Daily Mashriq

شاہد حیات اورکراچی کا امن

شاہد حیات اورکراچی کا امن

سماج میںعام طورپر پولیس کی کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں،عوام کی طرف سے پولیس کی کارکردگی پر اٹھائے جانے والے اعتراضات بلاوجہ نہیں ہیں ،یہی وجہ ہے کہ پولیس کے ایماندارآفیسر بھی اپنی خدمات اوراعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر خراج تحسین سے محروم رہتے لیکن کچھ نام ایسے ہوتے ہیں ان کی تعریف وتوصیف کیا اپنے اورکیا پرائے سبھی کرتے ہیں،بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مخالفین بھی ایسے بہادر وجری پولیس افسران کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔شاہد حیات کا نام بہادر اور ایماندار پولیس افسران میں نمایاں طورپرلیا جاتا ہے ،عام عوام کو اس کااندازہ اس وقت ہوا جب گزشتہ دنوں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ڈیرہ اسماعیل خان ،خیبرپختونخوا کے سپوت شاہدحیات کی قیام امن کیلئے خدمات سے پورا پاکستان آگاہ ہے ،جب کراچی میں چوری ڈکیتی اور وارداتیں معمول بن گئی تھیں اور بھتہ خوری سے کراچی کا امن غارت ہو کر رہ گیا ہے تب شاہدحیات ہی تھے جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت سے نہ صرف کراچی کا امن لوٹایا بلکہ اپنے محکمہ کا نام بھی روشن کیا ۔ 

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے والے ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات اپنی 25 برس سرکاری ملازمت کے دوران دو مرتبہ موت کے منہ سے بچ نکلے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ شاہد حیات نے پروونشل سول سروس کا امتحان پاس کرکے 1988ء میں خیبر پختونخوا میں سول جج کی حیثیت سے سرکاری ملازمت کا آغاز کیا تھا۔ 1989ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور 1991ء میں باقاعدہ طور پر سول سروس جوائن کی۔ 1992ء میں اے ایس پی کی حیثیت سے لاہور میں پولیس سروس کی پہلی تعیناتی حاصل کی۔ 1993ء میں اقوام متحدہ کے مشن پر منتخب ہوکر بیرون ملک چلے گئے۔ جہاں سے واپسی پر 1995ء میں جب کراچی میں لاقانونیت اور پولیس آپریشن عروج پر تھا انہیں شہر کے انتہائی خطرناک ترین علاقے پاک کالونی میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ اس دوران دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان پر حملہ کیا گیا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ گولی ان کے چہرے پر لگی اور ایک ماہ تک نجی اسپتال میں علاج کے بعد واپس اسی علاقے میں اپنے فرائض منصبی انجام دیئے۔

1997ء میں سابق وزیراعظم کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کی موت کا سبب بننے والے پولیس ایکشن کے دوران انہیں پھر گولی لگی، تاہم نجی اسپتال میں کافی عرصہ زیر علاج رہنے کے بعد انہیں میر مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں دیگر پولیس افسران کے ساتھ گرفتار کیا گیا اور ہسپتال میں صحت یاب ہونے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ لگ بھگ پونے تین سال جیل کاٹنے کے بعد انہیں دوبارہ کراچی میں سب ڈویژنل پولیس آفیسر صدر تعینات کیا گیا۔ جس کے بعد انہیں ایس پی ٹھٹھہ مقرر کیا گیا۔ ٹھٹھہ میں تعیناتی کے دوران انہوں نے اپنے مخصوص طرز کی پیشہ ورانہ خدمات کے دوران الیکشن مہم میں ایک سیاسی جماعت کے کہنے پر مخالف جماعت کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا تو اس پاداش میں ان کا پھر تبادلہ کردیا گیا۔ جس کے بعد وہ کراچی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ، اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ بھی تعینات رہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے شاہد حیات نے ایف آئی اے میں بھی ڈپٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ انہیں پہلے گریڈ 20 میں ترقی دے کر ڈی آئی جی شرقی اور پھر ڈی آئی جی ساؤتھ بھی مقرر کیا گیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کی حیثیت سے تعیناتی کے دوران اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ٹاسک ملنے پر سندھ کے شاہ زیب قتل جیسے اہم کیس کے سربراہ تفتیشی افسر بھی رہے اس کیس میں شاہد حیات کو بڑے پیمانے پر رشوت کی آفر کی گئی جب وہ نہ مانے تو انہیں دھمکیوں سے ڈرانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ڈٹ گئے اور ان کی قیادت میں تفتیشی ٹیم نے اس کیس کو کامیاب انداز میں انجام تک پہنچایا۔ شاہد حیات، عباس ٹاؤن کے خوفناک بم دھماکے کی تحقیقاتی ٹیم کے بھی سربراہ رہے۔ شاہد حیات کے ساتھ کام کرنے والے پولیس افسران انہیں اس بناء پر بھی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ ہر ساتھی کے دکھ درد میں وہ برابر کے شریک دیکھے جاتے تھے۔ افسران اور اہلکاروں کا مورال بلند کرنے میں مہارت رکھتے تھے، اہلکاروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، ان کے معمولات میں شامل تھا۔

شاہد حیات کہا کرتے تھے کہ ''جس طرح پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے، ہوسکتا ہے اسی طرح میں بھی مارا جاؤں لیکن میں نے پولیس کی وردی پہنی ہے تو اس کی لاج بھی رکھوں گا۔''

شاہد حیات اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی زندگی میں پولیس افسران اورپولیس کے تمام اہلکاروں کیلئے سبق کا سامان ہے کہ مافیاز نے انہیں مارنے کی پوری کوشش کی ،انہیں دوبار گولیاں بھی لگیں لیکن اللہ نے چونکہ ان سے کام لینا تھا اس لئے وہ زندہ رہے اور مافیاز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عوام کو تحفظ فراہم کرنے جیسی اہم ذمہ داری سے عہدہ برآنہ ہوئے، اگرپولیس والے ملک وقوم کی خدمت کو اپنا اولین مقصد بنالیں تو وہ شاہد حیات کی طرح مثالی زندگی پا کر عوام کی نظروں میں ہمیشہ کیلئے امر ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں