Daily Mashriq

بھارت ہندو توا سوچ کا قیدی

بھارت ہندو توا سوچ کا قیدی

حکومت پاکستان نے نو نومبر کو کرتار پور ہ راہداری کھولنے اور دنیا بھر کے سکھوں کو گوردوارے کی یاترا اور عبادت کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔کرتارپورہ دنیا بھر میں سکھوں کا سب سے بڑا گوردوارہ اور مقدس مقام ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے سکھوں کے لئے اپنے دروازے کھولنے جا رہا ہے ۔بھارتی مسلمانوں کی طرح سکھ بھی اس وقت دیوار سے لگائی جانے والی اقلیت ہے ۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بعدانتہا پسند ہندئوں کے نشانے پر تیسری قوم کا نام سکھ ہے۔سکھوں کے لیڈر ماسٹرا تارہ سنگھ نے تقسیم ہند کے وقت اپنا وزن کانگریس کے پلڑے میں ڈال کر جہاں متحدہ پنجاب کی تقسیم کی راہ ہموار کی وہیں سکھوں نے مسلمانوں کا قتل عام اور جوابی ردعمل کا شکار ہو کر ہندو انتہاپسندی کے لئے اگلے مورچے کا کردار ادا کیا ۔سکھوں کو استعمال کرنے کے بعد رفتہ رفتہ ہندواکثریت نے دیوار سے لگانا شروع کیا ۔مسلمانوں کا جرم تو پاکستان بنانا تھا مگر سکھوں نے تو پوری طرح کانگریس اور ہندئو وں کی حمایت میں اپنا زور بازو صرف کیا تھا انہیں تنہا کرنے کی وجہ کیا تھی؟۔اس کی واحد وجہ ہندو مائنڈ سیٹ تھا جس میں دوسرے مذاہب اور اقلیتوں کے لئے صرف اسی صورت میں گنجائش نکل سکتی تھی کہ اگر وہ ہندو سماج کا حصہ بن جائیں۔اپنی انفرادیت برقرار رکھنے اور سر اُٹھا کر چلنے پر اصرار اس مائنڈ سیٹ کو قبول نہیں تھا ۔سکھوں کے ساتھ ناانصافیوں نے اسی کی دہائی میں خالصتان تحریک کی صورت میں ایک مقبول نعرے اور تحریک کا روپ دھارا۔اندراگاندھی نے سکھوں کی سیاسی جماعت اکالی دل کا زور توڑنے کے لئے پہلے پہل اس نعرے کی حمایت کی اور اس تحریک کے مقبول کردار سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی مدد کی مگر جب یہ تحریک خالصتان کے نام سے الگ وطن کے مطالبے کی شکل اختیار کر گئی تو ہندو انتہا پسندوں نے اسے نشانے پر رکھ لیا ۔1984میںاندراگاندھی نے بدنامِ زمانہ آپریشن بلیو سٹار کے ذریعے دربار صاحب امرتسر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔بھنڈرانوالہ سمیت ہزاروں افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا ۔اس کے کچھ ہی عرصہ بعدسکھ محافظوں نے اندرا گاندھی کو قتل کیا۔جس کے جواب میں ہندئووں نے ہزاروں سکھوں کو قتل کیا ،ہزاروں سکھ عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں اور گھروں اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا۔سکھوں اور ہندئووں میں پہلی بار سماجی اور سیاسی سطح پر ایک دراڑ اُبھر آئی۔لاکھوںسکھوں نے مغربی اور یورپی ملکوں میںسیاسی پناہ حاصل کی ۔پاکستان کے تعاون سے بھارت نے سکھو ں کی مسلح تحریک پر کنٹرول حاصل کیا مگر سکھوں کے دلوں میں بھڑکے ہوئے جذبات سرد نہ ہوسکے ۔کینیڈا،برطانیہ اور امریکہ میں مقیم سکھوں نے خالصتان تحریک کی جدوجہد تیز کی۔جس کی وجہ سے بھارتی حکومت اور ریاست میں ان کے لئے گنجائش مزید سکڑ کر رہ گئی۔پاکستان نے سکھوں کے ساتھ بھارتی ریاست کے اس سلوک کو بروقت بھانپ کر تاریخ میں دبی تلخیوں کو کم کرنے اور سکھوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ا ن کے مقدس مقامات اور گورداروں کی حفاظت کا موثر نظام تشکیل دیا اور سکھ یاتریوں کے لئے دیدہ ٔ دل فرش راہ کئے ۔کرتار پورہ راہداری کا کھولاجانا تعلق اور تعاون کے اس سفر کا سنگ میل ہے۔ موجودہ حالات میںمسلمانوں کے درپۂ آزارنریندر مودی کو سکھ کمیونٹی کا پاکستان کے ساتھ راہ ورسم ایک آنکھ نہیں بھاتا کیونکہ مودی کو اندازہ ہے کہ یہ عمل بھارت میں سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلق اور تعاون کو مزید مضبوط کرنے کا باعث ہوگا۔ایسی صورت حال میں پاکستان کو زیادہ تندہی سے سکھوں کو قریب لانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔دونوں کی قربت خطے کی سیاسی اور سماجی حرکیات کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔کرتار پورہ راہداری کے بعد بھی تعلق اور تعاون کا یہ سفر جاری رہنا چاہئے ۔نریندر مودی ہندو توا کی مقبولیت کی لہر پر سوار ہو کر پورے خطے میں اس سوچ اور نظریے کو بالادست بنانا چاہتا ہے ۔حقیقت میں یہ آگ کا کھیل ہے ۔ہندو توا کی سوچ میں بھارت کو بہت سی وفادار اور دوستانہ سوچوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں ۔اس سوچ میں کسی دوسرے کو ساتھ لے کر چلنے اور اپنے اندر سمونے کی صلاحیت ہی نہیں کیونکہ اس کا خمیر ہی نفرت سے اُٹھا ہے۔اسی طرح سکھوں کا بھی اس سوچ کا تادیر ساتھ دینا ممکن نہیں ۔سکھ پہلے ہی ماضی کے تلخ واقعات کے اسیر بنا کر رکھ دئیے گئے ہیں اور ہندو توا کی سوچ ان کے احساس تنہائی کو بڑھا رہی ہے ۔بھارت سے باہر بنگلہ دیش جیسا تابع مہمل ہمسایہ بھی تادیر اس سخت گیر ہندو سوچ کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔اس کااظہار بنگلہ دیش میں ہونے والے بھارت مخالف مظاہروں،کشمیر حمایت ریلیوں کے بعد دونوں طرف کی سیکورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی فلیگ میٹنگ میں ہونے والا مسلح تصادم ہے جس میں بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کے کئی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔مغربی بنگال سے بے دخل اور شہریت سے محروم کئے جانے والے لوگوں کو مسئلہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل وجہ نزع بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس طرح بھارت خود اپنی سخت گیر سوچ کے ہاتھوں حالات کا قیدی بن رہا ہے ۔اس ماحول میں پاکستان اپنے کارڈز مہارت اور صلاحیت کے ساتھ کھیلے تواس صنم خانے سے کعبے کو کئی نئے پاسباں میسر آسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں