Daily Mashriq

جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا،آزادی مارچ کا مقصدحکومت کو بلیک میل کرنا ہے :وزیراعظم عمران خان  

جب تک زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا،آزادی مارچ کا مقصدحکومت کو بلیک میل کرنا ہے :وزیراعظم عمران خان  

ننکانہ :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ا ستعفیٰ لے لیں لیکن کس بنیاد پر استعفیٰ لیں گے،میں نے حکومت سے پہلے پیشگوئی کی تھی کہ ایک وقت آئے گا سارا پاکستان کا کرپٹ طبقہ اکھٹا ہو جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ  نواز شریف کی کیا میں تو اپنی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔

 تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گرونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  استعفیٰ لے لیں لیکن کس بنیاد پر استعفیٰ لی گے،میں نے حکومت سے پہلے پیشگوئی کی تھی کہ ایک وقت آئے گا سارا پاکستان کا کرپٹ طبقہ اکھٹا ہو جائے گا،کرپٹ ٹولے نے ملکی معیشت کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا،اقتدار میں آنے کے بعد پہلا سال آدھا ٹیکس ان کے قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں گزر گیا،ان سب کو پتا تھا کہ ملک کو تباہ کر رہے ہیں،پی آئی اے اور ریلوے سمیت کئی ادارے بحران کا شکار تھے،پہلے دن سے انہوں نے شور مچایا کہ حکومت فیل وہ گئی ہے، ہم نے بہت کوشش کی ہے جس کا اعتراف آئی ایف سمیت دیگر ادارے دے رہے ہیں ، ہم نے مشکل ترین وقت گزارا ہے،آزادی مار چ کا مقصد یہ نہیں کہ گورنمنٹ فیل ہو رہی بلکہ ان کا مقصدحکومت کو بلیک میل کرنا ہے، کس وجہ سے ویراعظم کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں ،کبھی کہتے ہیں قادیایوں سے مل گئی ہے تو کبھی حکومت پر مہنگائی کا الزام عائد کرتے ہیں،ہمارے دور اقتدار میں مہنگائی سب سے کم ہے۔

انہوں نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے کہاکہ نواز شریف کی صحت کی گارنٹی دے سکتے ہیں،میں تو اپنی زندگی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتا،انسان تو صرف اپنی کوشش کر سکتا ہے،انسان زندگی موت کی ضمانت نہیں دے سکتا، پورے ملک سے ڈاکٹرز کو اکھٹا کیا ہے، اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ طبقاتی نظام ہے،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میری بیٹی بھی جرم کرتی تو میں سزا دیتا، انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ قومیں اس لیے تباہ ہوئی کیونکہ اس میں امیر اور کمزور طبقے کیلئے الگ الگ قانون تھے۔ ہمارے ہاں وی آئی پی سسٹم بنا ہواہے،اسی وجہ سے پاکستان میںبرکت نہیں آتی،ہم نے نواز شریف کو بہتر طبی سہولیات دیں،تما م افراد کے لیے ایک جیسے قانون ہونے چاہیے ،قانون کی بالادستی سب سے زیادہ ضروری ہے،ترقی یافتہ قوموں کی مثالیں موجود ہیں کہ جنہوں ے ترقی کی انہوں نے سخت قوانین بنائے اور ان پر عمل بھی کیا،یہ پاکستا ن کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سب کو پتا ہے کہ انہوں نے جس طرح ملک کو لوٹا ، اس کا جواب دینا پڑے گا، نوازشریف کا اقامہ نہیں تھا بلکہ یہ منی لانڈرنگ کا طریقہ تھا ،کبھی وزیر اعظم بھی کبھی کسی دوسرے ملک میں ملازمت کرتا ہے انہوںنے مل کر ملک کو لوٹا اور قرض بڑھایا ، یہ حکومت کو بلیک میل کرنے کا طریقہ ہے،چاہے آپ مارچ کریں یا بلیک میل کوئی طریقہ اپنائیں،آپ لوگوں کو این آر او نہیں ملے گا،دوگزشتہ این آر او کی وجہ سے پاکستان مقروض ہے اور ملکی معیشت بحران کا شکار ہے اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ بھی یہی ہے،دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سوچ رہی ہے اور پاکستان کے تاجروں کو بھی سرمایہ کاری پر راغب کر رہے ہیں ، تاجروں نے فکس ٹیکس پراطمینان کا اظہار کیا ہے۔

ہم سارے خطے میں تعلیم کے حوالے سے سب سے  آگئے تھےاس کی وجہ گزشتہ حکومتوں کی عدم دلچسپی تھی،یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی ہے جو کہ اچھا قدم ہے،سکھ برداری پوری دنیا سے یہاں تعلیم حاصل کر سکتی ہے، سائنس و ٹیکنالوجی بھی اس یونیورسٹی کاحصہ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اوقاف کی زمینوں پر قبضے ہو رہے ہیں ،درگاہوں پراوقاف کی زمین کے اوپر یونیورسٹی اور ہسپتال بنائے جائیں، ان زمینوں کا سہی معنوںمیں فائدہ اٹھایا جائے، بزرگوں نے ساری زندگی انسانوں کے لیے وقف کر دی،اللہ نے انسان کو دنیا ر بھیجا تاکہ ہہم ایک دوسرے کی مدد کر سکیں ،جتنے بھی بزرگ ہیں انہوں نے انسانوں کی خدمت کی ،ان کی رحت کے بعد بھی لوگ ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں ،اللہ سب سے زیادہ اس انسان کو عزت دیتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتاہے،دنیا امیر انسان کو یاد نہیں کر تی ،امیر لوگوں کو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہےمجھے مخالفین کہتے ہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کر رہاہے لیکن آپ کرتاپورراہداری کا افتتاح کرر ہے ہیں تو میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اس کی اعلیٰ مثا ل ہیں،کرتاپور سکھ برادری کا مدینہ ہے ، کسی بھی رنجش کے باعث مذہبی حق نہیں چھینا جانا چاہیے۔ہماری حکومت پہلی مرتبہ پاکستان میں مدرسہ میں پڑھنے والے بچوں کی تعلیم کے لیے تگ ودو کر رہی ہے، ہم سب کو یکساں نظام تعلیم کیلئے تگ ودو کرنا ہوگی۔

متعلقہ خبریں