Daily Mashriq


وہی پچپن کے لمحے لوٹ آئیں

وہی پچپن کے لمحے لوٹ آئیں

آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا، دوست عزیز جنہیں اگر امریکہ میں پشاوری روڑہ قررا دیا جائے تو ایسا غلط بھی نہیں، ڈاکٹر سید امجد حسین نے اپنے ایک کالم میں ریاست مشی گن کی اوکلینڈ یونیورسٹی کے علی گڑھ (بھارت) سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منیب الرحمن کی یادداشتوں میں پشاور کو ڈھونڈ کر جن پرانی باتوں کا تذکرہ کیا ہے اس نے ہمیں بھی قدیم پشاور کی کچی پکی گلیوں میں پہنچا دیا ہے۔ علی گڑھ کے ڈاکٹر منیب الرحمن نے اپنی یادداشتوں کو کریدتے ہوئے علی گڑھ کے قریب ایک گاؤں کا ذکر کیا اور ایسے چھابڑی فروش کی نشاندہی کی جو ایک چھوٹے سے صندوق میں اونی پٹیوں میں لپٹی ہوئی آئس کریم فروخت کرتا تھا، وغیرہ وغیرہ یعنی کچھ اور کردار بھی ایسے تھے جن کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں جبکہ ڈاکٹر امجد نے بھی پشاور کی گلیوں میں بعینہ ویسے ہی کرداروں کا ذکر کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس ناتے ہم بھی بچپن کے اس دور میں پہنچ گئے اور شاید اس حوالے سے جس آئسکریم بیچنے والے کا تذکرہ علی گڑھ کے ڈاکٹر منیب الرحمن اور ڈاکٹر امجد حسین نے کیا ہے اس بارے میں بہت پہلے ہم بھی اپنے کسی کالم میں پوری تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ پشاور کی گلیوں میں یہ آئس کریم بیچنے والے کے پاس لکڑی کا ایک مستطیل بکسہ ہوا کرتا تھا جس کا سائز تقریباً ڈیڑھ فٹ، چوڑائی تقریباً دس انچ اور گہرائی 6سے 8انچ کے قریب ہوتی تھی تاہم آج بھی جس بات پر ہمیں حیرت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اندر پڑی ہوئی آئس کریم کمبل یا اونی پٹیوں میں لپٹی ہونے کے باوجود وہ آئس کریم بالکل محفوظ رہتی تھی یعنی پگھلتی ہی نہ تھی حالانکہ اصولی طور پر اسے برف سے ڈھکا ہونا چاہئے تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سائنسی اصولوں کے بالکل برعکس یہ معمہ اب بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ آج بھی تب کی طرح قلفی مٹی کے بڑے بڑے مٹکوں میں برف اور ساتھ ہی نمک اوپر سے چھڑکا کر مٹکے کو مسلسل آگے پیچھے حرکت دے کر جمائی جاتی ہے، اسی طرح جست کی چادر میں سوراخ کر کے اس میں بھی برف اور نمک ڈال کر جو قلفی جمائی جاتی ہے اور جس کے اندر تیلیاں رکھی جاتی ہیں وہ بھی اسی اصول کے تحت جمنے کے عمل سے گزاری جاتی ہے، گویا برف کو جمنے کے عمل میں نمک سے مہمیز کیا جاتا ہے

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں

اسی دور کی کچھ اور باتیں بھی یاد آرہی ہیں، جب مٹی کی ٹوٹیوں میں جمی ہوئی کھیر بکا کرتی تھی۔ سکولوں کے باہر، گلیوں محلوں میں کھیر کی ان ٹوٹیوں میں کھیر جمنے کے بعد سرخ رنگ کا ایک چھوٹا سا نشان لگا دیا جاتا تھا اور لڑکے بالے ان پر یوں شرطیں باندھتے تھے کہ ٹین کے بنے ہوئے چمچ سے اس داغ کو اٹھاتے تھے چونکہ رنگ بعض اوقات ٹوٹی کی تہہ تک پہنچ چکا ہوتا اس لئے اسے پورے طور پر اٹھانا ممکن نہ رہتا، یوں جو بھی ایک ہی بار میں یہ رنگدارداغ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا وہ جیت جاتا اور کھیر کے پیسے ہارنے والے کو ادا کرنا پڑ جاتے۔ کھیر کے ذکر کیساتھ ایک اور چیز بھی ہوتی جسے چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں بھر کر فروخت کیا جاتا، اس دور میں ہم اسے ''بجلی بمبئی'' کے نام سے پہچانتے۔ اس نرم قسم کی کھیر یا فیرنی طرز کی چیز کو چمچ کے علاوہ نلکیوں (Straws) سے بھی پیا جاتا۔ آج جب سوچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نرم جیلی ہوتی تھی۔ تاہم اس حوالے سے شرطیں باندھنے کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ البتہ شرطیں باندھنے کیلئے گنوں کے ٹوٹوں کا استعمال بھی عام تھا اور اکثر لوگ دو تین یا چار ٹوٹے گنے کے ایک ساتھ اپنے گھٹنے پر زور سے مار کر توڑنے، یا ایک ہی لمبے ٹوٹے کے کئی بند ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی کلائی پر مار کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی شرطیں باندھتے تھے جبکہ بعض جی دار آٹھ آٹھ ٹوٹوں کو مضبوطی سے دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لیکر توڑنے کی شرط لگاتے جس میں کامیابی اور ناکامی دونوں کے چانسز بہرحال موجود تھے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیساکہ آج کل جوڈو کراٹے کے کھیل میں ایک ساتھ کئی تختوں کو ایک ہی ضرب سے توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، جوڈو کراٹے میں تو اینٹوں، پتھر کی سلوں وغیرہ کو نہ صرف ہاتھ کا ضرب لگانے، کک مار کر توڑنے یا پھر سر پر مار کر توڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہیں جبکہ اب معاملہ اخروٹ توڑنے، ناریل توڑنے، تربوز توڑنے کے ریکارڈ بنا کر اپنے نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے تک جا پہنچا ہے بلکہ ایک مغربی چینل پر لوگ آکر اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں کئی طرح کے کرتب جادوگری وغیرہ بھی شامل ہوتی ہے انہی میں ایک خاتون کو جس طرح کئی تربوز پاش پاش کرتے دکھایا گیا جس کی تفصیل بیان تو نہیں کی جاسکتی البتہ وہ فوٹیج فیس بک اور یوٹیوب پر آسانی سے دیکھ کر بندہ حیرت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس پروگرام میں جادوگری کے کمالات سے ہمیں بھی اپنے پچپن کے دور میں اس جادوگر کی یاد آگئی ہے جو ایک میز پر سٹیل کے بنے ہوئے Cups کے نیچے چھوٹے چھوٹے بال رکھ کر ایسے کرتب دکھاتا کہ جہاں بال رکھا گیا ہوتا وہ خالی اور بال کسی اور کپ کے نیچے سے برآمد ہو جاتا، ایسے اور بھی کئی دلچسپ کردار گزرے ہیں جن کے کرتب دیکھ کر اس دور میں بچہ لوگ تالی بجاؤ پر مجبور ہو جاتے اور صورتحال ہمارے اپنے ہی ایک شعر کی مانند دکھائی دیتی ہے کہ

وہی بچپن کے لمحے لوٹ آئیں

ہمارے ہاتھ میں پھر جھن جھنے ہوں

متعلقہ خبریں