینان کا حامل امر یہ ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں منظوری کے بعد اب وفاقی حکومت نے ستمبر 2018میں کمپنی کو سات بلاکس میں صرف ایک بلاک سے پیداوار شروع کرنے کی اجازت دی ہے یہ درخواست2014میںوفاقی حکومت کو دی گئی تھی کمپنی کی جانب سے صوبے میں سات بلاکس اور 24چشموں سے گیس اور تیل کی پیداوار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی کمپنی کو صوبے میں تیل اور گیس کی پیداوار شروع کرنے کی اجازت نہ دینے کا معاملہ اپنی جگہ حساسیت کا حامل ہے جس میں بعض ملکی اداروں کی جانب سے اس ضمن میں عدم اطمینان غیر متوقع معاملہ نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے کمپنی کو پیداوار شروع کرنے کی اجازت تو دے دی ہے مگر واجبی پیمانے پر پیداوار سے مطلوبہ مقاصد کا حصول ممکن نہیں۔صوبے کے مفاد کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت کمپنی کو پیداوار کی اس طرح سے اجازت دے جو صوبے کو مطلوب ہے تاکہ صوبہ اپنے وسائل سے خود استفادہ کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل، اپنی ضروریات کو پورا اور عوام کے فلاح کیلئے کچھ کرنے کے قابل ہو ۔ آئین کے تحت صوبوں کو جو حقوق اور خودمختاری دی گئی ہے اس میںمرکزی حکومت کی مداخلت کسی طور بھی مناسب نہیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ وفاقی حکومت ایک بلاک کی بجائے سارے بلاکس سے پیداوار شروع کرنے کی نہ صرف اجازت دے بلکہ اس کیلئے ضروری وسائل اور سہولیات دینے میں بھی صوبے کی مدد کرے تاکہ صوبے کے عوام کی موجودہ حکومت سے توقعات پوری ہوں اور صوبہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوسکے۔

تعلیمی اداروں کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت

افغانستان میں دہشت گردی کے واقعات اور قندہار میںپولیس سربراہ کے قتل کے واقعہ کے تناظر میں انڈین اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے خیبر پختونخوا میںکسی بھی قسم کی تخریب کاری کے خدشے پرمحکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے صوبہ بھر کی29یونیورسٹیز اور کالجز میں ہر ممکن سیکورٹی انتظامات کی ہدایت کا اجراء بروقت قدم ہے لیکن اگر اس ہدایت اور اس پر عمل در آمد دونوں کو اخفاء میں رکھ کر کیا جاتا تو موزوں اور مستحسن ہوتا۔ اس وقت جبکہ اے پی ایس پر حملے کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی تحقیقات کا آغاز ہونے والا ہے جس سے اس افسوسناک واقعے کازخم دوبارہ ہرا ہونا فطری امر ہے اس واقع کی یاد جب جب بھی دہرائی جائے گی جسم میں جھر جھری کی لہر دوڑجانا فطری امر ہوگا۔ اس موقع پر افغانستان میں ایک واقعے کو بنیاد بنا کر خطرے کی گھنٹی بجا دینے کی اطلاعات وخدشات درست ہیں یا نادرست اس کا تو متعلقہ حکام کو علم ہوگا البتہ اسے ایک مرتبہ پھر صوبے کے تعلیمی اداروں خاص طو پر سرکاری جامعات اور سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ اور ان کے والدین کا سخت تشویش میں مبتلا اور خوف کا شکار ہونا یقینی امر ہوگا۔ بہر حال خطرہ بھانپتے ہوئے اس کے تدارک اور مقابلے کی پوری تیاری بارش سے پہلے چھت کا انتظام کرنے کے زمرے میں آتا ہے جس میں کوتاہی اور غفلت کی گنجائش نہیں ۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی اور تحفظ کیلئے بھی ٹھوس اقدامات کا ایک مرتبہ پھر اعادہ ہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں