Daily Mashriq

فلاحی ریاست کا غلط تصور

فلاحی ریاست کا غلط تصور

ریاست کے بنیادی تصور میں ریاست کا کردار ایک دینے والے کا ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے اس تصور کو خاصا سنجیدگی سے لے لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے شروع کیا جانے والا لنگر پروگرام اسی سنجیدگی کی ایک مثال ہے ۔ مگر فلاحی ریاستوں کے جدید تصور کے مطابق حکومتوں کا کام خیراتی اداروں کو زیر انصرام لینا نہیں بلکہ ایسی معاشی اور معاشرتی پالیسیوں کی تشکیل ہوتا ہے جس کا فائدہ براہ راست غریب عوام تک پہنچے۔ یہ کام وسائل کی مساوی تقسیم سے لے کر مناسب فنڈز کی فراہمی تک پر مشتمل ہے جس کے ذریعے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ 

کوئی بھی حکومت اپنی ریاست کو فلاحی بنانے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے، اس کا اندازہ اس حکومت کے خیراتی اقدامات سے نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی ضرورتوں کے بارے پالیسی سازی اور اخراجات کے تقابل سے لگایا جاتا ہے۔ ایک ہمہ گیر ،مساوی اور مؤثر معاشی پالیسی کے نہ ہونے کا نتیجہ صرف اور صرف غربت اور خیرات کے مستحق لوگوں میں اضافہ کی صورت ہی نکلتا ہے۔ موجودہ معاشی صورتحال میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ بنیادوں پر چالیس لاکھ خیرات کے مستحق لوگوں میں اضافہ دیکھنے میں آتاہے جس میں سے 67فیصد کا تعلق دیہات سے ہوتا ہے۔ حکومت کے لنگر پروگرام صرف ڈیرھ لاکھ لوگوں کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے قابل ہیں اور وہ بھی صرف اور صرف مرکزی شہروں میں۔ اب ان لاکھوں لوگوں کا کیا بنے گا جو شہروں سے پرے بھوک اور غربت کا شکار ہیں؟ویسے بھی یہ لنگر پروگرام جس تیزی سے وسیع ہو رہا ہے ہماری ملکی معیشت اسی تیزی سے تنزلی کا شکار ہے۔

2.6فیصد شرح نمو کے ساتھ ہماری فی کس آمدن سال 2018 کے آغاز میں ہی 1650ڈالر سے کم ہو کر 1500ڈالر رہ گئی ہے اور دگر گوں معاشی حالات اس فی کس آمد ن میں مزید کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاکستانی معیشت کو زمین بوس ہونے سے بچانے کے لیے ہمیں سالانہ بنیادوں پر کم از کم 4.5فیصد کے حساب سے ترقی کرنا ہوگی اور بادی النظر میں حکومت کے پاس اس تباہی سے بچنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں۔ معاشی ترقی تو ایک طرف یہاں تو حکومت اپنی غلط پالیسی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے کے لیے بھی سنجیدہ نظر نہیںآرہی۔ دگرگوں معاشی حالات کے ساتھ کوئی بھی ملک اس سرمایہ دارانہ نظام میں فلاحی ریاست نہیں بن سکتا۔سماجی بہتری کے پروگراموں پر خرچ کی جانے والی رقم معاشی ترقی سے ہی کشید ہوتی ہے ۔ جہاں معیشت ہی نازک صورتحال سے گزر رہی ہو وہاں مجموعی اقتصادی سوچ سادگی اپنانے اور خرچے گھٹانے کے گرد گھومنے لگتی ہے اور ایسی صورتحال میں فلاحی منصوبوں کو بند کرناپہلا فطری پالیسی رد عمل ہوتا ہے۔

