Daily Mashriq


اہم اور توجہ طلب امور

اہم اور توجہ طلب امور

بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی مینگل (بی این پی) کے صدر سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ سیاستدانوں میں اتحاد نہ ہونا ملک میں کنٹرولڈ جمہوریت کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کو ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ ججوں، آرمی افسران اور بیوروکریٹس کے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے۔ اس کیساتھ انہوں نے مذکورہ افراد کی شہریت سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ اس بات کا علم ہوسکے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کہاں کی شہریت استعمال کررہے ہیں۔ اپنی تقریر میں بی این پی کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گوادر کے ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں کی تفصیلات پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ منصوبے قرضوں سے تعمیر کیے جائیں گے یا سرمایہ کاری کی بدولت۔ اگر یہ قرض لیکر تعمیر کیے جائیں گے تو اسے ادا کون کریگا، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں گوادر کے عوام کا کتنا حصہ ہے؟ آخر گوادر سے متعلق معاہدوں کو خفیہ کیوں رکھا جارہا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے اور پسماندہ صوبے بلوچستان کے عوام کی حالت زار بیان کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر حکومت نے بلوچستان کارڈ اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گوادر میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد میں آمد پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حرکات و سکنات پر نظر نہیں رکھی جارہی ہے۔ سردار اختر مینگل حکمران جماعت کے ایسے بے لوث اتحادی ہیں جنہوں نے شخصی اور جماعتی مفادات کی بجائے اتحادی حکومت سے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حوالے سے پیماں لے رکھا ہے۔ ان کے مطالبات اور شرائط میں ایک مطالبہ اور شرط بھی اس قسم کی نہیںجس سے کسی مفاد کی بو آئے۔ ان کی جماعت کی دانست میں جو بلوچستان کے عوام کا مفاد تھا انہوں نے اس کو حکومت کی حمایت کی شرط میں شامل کیا۔ بنابریں بلوچستان کے عوام کے حوالے سے ان کی درد مندی مسلمہ ہے اسلئے انہوں نے ایوان میں بلوچستان کے عوام کے مسائل، سی پیک اور گوادر پورٹ کے حوالے سے جن معاملات کی نشاندہی کی اس طرف توجہ وفاقی حکومت کااصولی طور پر فریضہ تو ہے ہی مستزاد حکمران جماعت ان شرائط کی پابند بھی ہے جسے قبول کرنے کے بعد ہی عمران خان وزیراعظم بن سکے گوکہ بد گمانی اور شکوک وشبہات کا اظہار مناسب نہیں لیکن ماضی کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اس خدشے کا اظہار نامناسب نہ ہوگا کہ بلوچستان کے عوام سے قبل ازیں کئے گئے حکمرانوں نے اپنے وعدے کبھی پورے نہیں کئے۔ آمر وقت جنرل(ر) پرویز مشرف نے بلوچستان کیلئے باقاعدہ پیکج کا اعلان کیا‘ آصف زرداری نے اس پر عملدرآمد کا دعویٰ کیا‘ مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں میں بھی بلوچستان کو سبز باغ دکھائے گئے، اس صورتحال پر وہاں کے عوام میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ فطری امر تھا جس کے مظاہر ایک عرصے سے ہم دیکھ رہے ہیں لیکن بلوچستان میں احساس محرومی کی وجہ سے حالات مایوسی کی نہج کو ضرور پہنچے جس کا دشمن قوتوں کی طرف سے فائدہ اٹھانا فطری امر تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ اس قسم کی نوبت دیگر معاملات کے علاوہ خاص طور پر اس وجہ سے کسی طور نہیں آنی چاہئے کہ مرکز میں قائم حکومت کے سربراہ قبل از اقتدار ہی یہ وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرائیں گے۔ اختر مینگل کا قومی اسمبلی میں لب و لہجہ تو تلخ نہ تھا لیکن انہوں نے جس انداز میں بلوچستان کے معاملات پر بات کی اس سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ اتحادی جماعت کے بلوچستان کے حوالے سے اقدامات سے مطمئن نہیں۔ گوادر کی ترقی کے متعلق منصوبوں کی تفصیلات کی طلبی اور سی پیک سمیت قرضوں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کے سوالات سنجیدگی سے غور طلب ہیں۔ ان کے اس حوالے سے تحفظات صرف بلوچستان کا مقدمہ نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا مقدمہ ہے جس پر ایوان میں بحث ہونی چاہئے اور معاملات کو ایوان کے سامنے لایا جانا چاہئے۔ اگر حکومت ایل این جی معاہدے کو اوپن کرسکتی ہے تو پھر سی پیک کے معاہدوں کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں کسی بھی ملک کو ایسی رعایتیں نہیں ملنی چاہئیں جس سے پاکستان کے عوام کے حقوق اور مفادات متاثر ہوں۔ اختر مینگل کی جانب سے سیاستدانوں کو دیاگیا مشورہ قابل غور ہے۔ انہوں نے اس امر کی درست نشاندہی کی ہے کہ مسائل کہاں اور کن وجوہات پر جنم لیتے ہیں۔ ریٹائرڈ ججوں اور آرمی افسران اور بیورو کریٹس کی دوہری شہریت اور غیر ملکی اثاثوں کی تفصیلات ہی سامنے نہیں آنی چاہئیںبلکہ میڈیا کے وابستگان سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے سے ایسی تفصیلا ت جو ذاتی نہ ہوں اور ملکی وکاروباری معاملات کے حوالے سے ہوں تفصیل کیساتھ سامنے لانے کے قانون پرعمل درآمد اور بوقت ضرورت اس مد میں ضروری قانون سازی کی ذمہ داری پوری کرنا ملک میں شفافیت اور احتساب کا تقاضا ہے جس پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔ اس ضمن میں احتراز برتنے کی اب گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں