Daily Mashriq

آزادی مارچ' مفاہمت کی کوششیں ترک نہ کی جائیں

آزادی مارچ' مفاہمت کی کوششیں ترک نہ کی جائیں

حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان جاری ڈیڈ لاک کا خاتمہ ہوا ہے اور آزادی مار چ کے حوالے سے فریقین کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، اپوزیشن کا مطالبہ یہ تھا کہ ڈی چوک پر آزادی مارچ کیا جائے جبکہ حکومت یہ چاہ رہی تھی کہ پریڈ گراؤنڈ میں آزادی مارچ کی اجازت دی جائے، اب معاہدے کے مطابق اپوزیشن آزادی مارچ کیلئے ڈی چوک کی بجائے پشاور موڑ پر جلسہ کرنے پر راضی ہوگئی ہے' حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین پرویز خٹک کاکہنا تھا کہ جے یو آئی ف اسلام آباد میں ایچ نائن کے اتوار بازار کے قریب گرائونڈ میں جلسہ کرے گی' حکومت اس جلسہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی' پرویزخٹک کے بقول رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ گرائونڈ سے آگے آئیں گے اور نہ ہی سڑکیں بند ہوں گی۔حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے دو د ور ناکام ہونے کے بعد تیسرے دور میں برف پگھلی ہے' اگرچہ اس سے قبل اپوزیشن4 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرچکی تھی' وزیراعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ سرفہرست تھا' فوج کے بغیر نئے انتخابات کا انعقاد' آئین کی اسلامی دفعات کا تحفظ ' سویلین بالادستی اور حکومت کی جانب سے آزادی مارچ میں خلل نہ ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے معاہدے سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ آزادی مارچ طویل نہیں ہوگا' آزادی مارچ کے قائدین کی طرف سے اگرچہ پرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب ہزاروں لاکھوں لوگ آمنے سامنے ہوتے ہیں تو معمولی سی اشتعال انگیزی بھی بڑے سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے' بڑے مجمع کو ڈنڈے کے زور پر کسی صورت کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے' نقصان سے بچنے کا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء کو قائدین سٹیج سے مسلسل ہدایات جاری کرکے پرامن رہنے کی تلقین کرتے رہیں۔حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلاوجہ آزادی مار چ کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کرے کیونکہ راستے بند ہونے کی بنا پر اشتعال انگیزی کے قوی امکانات ہوتے ہیں' اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو اپنے رویے میں نرمی لانا ہوگی اور کوئی بھی ایسا اقدام اٹھانے سے گریز کرناہوگا کہ جس سے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے امکانات محدود ہو جائیں' جب مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی طرف جارہے ہوں تو پھرگرفتاریوں کی طر ف نہیں جاناچاہیے لیکن حکومت نے گزشتہ روز دو ایسے فیصلے کیے ہیں جو مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔نادرا کی جانب سے جے یو آئی کے رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی شہریت منسوخ کرکے انہیں غیر ملکی قرار دیا گیا ہے' حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈاور پاسپورٹ ضبط کرتے ہوئے پیمرا نے انہیں ٹاک شوز میں بلانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ یاد رہے حافظ حمد اللہ کی شہریت ایسے وقت میں منسوخ کی گئی ہے جب آزادی مار چ کو شروع ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا حالانکہ حافظ حمد اللہ2002 ء سے 2006 ء تک صوبائی وزیر صحت رہے ،2012 سے 2018 تک ایوان بالامیں سینیٹر رہے ہیں جبکہ ان کے ایک صاحبزادے پاک آرمی میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہیں۔ اسی طرح جے یو آئی کے رہنمامفتی کفایت اللہ کو بھی تھری ایم پی او کے تحت گرفتارکرلیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ایک طرف تومفاہمت کا راستہ اختیار کرکے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے جبکہ دوسری طرف مزاحمت کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ حکومت اگر معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے تو پھر اسے دہرامعیار ختم کرکے خلوص نیت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر زور دینا ہوگا ، حکومت کوآزادی مارچ کے ضمن میں وقتی اقدامات اٹھانے کی بجائے انتہائی سوچ بچار کے بعد ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے جو ملک و قوم کے لئے سود مند ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں