Daily Mashriq


معاشی بحران سے نکلنے کیلئے حکومت کی حکمت عملی

معاشی بحران سے نکلنے کیلئے حکومت کی حکمت عملی

متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سطح وفد کی وزیر اعظم عمران خان اور اہم محکموںکے وزراء سے ملاقاتوںمیں امارات اور پاکستان کے تعلقات کو تین چار سال پہلے کے نہایت اچھے تعلقات کی سطح پر لے جانے کے بارے میں اہم مذاکرات ہوئے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ امارات کے وفد سے ایسے معاہدے کے بارے میں مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں امارات کے سعودی عرب کی طرح پاکستان کو ادھار تیل فراہم کرنے پر آمادگی کی قوی امید ہے۔ ا س سے پہلے وزیر اعظم کے دورہ ٔ سعودی عرب کے دوران تین سال تک تین ارب ڈالر کا تیل ادھار لینے کا معاہدہ طے پایا ہے۔ امارات کے وفد سے ملاقاتوںکے نتیجے میں قوی امید ہے کہ ایسا معاہدہ طے پا جائے گا اور پاکستان کی معاشی مشکلات کم ہو جائیں گی ' آئی ایم ایف سے کوئی بڑا پیکج لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ وزیر خارجہ نے بتایا کہ امارات کے وفد نے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہارکیا ہے جس میں ایک آئل ریفائنری قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ امارات سے اقتصادی تعلقات کو ماضی کے نہایت اچھے تعلقات کی سطح پر لانے کی کوششوں کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان امارات کو چاول اور پھل فراہم کر سکتا ہے اور سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے امارات کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی کو معیشت کی جو دگرگوں صورت حال سابقہ حکومت سے ملی تھی اسے بہتر بنانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے اندرون ملک اصلاحات اور بیرون ملک سفارت کاری کے ذریعے جو اقدامات کیے ہیں یہ ان کا ثمر ہے کہ سعودی عرب سے چھ بلین ڈالر کا پیکج حاصل ہو گیا ہے اور امارات سے بھی ایسے پیکج کی توقع ہے۔

اس کے بعد وزیر اعظم رواں ہفتے کے دوران ہی چین کے چار روزہ دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ چینی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ شنگھائی میں چائنا انٹرنیشنل ایکسپو میں بھی شرکت کریں گے۔

اس دورے سے قبل چین کے سفیر اور نائب سفیر نے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور تعاون کے بارے میں اور خصوصی طور پر پاک چین راہداری منصوبوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو اس کی مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ چینی سفیر نے کہا کہ چین پہلے ہی پونے تین ارب ڈالر پاکستان کے بینکوںمیں جمع کرا چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک چین راہداری منصوبہ (سی پیک) میںتیسرے ملک کی شرکت کا خیر مقدم کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے دورۂ چین کے دوران متعدد کاروباری معاہدے ہوں گے ' عوام کو خوش خبری ملے گی۔ چین کے نائب سفیر نے ان افواہوںاور غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے جو بعض عناصر سی پیک کے بارے میں پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ سی پیک کے باعث پاکستان کی معیشت پر کوئی بوجھ نہیں پڑ رہا ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ بعض قرضے 14فیصد سود پر پاکستان کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پر چین کا قرضہ محض 6اعشاریہ 3ارب ڈالر کاہے جس پر پاکستان کو صرف 2فیصد سود ادا کرنا ہے۔ اس کی ادائیگی 2020ء سے شروع ہو گی اور 15سے 20سال کی مدت میںہو گی ۔ سی پیک کے تحت 22منصوبوں میں سے 10 مکمل ہو چکے ہیں اور 12منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن میں قراقرم ہائی وے کا فیز 2' ڈرائی پورٹ اور کراچی لاہور موٹر وے شامل ہیں۔ اس طرح انہوں نے سی پیک کے بارے میں بعض عناصر جو غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کا ازالہ کر دیا ہے۔

یہ تفصیل اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے بدترین معاشی بحران سے نکلنے کے لیے عمران خان کی حکومت نے جو سمت اختیار کی ہے اس میںپاکستان کی خود مختاری کو مقدم رکھا گیا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب اور امارات سے امداد کے امکانات پر کام کیا گیا ہے جو امریکہ کے اتحادی ہیں دوسری طرف چین سے امداد حاصل کرنے پر بات چیت کی گئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ نے اس سے تجارتی جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اور تیسری طرف آئی ایم ایف سے پیکج حاصل کرنے پر گفتگو جاری ہے جس پر کہا جاتا ہے کہ امریکہ کا اثرونفوذ چلتا ہے جو اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے آئی ایم ایف کو تنبیہہ کی تھی کہ پاکستان کو کوئی ایسا قرضہ نہ دیا جائے جس سے چین کو ادائیگی کی جا سکتی ہو۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی حکومت نے محض پاکستان کے مفاد اور دوست ممالک سے آزادانہ تعلقات پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضہ گزشتہ حکومتیں گیارہ بار لے چکی ہیں۔ اس بار بھی پاکستان اپنی اقتصادی مشکلات سے نکلنے کے لیے صرف آئی ایم ایف سے ہی بھاری پیکج کی بات کر سکتا تھا لیکن سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا قرضہ ایسی شرائط لاتا ہے جن کے باعث قرضہ لینے والی حکومت بے دست و پا ہو جاتی ہے ۔ آئی ایم ایف ہی سود کی شرح مقرر کرتا ہے۔ آئی ایم ایف ہی تیل اور گیس اور بجلی کی قیمتیں مقرر کرتا ہے اور قرضہ لینے والی حکومت کا اپنا معاشی ایجنڈا پس پشت چلا جاتا ہے۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیںکہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے والے ملکوں کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیںہوتی ۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے ایسے ممالک سے امداد کی بات کی ہے جنہوں نے کوئی شرائط اس کے ساتھ وابستہ نہیں کی ہیں اور آئی ایم ایف سے جو قرضہ لیا جائے گا اس پس منظر میں وہ نسبتاً بہت کم ہو گا جس کے ساتھ شرائط اگر ہوں گی بھی تو نہایت نرم ہوں گی اور حکومت کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور ملک کو قرضوں سے آزاد کرنے کی کوشش کے لیے آزادی برقرار رہے گی۔

متعلقہ خبریں