Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت شعبی کہتے ہیں مہرجان کی فتح میں حضرت سائب شریک ہوئے تھے وہ ہُرمُز ان کے محل میں داخل ہوئے تو انہیں وہاں پتھر اور چونے کی ہرنی نظر آئی جس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا وہ کہنے لگے میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ کسی قیمتی خزانے کی طرف اشارہ کر رہی ہے انہوں نے اس جگہ کو دیکھا تو انہیں وہاں ہُرمُز کا خزانہ مل گیا جس میں بہت قیمتی جواہرات والی تھیلی بھی تھی ۔

(حیاةالصحابہ )

حضرت عبدالرحمن بن یزید بن جابر کہتے ہیں حضرت ابو اُما مہ کی ایک باندی ( جو پہلے عیسائی تھیں انہوں ) نے مجھے یہ واقعہ بیان کیا کہ حضرت ابو اما مہ کو دوسروں پر خرچ کرنا بہت پسند تھا اور وہ اس کے لئے مال جمع کیا کرتے تھے اور کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتے تھے اور کچھ نہ ہوتا تو ایک پیاز یا ایک کھجور یا کھانے کی کوئی چیز ہی دے دیتے ایک دن ایک سائل ان کے پاس آیا اس وقت ان کے پاس ان میں سے کوئی چیز نہیں تھی صرف تین دینار تھے ۔اس سائل نے مانگا تو ایک دینار اسے دے دیا پھر دوسرا آیا تو ایک دینار اسے دے دیا پھر تیسرا آیا تو ایک اسے دے دیا جب تینوں دے دیئے تو مجھے غصہ آگیا میں نے کہا آپ نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ پھر وہ دوپہر کو آرام کرنے لیٹ گئے جب ظہر کی اذان ہوئی تو میں نے انہیں اٹھا یا۔ وہ وضو کر کے اپنی مسجد چلے گئے چونکہ ان کا روزہ تھا اس لئے مجھے ان پر ترس آگیا اور میرا غصہ اتر گیا پھر میں نے قرض لے کر ان کے لئے رات کا کھانا تیار کیا اور شام کو ان کے لئے چراغ بھی جلایا پھر میں چراغ ٹھیک کرنے کے لئے ان کے بستر کے پاس گئی اور بستر اٹھایا تو اس کے نیچے سونے کے دینار رکھے ہوئے تھے۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پورے تین سو تھے۔ میں نے کہا چونکہ اتنے دینار رکھے ہوئے تھے اس وجہ سے انہوں نے تین دینار کی سخاوت کی ہے پھر وہ عشاء کے بعد گھر واپس آئے تو دستر خوان اور چراغ دیکھ کر مسکرائے اور کہنے لگے معلوم ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ کے ہاں سے آیا ہے (کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ گھر میں کچھ بھی نہیں تھا اس لئے نہ کھانا ہوگا نہ چراغ )میں نے کھڑے ہو کر انہیں کھانا کھلایا پھر میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اتنے سارے دینار یوں ہی چھوڑ گئے جہاں سے ان کے گم ہونے کا خطرہ تھا مجھے بتایا ہی نہیں کہ اٹھا کر رکھ لیتی۔ کہنے لگے کونسے دینار؟ میں تو کچھ بھی نہیں چھوڑ کر گیا۔ پھر میں نے بستر اٹھا کر انہیں دینار دکھائے دیکھ کر وہ خوش بھی ہوئے اور بہت حیران بھی ہوئے ( کہ اللہ نے اپنے غیبی خزانے سے عطا فرمائے ہیں )یہ دیکھ کر میں بھی بہت متاثر ہوئی اور میں نے کھڑے ہو کر زنار کاٹ ڈالا (زنار اس دھاگے یا زنجیر کوکہتے ہیں جسے عیسائی کمر میں باندھتے تھے ) اور مسلمان ہوگئی ۔حضرت ابن جابر کہتے ہیں میں نے اس باندی کو حمص کی مسجد میں دیکھا کہ وہ عورتوں کو قرآن ، فرائض اور سنتیں سکھارہی تھی اور دین کی باتیں سمجھا رہی تھی ۔ (حیاةالصحابہ )

متعلقہ خبریں