Daily Mashriq


مسکراہٹ سمٹتی جا رہی ہے

مسکراہٹ سمٹتی جا رہی ہے

گزشتہ روز ٹیلی فون کی گھنٹی بے وقت بجی، اللہ خیر کا کلمہ پڑھ کر جو ٹیلی فون اُٹھایا تو دوسری جانب سے ایک پرانے دوست کی شناسا آواز تھی۔ ہمت تو نہ تھی کہ ان سے استفسار کیا جاتا کہ اتنی رات گئے ہاتف کو کیوں زحمت دی گئی، بہرحال ان کو بھی احساس تھا فوراً مدعے پر آگئے کہ کہیں آرام میں خلل تو نہ پڑا۔ اب اس کا کیا جواب بنتا بہرحال کہا! نہیں کوئی زحمت نہیں ہوئی، تکلیف نہیں ہوئی، آپ نے یاد کیا اچھا لگا، وہ بولے اس وقت پریشانی نے گھیرا ہوا تھا کہ آپ یاد آگئے، رات کے کتنے پہر گزر گئے اس کا احساس نہ ہوا اور آپ کو فون کھڑکا دیا، انہیں جواب دیا کوئی بات نہیں فون ہی تو کھڑکایا ہے کوئی جرم نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ جی البتہ ہم بھی کھڑک گئے ہیں۔ وہ کیسے؟ کہا کہ ایک کروڑ ملازمتیں عطا کرنے والوں نے ریڈیو پاکستان کے معاہدتی ملازمین کو کھڑکا دیا ہے۔ آج کا سارا دن اپنے بچوں سے پھڈا رہا کہ یہ سب ان کا پاکھنڈ ہے کہ خود بھی لائنوں میں لگ کر اور ہم ضعیف العمر والوں کو بھی لائنوں میں پہروں کھڑا کر کے نئے پاکستان کیلئے ووٹ ڈلوایا، اب یہ حشر ہے کہ بچت یا خسارے کو پورا کرنے کے نام پر کبھی ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تو کبھی گاڑیاں بیچی جا رہی ہیں، تو کہیں بھینسیں بیچ کر خسارہ پورا کیا جا رہا ہے۔ اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ ریڈیو پاکستان کی مرکزی عمارت کو لیز پر دیا جا رہا ہے، اور تو اور جن افراد کو پرانے پاکستان والوں نے کنٹریکٹ پر نوکریاں فراہم کی تھیں ان کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ سوچتا ہوں کہ کل پروانۂ فارغت ملے تو پیٹ کے جہنم کو کس آگ سے بھریں گے۔جن صاحب کا فون آیا تھا وہ ریڈیو پاکستان میں کافی عرصہ سے کنٹریکٹ کی بنیاد پر اس آس میں کام کر رہے تھے کہ کوئی تو سنہری دور آئے گا کہ بھاگ کھل جائیں گے اور مستقل ملازمین کی فہرست میں ان کا نام لکھا جائیگا۔ وہ تو عارضی فہرست سے بھی حرف غلط کی طرح مٹنے لگا ہے۔ موصوف سے کہا کہ دل چھوٹا نہ کریں حکومت ملک چلانے کیلئے بندوبست کر رہی ہے اور تیزی کیساتھ کر رہی ہے، سب اچھا ہو جائیگا لیکن وہ اس بات پر ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔ ریڈیو پاکستان کی اسلام آباد میں مرکزی عمارت ایک شاندار عمارت ہی نہیں ایک تاریخ کی امین بھی ہے اور عوام سے ناتا جوڑے رکھنے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ریڈیو کی اس دور میں وہ اہمیت نہیں رہی جو کسی زمانے میں تھی۔ ایسا ہرگز نہیںہے، ریڈیو آج بھی اپنے پورے جوبن کیساتھ موجود ہے یہ الگ بات ہے کہ جس طرح ماضی میں ایسے اہم قومی اداروں کو بے توجہی کا شکار کیا گیا اسی طرح ریڈیو کیساتھ بھی سوتیلی ماں کا برتاؤ کیا گیا، ماضی میں بھی ریڈیو کا یہ سب سے عمدہ اعزاز تھا کہ وہاں زبان کی نوک پلک کا بہت ہی دھیان رکھا جاتا تھا۔ ماضی میں نوجوان نسل خاص طور پر ریڈیو کی نشریات کے ذریعے اپنی زبان کے تلفظ اور اس کے قواعد کو درست کرتے تھے اور اب بھی اس کا معیار ویسا ہی ہے جبکہ ٹی وی کا معیار اس معاملے میں سوشل میڈیا کی زبان وبیان سے بھی گیا گزرا ہے۔ حکمرانوں کے بارے میں جو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ سیاسی قلابازیاں جس طرح کھاتے تھے اسی طرح اب حکومت میں بھی ویسا ہی پلٹا کھاتے ہیں جس کو ان کے مخالفین نے یوٹرن کا نام دے رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات ایسی عادات بھی کام کی نکل آتی ہیں، اگر پلٹاکھانا وتیرہ نہ ہوتا تو ریڈیو پاکستان کی عمارت نکل گئی تھی، اسی پلٹے کی وجہ سے بچ گئی ہے۔ویسے ان پلٹوں کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ کو بیرون ملک بھی نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ یہ پلٹے اب مغربی دنیا میں بھی تنقید اور طنز کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں۔ برطانیہ کے ایک اخبار گارجین نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں لکھا کہ عمران خان کی حکومت نے تیس دن کے اندر سولہ پلٹے کھائے ہیں اور اخبار نے یہ سولا پلٹے گنوائے بھی ہیں، تاہم ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ کئی معاملات میں کوئی پلٹا نہیںکھایا گیا مثلاً اپنے جگری یار زلفی بخاری کی تقرری کے بارے میں مستحکم مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے معاون کے طور پر ان کی تقرری کر ڈالی، اس میں کوئی پس وپیش نہیں کیا، حالانکہ زلفی کی تقرری سے قبل خان صاحب کا مؤقف تھا کہ زلفی برطانو ی شہری ہیں ان کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ جب خاں صاحب دو کروڑ کا خرچہ کر کے عمرہ کی ادائیگی پر جدہ پرواز کرنیوالے تھے تو ان کے ہم رکاب زلفی بخاری کو اڑان کی اجازت نہیںملی چنانچہ خاں صاحب نے چار پانچ گھنٹے تک ان کی اجازت کے حصول کی غرض سے زلفی کے بغیر اڑان سے انکار کر دیا تھا، عمرہ سے واپسی پر وہ نیب پر بہت غصے میں تھے چنانچہ انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ زلفی برطانوی شہری ہے وہ برطانیہ میں کامیاب کاروبار کرتا ہے اس کا نام آف شور کمپنی کی فہرست میں آیا تو نیب نے ان کے نام کی فائل کھول لی۔ جب کوئی شخص پاکستان کا شہری نہیں ہے، اس کا پاکستان میںکوئی کاروبار نہیں ہے بلکہ پاکستان کیساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے تو نیب کو کیا حق یا اختیار ہے کہ اس کیخلاف فائل کھول لے اور پوچھ تاچھ کیلئے طلب کرنا شروع کر دے۔ اب خان صاحب نے اس برطانوی شہری کو پاکستان کے وزیر مملکت کے عہدے پر فائز کر دیا ہے، سیاسی حلقوں کی جانب سے تو کوئی احتجاج نہیں ہوا البتہ تھوڑا بہت ردعمل سامنے ضرور آیا مگر اب کیا کیا جائے خان صاحب ملک کے مفاد میں کوئی کام کرتے ہیں یا تو ان کو تنقید کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے یا پھر اس میں رخنہ ڈالنا شروع کر دیا جاتا ہے کہ کوئی صاحب زلفی بخاری کیخلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

متعلقہ خبریں