Daily Mashriq

وزیر اعظم وزراء کے لب و لہجے کا نوٹس لیں

وزیر اعظم وزراء کے لب و لہجے کا نوٹس لیں

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو طبی بنیادوں پر عدالت سے ریلیف مل گیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں29 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے ۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مخالفت کرے تو درخواست مسترد کر دیتے ہیں لیکن پھر اگر سابق وزیراعظم کو کچھ ہوا تو عدالت نہیں حکومت ذمہ دارہوگی۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تسلیم کیا ہے کہ میاں نواز شریف کو معمولی ہارٹ اٹیک ہوا تھا جس کے باعث ان کی طبیعت مزید خراب ہوگئی تھی ،اب ان کی طبیعت میں بہتری آرہی ہے لیکن مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میاں نواز شریف کی بیماری کو دوسرا رنگ دینے کی اپنے تئیں کوشش کرتے ہوئے طنزاً کہا کہ میاں نواز شریف نہاری اور ہریسہ کھانے سے پرہیز نہیں کرتے۔ یاد رہے اس سے قبل میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کو بھی پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے بہانے سے تعبیر کیا گیا تھا لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد بیگم کلثوم نواز وفات پاگئی تھیں۔ ایک وقت تھا جب اخلاقی اقدار کا بھرپور خیال رکھا جاتا تھا اور اگرکوئی مخالف بھی بیمار ہو جاتا یا کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا تومشکل کی گھڑی میں دل آزاری تو کجا مخالف کا ساتھ دیا جاتا تھا' وزیراعظم عمران خان جب 2008کی الیکشن مہم کے دوران سٹیج سے گرکر زخمی ہوگئے تھے تو میاں نواز شریف خود چل کر ان کے پاس گئے اور ہسپتال میں ان کی عیادت کی تھی' اب وزیراعظم عمران خان کو ان کی بیماری کی شدت کامعلوم ہوا تو انہوں نے بھی میاں نوازشریف کی صحت کیلئے دعا کی' وزیراعظم عمران خان کا اپنے سیاسی حریف کیلئے یہ عمل یقیناً قابل ستائش ہے لیکن کیا وزیراعظم کے وزراء اور مشیرو ں کو ان اقدار پر عمل نہیںکرنا چاہیے؟کیا وزیراعظم اپنے وزراء اورمشیروں کی تلخ نوائی سے بے خبر ہیں؟وزیراعظم عمران خان کو اپنے ان وزراء کے لب ولہجے کا نوٹس ضرور لینا چاہئے جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش میں ان کیلئے سبکی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ محمود خان کے عوامی فلاحی اقدامات

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان کی جانب سے صوبے میں نئے کالجز اور ہسپتالوں کے قیام کامنصوبہ قابل ستائش ہے کیونکہ علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے' وزیراعلیٰ نے اس مقصد کیلئے مکمل شدہ نئی عمارتوں کومتعلقہ محکموں کے حوالے کرنے اور ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ عوامی مفاد کے تحت قائم اداروں میں خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔عوام کو صوبے میں علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں وزیراعلیٰ محمود خان کی کاوشوں اور اقدامات کا بنیادی فائدہ یہ ہوگا کہ وہ مریض جو علاج کیلئے اسلام آباد یا راولپنڈی کا رخ کرتے تھے ' اب انہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ صوبے میں ہی انہیں علاج کی تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کروڑوں اربوںروپے کی لاگت سے بہترین عمارتیں تو بن جاتی ہیں' ضرورت کے مطابق ان میں عملہ بھی تعینات کر دیا جاتا ہے لیکن اداروں کی کارکردگی اورعمارتوںکی دیکھ بھال کا کوئی معقول انتظام نہیں کیا جاتا' اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بہترین عمارت میں بیٹھنے والا عملہ اپنے آپ کو دیگر لوگوں کی نسبت برتر تصورکرتاہے اور یہ بھول جاتاہے کہ اس محکمہ کا بنیادی مقصد عوا م کی خدمت ہے' اس طرح قومی عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں کا نقصان ہو جاتاہے۔ من حیث القوم یہ ہمارا المیہ ہے ' قومی اثاثوں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہونی چاہیے کیونکہ اس کے اصل مالک بہرصورت عوام ہی ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں وزیراعلیٰ محمود خان جس طرح سے عوامی اور فلاحی منصوبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں وہ ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت کی بھی ہدایات جاری کریںگے۔

آٹا بحران کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت

پشاور میں آٹے کی ممکنہ قلت اور بحران کا تاحال کوئی حل سامنے نہیں آسکا ہے' ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آٹے' گندم اور فائن آٹے کی پشاور سے باہر منتقلی روکنے کے باوجود آٹے بحران کا سامناہے۔حقیقت یہ ہے کہ پشاور سے غیر قانونی طور پر منتقل ہوکر گندم اور آٹا پاکستان سے باہریعنی افغانستان چلا جاتاہے' کیونکہ پاکستان کی نسبت افغانستان میں اس آٹے یا گندم کے نرخ زیادہ ہوتے ہیں اس لئے تاجر اس غیر قانونی کاروبار کے ذریعے اپنی جیبیں بھر کر صوبے کے عوام کو مشکل میں ڈالنے کاذریعہ بنتے ہیں' صوبے میں جب گندم اور آٹے کے دام بڑھ جاتے ہیں تو نان بائیوں کیلئے روٹی کی قیمت برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے' اس طرح چند تاجروں کی ہوس کی وجہ سے پورے صوبے کو مشکلات کاسامناکرنا پڑتاہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ حقیقت میں پاکستان کو گندم کے بحران کا سامنا نہیں ہے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جبکہ زیادہ گندم پیداکرنے والے دس ممالک میں پاکستان کا شمار ہوتا ہے، بعض اوقات صوبوں کو معمولی بحران کا سامنا ہوتاہے تو پنجاب یا سندھ سے ایک طریقہ کار کے تحت اس کمی کو پورا کر دیا جاتا ہے جوزیادہ تر ان ایام میں ہوتا ہے جب نئی فصل پکنے کے قریب ہو اور پرانا ذخیرہ ختم ہو جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آئے روز پشاور اور خیبرپختونخوا کو گندم یا آٹا بحران کا سامنا ہوتاہے خیبرپختونخوا کا آٹا بحران اگر واقعی حقیقی ہے تو پھربلوچستان میں زیادہ بحران ہونا چاہئے کیونکہ خیبرپختونخوا کی نسبت بلوچستان میں گندم کی پیداوار بہت کم ہوتی ہے۔ یہ کوئی مخفی بات نہیں کہ پشاور سے افغانستان گندم سمگلنگ کا دھندہ بہت پرانا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اس کا مستقل سدباب نہیں کیا جاسکا ہے' ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گندم کی سمگلنگ کے روایتی اور نمائشی طریقوں سے ہٹ کر کوئی ٹھوس میکنزم بنایا جائے اور یہ کام وفاقی حکومت کی سرپرستی میں بڑے تاجروںکے سٹوروں میں موجود گندم اورافغانستا ن کے خفیہ راستوں پر کڑی نگرانی سے ہی ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں