Daily Mashriq


تنی ہوئی رسی پر چلنے کاکھیل

تنی ہوئی رسی پر چلنے کاکھیل

بزرگ شاعر دانشور اور قلم و تلوار کے بیک دھنی خوشحال خان خٹک نے اپنی زندگی کے بارے میں جس انداز سے ایک شعر میں اشارہ کیا ہے بعض اوقات پاکستان کے ماضی اور حال کے حالات دیکھتے ہوئے وہ شعر بے دریغ یاد آجاتا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ

لہ یو شئی رازنے (رائنے) لاڑ نہ وی چہ بل راشی

مگر زہ پیدا پہ ورز د شور و شر یم

یعنی ''ابھی ایک معاملہ( مصیبت اہم واقعہ) چل رہا ہوتا ہے کہ دوسری مصیبت آن کھڑی ہوتی ہے۔ شاید یہ اس وجہ سے ہے کہ میری پیدائش شور و شر کے دن ہی ہوئی ہے۔پاکستان کے حالات پر یہ شعر بالکل درست بیٹھتا ہے مگروطن عزیز کے بڑے مسائل میں پچاس فیصد حصہ ہمارے نامور سیاستدانوں کا ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ گزشتہ ستر برسوں میں جو ہوا وہ اہل بصیرت سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن گزشتہ تین عشروں میں ہماری جمہوری سیاسی جماعتوں نے سودی قرضوں کے جو پہاڑ قوم پر سائبان کی طرح کھڑے کر دئیے ہیں اس نے تو ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب کر ہی دیا تھا۔ عمران خان کو قوم نے موقع اس لئے دیا کہ انتخابی مہم میں انہوں نے قوم کو معاشی مسائل کے حل کے حوالے سے جو شعور دیا اور پھر جو وعدے کئے وہ لوگوں کو اچھے لگے اور اب جب ان کی حکومت بن گئی ہے اور لوگوں کی امیدوں میں جان آگئی ہے ' اپوزیشن جماعتیں اپنی ہاری ہوئی انائوں کی تسکین کے لئے ہر حال میں اس شخص کو نیچا دکھانے پر اس حد تک تلی ہوئی ہیں کہ کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتیں۔ عمران خان دو مہینے تک اس سوچ میں غلطاں رہے کہ عوام کو ریلیف کو دینے کے لئے کیا کیا جاسکتا ہے کہ ادھرپر سے تنقید پر تنقید شروع ہوگئی کہ ان کے پاس وہ صلاحیت و اہلیت نہیں جو حکومت چلانے کے لئے درکار ہوتی ہے۔گزشتہ دو سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے ملک پر جو قرضہ چڑھایا ہے اس میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ عوام کو کوئی ریلیف مل سکے اس لئے مجبوراً بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ بس اپوزیشن کو موقع مل گیا' صبح و شام یہ راگ کہ کہاں گئے عمران خان کے دعوے۔ اور عمران خان جب قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ ظاہر کرتے تو اپوزیشن کے لیڈریاد دلاتے کہ '' عمران نے آئی ایم ایف کے پاس جانے سے خودکشی کو بہتر قرار دیا تھا۔ اب خود کشی کیوں نہیں کرتے( تاکہ ان سب کی ان سے جان چھوٹ جائے) اور جب عمران خان سعودی عرب کو پاکستان کی مالی مدد کرنے پر آمادہ کرنے ایک مہینے کے اندر دوسری بار گئے تو ہمارے ''اصول پسند '' سیاستدانوں کو یاد آیا کہ جمال خاشقی کے قتل کی وجہ سے بڑے بڑے ملکوں کے نمائندے اس سرمایہ کاری کانفرنس کا بائیکاٹ کر چکے ہیں اور ترکی ہمارا سعودی عرب سے زیادہ قریبی دوست ہے' وہ ناراض ہو جائے گا۔اور پھر سعودی عرب نے پاکستان کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے جب معاہدے پر دستخط کرلئے تو عمران خان ابھی واپس پاکستان آئے بھی نہیں تھے کہ یار لوگوں نے دہائی دینی شروع کی کہ اس قرض اور مالی تعاون کی شرائط کیا ہیں۔ کیا یہ جنرل راحیل کی وجہ سے ہے یا یمن جنگ میں سعودی عرب کی مدد کی شرط پر ہے۔ اور اس معاہدے کی وجہ سے ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے' وغیرہ وغیرہ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محبت و عقیدت کے پیمانوں کے مطابق ترکی پاکستان کا بے مثال برادر ملک ہے لیکن کیا اس کو پاکستان کی تکالیف کا احساس نہیں ۔ جب وہ خود اس وقت معاشی مشکلات سے دو چار ہے اور ہماری مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو وہ سعودی عرب کی امداد پر کیوں خفا ہوگا۔ ایران ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے اور پاکستان ہر حال میں اس کا خیال رکھتا رہا ہے لیکن یہ ذمہ داری دونوں ملکوں پر عائد ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کی مشکلات کاخیال رکھیں۔ اس وقت ایران کو بھی چاہئے کہ عالم اسلام بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ صلح کی طرف آجائے تاکہ امریکہ کی طرف سے نومبر میں جو پابندیاں آنے والی ہیں اس کا امت کی سطح پر مقابلہ کیا جائے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ شام اور یمن تنازعات میں پاکستان کو بھائی سمجھ کر ثالث کاکردار دے دیں تاکہ سعودی عرب کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں۔ اس طرح سعودی عرب خاشقی کے جس معاملے میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے اس کو بھی چاہئے کہ قطر ' ایران اور ترکی کے ساتھ اسلامی اخوت کی بنیاد پر اپنے مرکزی مقام کااحساس کرتے ہوئے معاملات طے کرلیں ورنہ یاد رکھنا ہوگا کہ امریکہ' اقوام متحدہ اور یورپ خاشقی کے معاملے پر سعودی عرب کے لئے پریشان کن مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔ اگر ان اہم اسلامی ملکوں کے آپس میں مل کر یہ معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرلئے تو پاکستان کو بھی تنی ہوئی رسی پر چلنے سے نجات مل کر سکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔ اپوزیشن سے بھی عوام اور ملک کی خاطر دست بستہ عرض ہے کہ عمران خان کو پانچ سا ل کا موقع دے دیں۔ ہاں جہاں غلطی اور خطا ہوئی ہے وہاں پارلیمنٹ کے اندر قانون کے مطابق کھچائی اپوزیشن کا حق ہے لیکن خواہ مخواہ کی مخالفت اور طعنے ملک و قوم کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ عمران خان سلیکٹ ہیں یا الیکٹ' اب وزیر اعظم ہیں اور پاکستان میں یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ ایک وقت آئے گا کہ یہاں بھی مثالی جمہوریت آہی جائے گی ورنہ یاد رکھیں۔

داغ داغ نہ کہیں سب داغ دار ہیں

بے داغ بس وہی ہے جو پروردگار ہے

متعلقہ خبریں