Daily Mashriq


سرحد کی بلا وجہ بندی سے گریز کی ضرورت

سرحد کی بلا وجہ بندی سے گریز کی ضرورت

آل پاکستان ایگریکلچرپروڈیوس ٹریڈرزاور آڑھتیان ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی حکومت سے افغان بارڈرطورخم پرکسٹم حکام کی جانب سے پھلوں اورسبزیوں کی درآمدات کو روکنے پر نوٹس لینے کے مطالبے پر فوری توجہ دی جانی چاہئے۔ تاجروں کے مطابق افغان بارڈر طورخم پرکسٹم حکام کی سست روی اور غیراعلانیہ چھٹیوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیادپرلوڈ گاڑیوں کوروک کرکروڑوں روپے کی سبزیاں اور پھل خراب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آڑھتیان وتاجرکو کافی مشکلات اورمالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پیشگی اطلاع دیئے بغیرعملے کو چھٹی دیکر طورخم پرپاک افغان بارڈر کوبندکرکے سبزیاں اور پھلوں کی آمدورفت کو روک لیتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف سبزیاں اور پھل خراب ہوتے ہیں بلکہ عوام پرمہنگائی کابوجھ بھی پڑتاہے۔ تاجروں کی طرف سے اربوں روپے کا ٹیکس دینے کے باوجود سہولیات دینے کے بجائے کسٹم حکام کا رویہ کسی طور قابل قبول نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے طرز عمل سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی سرد مہری کا آنا فطری امر ہے۔ تاجروں کو بلا وجہ نقصان دینا اور مال ضائع اور خراب ہونے کی نوبت آنے دینے کا رویہ کسی طور قابل قبول نہیں بلکہ یہ تاجروں کا معاشی قتل ہے جس کا متعلقہ حکام کو نوٹس لینا چاہئے۔ سرحد پر جتنے بڑے پیمانے پر تجارت ہوگی حکومت کو اس کے تناسب سے آمدنی ہوگی۔ حکومت کو بارڈر کھولنے اور بند کرنے کے واضح اوقات کا تعین کرکے اس پر سختی سے کار بند ہونے کی ہدایت کرنی چاہئے اور اگر کبھی بارڈر بند کرنے کی مجبوری در آئے تو اس کی وجوہات سے تاجروں کو آگاہ کرکے ان کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ سرحد کی بندش اور پابندیاں ہی عوام کیلئے مشکلات کا باعث نہیں ہوتیں بلکہ اسے بے وقت کھولنے اور ملی بھگت سے نرمی کا رویہ اختیار کرنا بھی عوامی مشکلات کا باعث بنتا ہے جس کا خمیازہ عوام عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کے ناپید ہونے کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔

قانون کا تماشا

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حال ہی میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی جانب سے ٹریفک وارڈن کو دھکا دینے پر پولیس کی طرف سے جس رد عمل کا مظاہرہ کیاگیا تھا اس قسم کے طرز عمل کامظاہرہ دو پولیس وارڈنز کی ایک شہری سے سر عام سڑک پر گتھم گتھا ہونے اور گھسیٹنے پر سامنے نہ آنا دوہرے طرز عمل کا مظاہرہ ہے۔ دیکھا جائے تو تقریباً دونوں کی جانب سے ایک ہی قسم کے طرز عمل کا مظاہرہ کیاگیا تھا مگر شاید انیس گریڈ کے اسسٹنٹ پروفیسر کی قانون شکنی پست گریڈ کے وردی پوشوں کی قانون کو مذاق بنانے کاعمل معمولی نوعیت کا تھا۔ شہری کی جانب سے چالان پر مزاحمت سے انکار ممکن نہیں ایسا عموماً ہوتا ہے لیکن ٹریفک وارڈنز بجائے اس کے کہ چالان پر عملدرآمد کا قانونی طریقہ کار اختیار کرتا پولیس کی وردی کو تماشہ بناتے دکھائی دئیے۔ سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیو میں پولیس اہلکار شہری کو قابو کرنے کی بجائے اسے گھسیٹتے اور مار دھاڑ کرتے دکھائی دئیے جو کہ مناسب طرز عمل نہ تھا۔ بہر حال اس طرح کے واقعات کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور قسم قسم کے تبصروں سے خیبر پختونخوا پولیس جس کی مثالیں وزیر اعظم تک دیتے ہیں تضحیک کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ سڑک پر جہاں شہریوں کیلئے قانون کی پابندی ضروری ہے ٹریفک وارڈنز اور وردی پوشوں کیلئے زیادہ احتیاط اور با وقار طرز عمل اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ٹریفک اہلکار اگر شائستگی کیساتھ شہریوں کو قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ کریں تو اس قسم کی نوبت نہیں آئے گی۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ محولہ نوجوان کو روکتے ہوئے ٹریفک اہلکاروں کا طرز عمل کیا تھا اور نوجوان اس قدر مشتعل کیوں ہوا۔ ٹریفک اہلکاروں کو اس امر کی سختی سے ہدایت ہونی چاہئے کہ وہ قانون کی پابندی کروانے کی سعی ضرور کریں اسے تماشا نہ بنائیں۔

حیات آباد میں رہزنی کی وارداتیں

حیات آباد میں خاتون سے پرس چھیننے والے ملزمان کاسٹی پٹرولنگ فورس کے جوانوں کی جانب سے پیچھا کر کے دبوچ لینا پولیس کی مستعدی کاثبوت ضرور ہے لیکن حیات آباد فیز 2میں مسلح رہزنوں کے نوجوان کو گولی مار کر فرار ہونے کا واقعہ اس امر پر دال ہے کہ حیات آباد میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی نگرانی کا عمل سست پڑ گیا ہے۔ حیات آباد میں پولیس کیساتھ ساتھ سیف حیات آباد کا چوکس عملہ بھی موجو درہتا ہے جبکہ کیمروں سے نگرانی کا نظام بھی کسی حد تک موجود ہے۔ ان سہولیات کی موجودگی میں جرائم پیشہ عناصر کا حیات آباد میں مختصر مدت میں دو وارداتیں کرنا لمحہ فکریہ ہے جس کی روک تھا م کیلئے پولیس کو خصوصی اقدامات پر توجہ دینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں