Daily Mashriq

روٹی' آٹے' گندم کے درمیان پھنسے ہوئے عوام

روٹی' آٹے' گندم کے درمیان پھنسے ہوئے عوام

بابا آدم شیطان کے بہکاوے میں آکر خمار گندم میں مبتلا نہ ہوتے تو جنت سے کیوں نکالے جاتے وہ دن اور آج کادن ( یہ دن قیامت تک کے لئے ہے) حضرت انسان اسی گندم کے چکر میں پڑا ہوا ہے یوں کہ وہ اپنے ہی ہم جنسوں کو گندم اور آٹے کے بحران میں مبتلا کرکے اپنی تجوریاں بھرتا ہے' اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ اس بحرانی کیفیت سے دوسروں کو بعض اوقات بھوک کی انتہائی خطرناک کیفیت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے' دنیا بھر میں گندم اور اس کے بائی پراڈکٹ کی حکمرانی ہے جن قوموں کے پاس گندم کی وافر مقدار ہوتی ہے وہ دوسروں کا استحصال کرتے ہیں' بعض افریقی ممالک میں خوراک کی کمی سے جو انسانی المئے جنم لیتے رہے ہیں بلکہ اب بھی کئی ممالک میں گندم کی جگہ بھوک اگتی ہے۔ ایک دور تھا جب پاکستان کو امریکہ سے پی ایل 480 معاہدے کے تحت گندم کا تحفہ ملتا تھا اس وقت پاکستان میں ملکی ضرورت کے مطابق گندم پیدا نہیں ہوتی تھی۔ اب اگرچہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ پاکستان میں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے مگر غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے گندم اور آٹے کے بحران جنم لے لیتے ہیں۔ چند برس ادھر کی بات ہے کہ بڑے صوبے نے خیبر پختونخوا کے لئے گندم کی فراہمی پر پابندی لگا کر یہاں آٹے کا شدید بحران پیدا کردیا تھا' حکم یہ صادر کردیا تھا کہ صوبہ اپنی ضرورت کے مطابق آٹا پرمٹوں پر منگوا سکتا ہے جس سے صوبے کی فلور انڈسٹری بند ہوگئی تھی جبکہ آٹا اور میدہ بھی ضرورت کے مطابق نہیں ملتا تھا۔ اس دور میں دونوں صوبوں کی حدود جہاں جہاں ملتے تھے وہاں بڑے صوبے والوں نے نگرانی کے عمل کو سخت کرکے اپنی ضرورت کے لئے پانچ کلو آٹا لانے تک پر پابندی لگا کر کسی کے ہاتھ میں آٹے کے تھیلے دیکھ کر ان سے یہ آٹا چھیننے کی ''کارستانیوں'' کو لاگو کردیا تھا' حالانکہ یہ نہ صرف آئین کی صریح خلاف ورزی تھی بلکہ انسانی اور اخلاقی طور پر بھی قابل مذمت حرکت تھی مگر صوبائی حکومت کی جانب سے بار بار احتجاج کے باوجود بڑے صوبے کی حکومت تو خیر کیا شرمندہ ہوتی' وفاقی حکومت بھی آنکھیں بند کئے ہوئے خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس زیادتی پر خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایسی ہی صورتحال پر مرحوم طہٰ خان نے یوں تبصرہ کیا تھا

روٹیوں کی فکر میں پھرتا ہوں میں تو در بدر

آج کل ملنے مجھے آیا نہ کر جانِ جگر

بلبلا اٹھتا ہوں میں ہوتا ہے دل زیر و زبر

بھوک لگتی ہے ترے گالوں کے کلچے دیکھ کر

بحران ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے بلکہ دستک سنائی بھی دے رہی ہے کیونکہ حکومت نے فائن آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ گندم کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا۔ ادھر پشاور میں آٹے کی ممکنہ قلت کے خدشے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے بھی آٹے' گندم اور فائن آٹے کی پشاور سے باہر منتقلی پر پابندی عائد کردی ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ پشاور میں آٹے کے بحران کے حوالے سے گزشتہ کچھ دنوں سے متعلقہ حلقے خدشات ظاہر کرتے آرہے ہیں۔ صوبے میں مبینہ طور پر گندم ضرورت کے مطابق موجود نہ ہونے کی وجہ سے فلور انڈسٹری ایک بار پھر مشکلات سے دوچار ہونے کی خبریں سامنے آنے کے بعد اگرچہ ایک حکومتی اعلیٰ شخصیت نے صوبے کے پاس گندم ضرورت کے مطابق موجود ہونے کا بیان بھی دیا تھا مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض طفل تسلی تھی کیونکہ اگر صورتحال تشویشناک نہ ہوتی تو پھر ضلعی حدود سے گندم اور آٹے کے باہر لے جانے پر پابندی کیوں لگائی جاتی۔ ادھر پنجاب نے بھی ایک بار پھر چند برس پرانا وتیرہ تازہ کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کو گندم کی خریداری کی راہ کھوٹی کرنی شروع کردی ہے جس سے بحران شدید ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ تاہم اس ساری صورتحال میں قابل تشویش بات یہ ہے کہ پنجاب سے خیبر پختونخوا کو گندم خریدنے پر تو پابندی لگا دی جاتی ہے مگر ہمسایہ ملک کو گندم اور آٹے کی سپلائی کے لئے باقاعدگی سے پرمٹ جاری کئے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ اس ضمن میں دو نمبری یہ ہوتی ہے کہ جہاں جہاں ناکوں پر نگرانی کاعمل جاری رہتا ہے وہاں موجود عملے میں ایسی کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں جو مٹھی گرم کرتے ہوئے ایک ایک پرمٹ پر کئی کئی ٹرک ''پار'' کرا دیتے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کے بدعنوان افراد کو روکا جائے اور عوام کا حق چھیننے کی یہ کوششیں ختم کرنے پر توجہ دی جائے۔

ایک جانب گندم اور آٹے کا بحران سامنے دکھائی دے رہا ہے اس پر مستزاد پشاور کے نانبائیوں نے آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے از خود روٹی کی قیمت بڑھانے کا اعلان کردیا ہے۔ نانبائیوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں معاہدے کے تحت مقررہ نرخوں پر آٹا فراہم کیا جائے۔ چونکہ اب تک انہیں لاکھوں کا نقصان ہوچکا ہے اس لئے وہ مجبور ہیں کہ روٹی کے نئے نرخ اپنی مرضی سے مقرر کردیں۔ یہ صورتحال کس نہج پر پہنچے گی اس حوالے سے عوام بے چارے کیا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی حیثیت تو مردہ بدست زندہ ہے۔ البتہ اگر نانبائیوں کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو یا تو وہ از خود نرخ مقرر کرکے ایک بحران پیدا کرسکتے ہیں یا پھر روٹی کا وزن کم کرکے بقول طہٰ خان ٹیڈی روٹی سپلائی کریں گے۔

نہ جانے اس پہ کتنے اختصاری دور گزرے ہیں

بچاری ہر زمانے میں یہ چھوٹی ہوتی آئی ہے

بھلا یہ کھانے والے کے شکم تک کیسے پہنچے گی

پشاور شہر کی روٹی تو اب نان خطائی ہے

متعلقہ خبریں