Daily Mashriq


 اچھے موسموں کی اُمید

 اچھے موسموں کی اُمید

معاشی اعتبار سے اس وقت پاکستان کی حالت یہ ہے کہ اس کے پائوں زمین پر نہیں اور فوری طورپر پائوں رکھنے کی جگہ درکار ہے ۔باقی سب کام صرف اسی صورت میں ممکن ہیں جب پائوں زمین پر یا پائوں تلے زمین کا مرحلہ گزر جائے گا ۔وہ جو کہتے ہیں کہ اچھے دنوں کے ساتھی سب ہوتے ہیں اور دوست کی پہچان برے دنوں میں ہوتی ہے۔ آج معاشی تنگ دستی کے لمحوں میں پاکستان بطور قوم انہی حالات کا سامنا کرتا رہا ہے۔اچھے دنوں میں ساتھ ہنسنے والے برے دنوں میں نظریں ملانے پر بھی تیار نہیں ۔حد تو یہ کہ کئی ایک ایسے ہیں جو مشکلات کو بڑھانے میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں ۔امریکہ ان میں سر فہرست ہے جو ایک طرف کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقمیں روک چکا ہے اور آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض دینے کے حوالے سے خشمگیں نگاہوں سے گھوررہا ہے ۔جو دھمکانے کا ہی ایک انداز ہے ۔مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے روایتی اور آزمودہ دوست ہی امید کی کرن ثابت ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب اورچین ان میں سر فہرست ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ سعودی عرب کے دوران ہونے والے معاہدات کے بعد ملکی معیشت میں بہتری کے آثار پیدا ہورہے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان سے خصوصی ملاقاتیں کرنے کے علاوہ بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کاروں کی ایک بڑی کانفرنس میں شرکت کی ۔دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکومت نے پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لئے مجموعی طور پر بارہ ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ۔جس کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو تین سال تک تین ارب ڈالر کا تیل ادھار فراہم کرتا رہے گا ۔سعودی عرب پاکستانی بینکوں میں تین ارب ڈالر ز بھی رکھے گا ۔یہ معاہدات تین سال کے لئے ہوں گے اور تین سال بعد ان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔سعودی عرب نے پاکستان میں آئل ریفائنری کے قیام پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔بلوچستان میںمعدنیات میں بھی دلچسپی ظاہر کی گئی ۔دورے کے دوران سعودی عرب میں کام کرنے والے ورکرزکی ویزا فیس کم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی آئندہ تین سال کے دوران پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو چار کروڑ نوے لاکھ ڈالر کی گرانٹ اور قرض دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔آذربائیجان نے پاکستان میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے دس کروڑ ڈالر قرض دینے کی پیشکش ہے ۔وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب اور وہاں ہونے والے معاہدات کے فوراََ بعد ہی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کی کمی آگئی جس کے ساتھ ہی بیرونی قرضوں میں ایک سو اسی ارب کی کمی آگئی۔یہ تمام اشارے پاکستانی معیشت کے بھنور سے نکل آنے کا پتا دے رہے ہیں ۔ابھی تک ملکی معیشت آکسیجن ٹینٹ پر چل رہی تھی اور بیرونی دنیا اور سرمایہ کار پاکستانی نظام میں کرپشن کے عنصر کے باعث نہ تو امداد میں دلچسپی رکھتے تھے اور نہ سرمایہ کار یہاں آنے پر آمادہ تھے ۔کرپشن کے خلاف جاری مسلسل مہم نے بیرونی ملکوں اور سرمایہ کاروں کو ایک اعتماد عطا کیا ہے ۔اب وہ زیادہ اعتماد سے پاکستان کے ساتھ تجارت اور تعاون کا جائزہ لے سکتے ہیں۔معیشت میں بہتری کے ساتھ ہی پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ بارگیننگ پوزیشن بھی مضبوط ہو گئی ۔امریکہ پاکستان پر نامہربانہے اور آئی ایم ایف بھی امریکہ کے گہرے اثرات کی زد میں ہے اس لئے پاکستان کے لئے قرض دیتے ہوئے آئی ایم ایف کی شرائط بہت کڑی دکھائی دے رہی تھیں ۔ایک اطلاع تو یہ بھی تھی آئی ایم ایف نے امریکہ کے اشارے پر پاکستان کو ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور ایٹمی اثاثے عالمی طاقتوں کے حوالے کرنے کے بدلے ایک معقول رقم دینے کی شرط بھی رکھی تھی ۔یہ بات پوری طرح درست نہ بھی ہو مگر امریکہ زدہ آئی ایم ایف کی شرائط اس سے زیادہ مختلف بھی نہیں ہوسکتیں ۔آج بھی امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائلوں پر تشویش کا اظہا رکر رہا ہے ۔ تمام دنیا اور ایٹمی توانائی ایجنسی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بین الاقوامی معیارکے عین مطابق قرار دے چکے ہیں۔ اس کے باوجود امریکہ اس معاملے کو موضوعِ بحث بنا کر اپنے اندر کے بغض کا اظہار کر رہا ہے۔ بدعنوان عناصرکے خلاف کریک ڈائون اورپاکستان کی معیشت میں بہتری کا یہ سفرپہلو بہ پہلو جاری رہنا چاہئے ۔پاکستان کی معیشت کی اُکھڑی سانسیں بحال ہونے کے آثار پیدا کیا ہوئے مختلف حلقوں سے بہت دلچسپ مگر عجیب آوازیں اُٹھنے لگیں ۔ایسی ہی ایک آواز یہ تھی کہ اس مرحلے پر ہمیں امداد اور تعاون کی بجائے استنبول میں مبینہ طور پر قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر اظہا مذمت کرنا چاہئے تھا ۔جمال خاشقجی کے ساتھ جو ہوا ظلم تھا اور سعودی حکومت اس کی مذمت کر چکی ہے اور یہ طاقت کی ایک کشمکش اور کھیل ہے جس میں پہلے سے عذابوں میں مبتلا مشرق وسطیٰ کے لئے کوئی اچھا پیغام نہیں مگر دنیا میں روزانہ بے گناہ بے دردی سے قتل ہوتے ہیں۔ریاستیں،ایجنسیاں ،دہشت گرد اور نامعلوم افراد صحافیوں سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کو قتل کرتے ہیں مگر مغرب خاشقجی کی یاد میں آنسو بہا کر یہ ثابت کررہا ہے کہ وہ کسی کھیل کی زد میں آئے ہیں ۔ایک اور آواز یہ تھی کہ کہیں اس سعودی مدد کے بدلے یمن کی آگ میں اپنے ہاتھ جھلسانے تو نہیں جا رہے؟۔     (باقی صفحہ7) 

متعلقہ خبریں