Daily Mashriq


بلاامتیاز کڑا احتساب ضروری

بلاامتیاز کڑا احتساب ضروری

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں میں اکثر مجرم ہیں۔ سیاسی بیوروکریسی مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ موجودہ اپوزیشن حقیقی نہیں صرف جائیدادیں بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ کسی کے دباؤ میں نہیں آؤں گا اور احتساب کیلئے آخری حد تک جاؤں گا۔ اتنے ثبوت موجود ہیں کہ مجرم بچ نہیں سکتے۔ اگر وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ انتہائی خوش آئند ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان کے عوام نے کپتان کو ووٹ بھی اسلئے دیئے تھے کہ وہ ظالموں کا احتساب کریں گے اور غریبوں کی زندگی میں تبدیلی لائیں گے۔ اگر ہم دو ڈالر کے حساب سے پاکستانیوں کی فی کس آمدن کا اندازہ لگائیں تو اس حساب سے پاکستان میں 13کروڑ عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔ ان کی دیگر وجوہات میں ایک ضروری اور سب سے اہم وجہ ملٹری اور سول بیوروکریسی دونوں کی کرپشن ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت پاکستان جنوبی ایشیا کے 8ممالک یعنی بھارت، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ، افغانستان اور بنگلہ دیش میں اقتصادی وسماجی لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو اس وقت پانامہ کیس میں 436 نام ہیں۔ ان میں سے ایک فرد یعنی نواز شریف کا ٹرائل ہوا اور باقی 435 پانامہ سکینڈل کے مرکزی کرداروں کا نہ تو ٹرائل ہوا اور نہ ان کے مالی بدعنوانیوں کے کیسوں کو چھیڑا گیا۔ اسی طرح نیب میں سینکڑوں سے زیادہ ہائی پروفائل کیس پڑے ہوئے ہیں اور ان کا کچھ نہیں کیا گیا۔ اس طرح ہزاروں ایسے سیاستدان، سول اور ملٹری بیوروکریسی کے لوگ ہیں جو کرپٹ ہیں مگر اب تک منظرعام پر نہیں آئے۔ ان لوگوں نے بھی بہت کرپشن کی ہے مگر ان کیخلاف کارروائی صفر ہے۔ اگر وزیراعظم عمران خان نے ان کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی کی تو میرے خیال میں کپتان نیلسن منڈیلا جیسے اور دنیا کے دیگر بڑے بڑے لیڈروں سے بھی بازی لے جائے گا اور ان کا نام پاکستان کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کپتان نے جونہی اقتدار سنبھالا انہوں نے غریبوں کیخلاف مہنگائی اور ٹیکسوں کی صورت میں کارروائی شروع کی۔ بجلی، سوئی گیس، سی این جی، فان گیس، سیمنٹ، سریا، ادویات اور سینکڑوں اشیاء کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ کیا اور پاکستان کے غریب جو پہلے سے انتہائی دگرگوں حالات کا سامنا کر رہے تھے مزید مہنگائی اور ٹیکسوں تلے دب گئے۔ جہاں تک وزیراعظم عمران خان سیاسی بیوروکریسی کے حوالے سے سیاستدانوں کو بچانے کی بات کرتے ہیں تو اب توکپتان کی حکومت ہے اور وہ ان کے تبادلے کر کے انا کو صحیح ٹریک پر لاسکتے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو صرف اداروں میں کرپشن نہیں ہوئی ہے بلکہ پرویز مشرف، میاں نواز شریف اور دوسرے حکمرانوں نے پرائیویٹائزیشن میں بھی انتہائی بدعنوانی کی ہوئی ہے، ان کا بھی سراغ لگا کر کرپٹ حکمرانوں سے بھاری رقوم قومی خزانے میں واپس لائی جا سکتی ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 5ہزار ارب روپے کی جو کرپشن ہوتی ہے اگر ہم اس کا سدباب کر لیں تو پاکستان میں توانائی سے متعلق منصوبوں کو جس میں بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، بنائی ڈیم، کالاباغ ڈیم، پتن ڈیم اور تھاکوٹ ڈیم شامل ہیں کو آسانی سے مکمل کر سکتے ہیں۔ اگر چند سال کی کرپشن پر قابو پا لیا گیا تو اس سے ان ڈیموں کو بنا کر اس سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح پاکستان کی سالانہ کرپشن پر قابو پاکر پاکستان کے 5کروڑ جوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت دے کر اور ان کو سمندر پار بھیج کر اربوں ڈالرکا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ فی الوقت پاکستان کے تقریباً 80لاکھ پاکستانی سمندرپار ممالک میں خدمت انجام دیکر 20ارب ڈالر وطن عزیز کو بھیج رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان کی سالانہ کرپشن کے پیسوں سے ہم 13کروڑ لوگوں کو غربت کی لکیر سے نکال کر آسودہ حال بنا سکتے ہیں۔ پاکستان کی سالانہ کرپشن کے پیسوں سے چھوٹے بڑے تقریباً 4ہزار ہسپتال تعمیر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً 95ارب ڈالر اور ملکی مالیاتی اداروں سے لیا گیا قرضہ 28 ہزار ارب روپے ہے جسے چند سالوں کی کرپشن پر قابو پاکر پاکستان بیرونی اور اندرونی قرضے دونوں اُتار سکتا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ایک لاکھ روپے کی رقم سے ایک سمال جاب منصوبہ کا انتظام کیا جا سکتا ہے لہٰذا ایک سال کی کرپشن اور بدعنوانی کے پیسوں سے ڈائریکٹ 5کروڑ پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی اور ان ڈائریکٹ 6ممبر کے فیملی کے حساب سے 30کروڑ لوگوں کے نان نفقے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔ اب اس سب کا انحصار عمران خان پر ہے کہ وہ نیلسن منڈیلا بننا چاہتے ہیں یا وطن عزیز کے لوٹنے والوں کے آگے ہتھیار ڈالتے ہیں مگر بہتر یہ ہوگا کہ پاکستان لوٹنے والوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے تاکہ غریب پاکستانی بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔ اگر عمران خان نے کرپشن پر قابو نہیں پایا تو وطن عزیر میں مہنگائی کی وجہ سے اقدام قتل، جسم فروشی، اغوا برائے تاوان، چوری، رشوت اور بدعنوانی میں مزید اضافہ ہوگا اور پھر ہم وطن عزیز کو جوہری اسلحے اور میزائل ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر متحد اور صحیح نہیں رکھ سکتے۔

متعلقہ خبریں