Daily Mashriq

نظریہ ضرورت

نظریہ ضرورت

الدین کے والدین نے قاتلوں کو خدا کے واسطے معاف کردیا ہماری عدالتوں نے مان لیا اور اب سانحہ ساہیوال جس میں بچوں کے سامنے ماں باپ کا قتل ہوا مگر کوئی بھی پولیس اہلکار مجرم ثابت نہ ہوسکا زخمی گواہان بھی مجرم کو نہ پہچان سکے اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ میںبھی ملزمان کی شناخت نہ ہو سکی لہٰذ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تمام کے تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا۔آج سے تقریباً نوماہ پہلے 19جنوری 2019ء کو ساہیوال کے قریب ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے ایک ہی خاندان کی دوخواتین سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ دہشت گردتھے۔جب واقعہ ہوا تو وفاقی وزراء جن میں داخلہ کے وزیر مملکت شہر یا رآفریدی بھی شامل تھے بڑے زور و شور سے انصاف کے حامی تھے ابھی عدالت کے فیصلے کے بعد ان کا موقف نہیں آیا، اگر آبھی گیا تو وہ عدالت کے خلاف تھوڑے ہی جائیں گے۔ تاہم پنجاب حکومت کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کے خلاف عدالت میں جائیں گے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نیازی کے ترجمان بھی عدالتی فیصلے سے خوش و مطمئن نہیں۔صوبائی اوروفاقی حکومتیں یہ مانتی ہیں کہ یہ فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں اور لواحقین نے دبائو میں آکر فیصلہ قبول کیا ہے۔ ہم سنتے آئے تھے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے ، یہ پٹی اس لئے تھی کہ کہیں کوئی فیصلہ کرنے والا اپنے پرائے کی حمایت نہ کردے اسے آدمی نظر نہیں آئے ،اسے نظر آئے تو صرف جرم اور جرم کے مطابق مجرم کو سزا ملے گی لیکن ہمارے یہاں یہ پٹی ایسی لگی کہ انصاف کو کچھ بھی نظر نہیں آرہا ۔صرف اور صرف طاقت ور کو نظر آرہا اور وہ جو چاہتا ہے اپنی مرضی کا فیصلہ کروارہا ہے۔ مگر ماضی قریب میں ایک من چلے چیف جسٹس نے یہ پٹی ہٹادی تھی۔ تب انصاف کو بالکل صاف صاف نظر آرہا تھا اس نے فوجی حکمران کی ہر صحیح و غلط بات پر یس سر کرنے والی روایت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کرنے کی اپنی سی کوشش کی تھی۔ سابق جنرل کی سوچ کے مطابق ایسی صورت میں کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لئے کی جانے والی غیر جمہوری ، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر قانونی ڈیل بھی نہیں کرنی پڑے گی، قومی مفاہمت آرڈیننس کو یا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قوم کے وسیع تر مفاد میں دفن کردیا جائے یا پھر اس آرڑیننس سے قومی اور مفاہمتی ہٹادیا جائے۔ فائدہ تو ہوگا مگرسیاسی پارٹی کو نہیں بلکہ پارٹی بدلنے والے بلکہ چینی اور آٹا بلیک کرنے والوں کو۔فائدہ کسی کا بھی ہو نقصان صرف اور صرف ہمارا اور آپ کا ہے دولت قوم کی لوٹی جارہی ہے۔ پسیں گے تو بیچارے عوام ۔ عوام کو ہر دن ہر رات دبایا جارہا ہے مزید دبایا جارہا ہے کبھی مہنگائی سے کبھی دہشت گردی سے اور کبھی لوڈشیڈنگ وغیرہ سے۔پرویز مشرف کے دور میںسیاست دان ایک جنرل کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کے نشے سے چور عدالتوں پر دبائو ڈالتے رہے اپنے باربار کے بیانات سے عدالت کو کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہ آیا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لہٰذہ عدالتیں حسب روایت نظریہ ضرورت کے جیسا ہی فیصلہ دیں، عدالتوں کو حکمرانوں کی مرضی کے فیصلوں کی طرف دھکیلا گیا۔ اس وقت کی نام نہاد اپوزیشن والے اور بالخصوص پرویز مشرف کے سابقہ حمایتی ایم ایم اے( متحدہ مجلس عمل) والے صدر کے اس وعدے پر بھی اعتبار کرنے کے لئے راضی نہیں ان کا کہنا تھے کہ سترہویں ترمیم کے وقت بھی ان کے ساتھ اسی طرح کا وعدہ کیا گیا مگر بعد میں پرویز مشرف صاف مکر گئے اب کی بار بھی یہ سیاسی بیان سے زیادہ کچھ نہیں یا یہ کہا جائے کہ ایک قسم کی گیدڑ بھبکی ہے،وہ بار بارپاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن شہید بے نظیر بھٹو کو کہتے رہے کہ بی بی خدارا جنرل کے کسی وعدے پر اعتبار نہ کریں انہوں نے ہمارے ساتھ بھی وشواس گھات کیا ہے ہم سے ٹھیک ہماری طرح کا سلوک کیا کہ جیسے ہم نے عوام کو دھوکہ دے کر اسلام کے نام پر شریعت کے نفاز کی خاطر ووٹ لیا اور پھر بھول گئے جنرل بھی ووٹ لینے کے بعد وردی اتارنے کا وعدہ بھول گئے ہیں۔

مولویوں کی طرح سابق جنرل کی حکومت تو ختم ہوگئی اس دور میں بھگوان داس کی کیس کی سنوائی بھی کی اور فیصلہ عوام کی امیدوں پر پورا اترا یا نہیں یا پھر خدا، بھگوان یا اﷲتعالیٰ ہی فیصلہ سنائے گا، آئیے انتظار کرتے ہیں، ہم بھی اس دن کے انتظار میں ہیں آپ بھی ہماری صف میں کھڑے ہوجائیں ، ہمیں امید ہے اور امید رکھنی بھی چاہئے کہ اچھے دن ضرور آئیں گے یہی ہمارا ایمان ہے اور اگر ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کو اپنے زور بازوپر اتنا ہی زور ہے تو پھر قدرت اپنا کام کرے گی، ہماری عدالتوں نے ہمارے سپریم کورٹ نے فیصلہ نہیں دیا یا سچ کا ساتھ نہ دیا تو پھر قدرت اپنا فیصلہ سنائے گی ، وہ نہ صرف سب کے لئے قابل قبول ہوگا بلکہ آئندہ نسلوں تک کو یاد رہے گا۔

متعلقہ خبریں