جنگ عظیم دوم کے بعدفلاحی ریاست کا قیام دنیا بھر کی ترقی یافتہ سرمایہ دار معیشتوں کا بنیادی سماجی پالیسی ایجنڈا بن گیا تھا۔ سرمایہ دار معیشتیں در حقیقت فلاحی ریاست کے اصل تصور سے خاصی نالاں ہیں۔ مگر ان کا اپنے ملک میں فلاحی منصوبوں پر خرچ کرنے کا اصل مقصدعوام کی توجہ اپنے سیاسی اور معاشی متبادل نظاموںسے ہٹانا ہوتا ہے۔ وہ اس کے ذریعے ملک میں سیاسی طور پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کے اختتام کے بعد فلاحی ریاست کا سیاسی طلسم ٹوٹ چکا تھاکہ اس وقت سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی اور سماجی متبادل نظام اپنی وقعت اور شہرت کھو چکے تھے۔ البتہ آج بھی چین میں فلاحی ریاست کے تصور کی بنیاد سوشلسٹ نظام معیشت پر ہی ہے اور یہ مغرب کے فلاحی ریاست کے نظریے کے بالکل متصادم ہے۔

یہاں ایک عجیب اور مضحکہ خیز بات ملاحظہ ہوکہ پی ٹی آئی نے فلاحی ریاست کے لیے جو سماجی پالیسیاں اپنا رکھی ہیں وہ کئی متضاد اور متصادم نظریات کا ملغوبہ ہیں۔ یہاں آپ کو چین کے سوشلسٹ نظام، ایسکینڈی نیویائی ممالک کا سرمایہ دارانہ نظا م اور اعتقاد پرمبنی خیراتی فلاحی ریاست کا مجموعہ اضداد دیکھنے کو ملے گا۔ یہ تینوں نظام اکھٹے نہیں چلائے جاسکتے کہ یہ اپنی روح سے ہی ایک دوجے سے مختلف اور متضاد ہیں۔

تاریخی طورپر پاکستان نے وہی نظام اور معاشی پالیسیاں اپنائی ہیں جنہیں عالمی مالی اداروں نے اپنی امداد کے حصول کے لیے ہمارے لیے شرط قرار دیا تھا۔ اور اب بھی پاکستان وہی کرے گا جو آئی ایم ایف نے ہمارے لیے طے کر رکھا ہے تا کہ ہم اتنی آمدن پیدا کر سکیں کہ ان کے قرض واپس کیے جا سکیں۔ عنقریب وہ وقت آنے کو ہے جب ہمارے پاس فلاحی پروگراموں پر خرچ کرنے کو کوئی رقم نہ بچے گی کہ معاشی حالات ابھی سے ابتری کی جانب جا رہے ہیں اور حکومت اس وقت شدید دباو کا شکار ہے ۔ یہ دبائو اسے فلاحی منصوبوں پر رقم خرچ کرنے سے معذور کر دے گا۔ ستم ظریفی یہ کہ ہمارے وزیر اعظم اپنی فلاحی ریاست کے تصور پرکسی آمر کی مانند نظر ثانی کرنے کو بھی تیار نہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے سیاسی اور معاشی نظام کو از سر نو تشکیل دے کہ صرف اسی صورت میں ہم چین کی طرح اپنے ملک کے غربت کا خاتمہ کر سکیں گے۔

ہمارے وزیر اعظم صاحب کی ایک بات اچھی ہے کہ وہ جب بھی کسی غیر ملکی دورے سے لوٹتے ہیں تو وہاں کے نظام کی تعریفوںکے پل باندھتے نہیں تھکتے۔وہ اسلامی نظام کے پرچارک تو ہیں ہی البتہ اس کے ساتھ وہ بیک وقت چین، اسکینڈی نیویائی ممالک اور انڈونیشیا میں رائج نظام سے بھی دلی طور پر متاثر نظر آتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی نظام سے متاثرہونا ایک اچھی بات ہے البتہ اس نظام پر سوچے سمجھے اور مناسب معلومات کے بغیر عمل شروع کر دینا خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے۔

( بشکریہ دی نیوز۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں