Daily Mashriq


پاک امریکہ تعلقات کی ترتیب ِنو کا معاملہ

پاک امریکہ تعلقات کی ترتیب ِنو کا معاملہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے امریکہ میں ہیں ۔اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر علی جہانگیر صدیقی بھی پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں ۔علی جہانگیر صدیقی نے یہ خوش خبری سنائی ہے کہ امریکہ کے ساتھ روابط بڑھ رہے ہیں اور آگے چل کر ان میں مزید بہتری آئے گی ۔علی جہانگیر صدیقی کی طرف سے تعلقات کی بہتری کی امید دلانا اچھی بات مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس بہتری کی قیمت کیا ہے؟۔ کیافریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں ؟ کیافریقین میں سے کوئی ایک اپنے موقف سے پیچھے ہٹا ہے؟یا دونوں نے ایک ایک قدم پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے؟پہلی صورت میں تو تعلقات میں بہتری کی کوئی صورت ہی نہیں کیونکہ دونوں کے تزویراتی معاملات میں دوری ہی نہیں تضاد ہے ۔جنوبی ایشیا کی علاقائی سیاست میںامریکہ کے لئے جو معاملہ ناگزیر اور عزت و انا کی بات ہے پاکستان کے لئے وہ ازحدنقصان دہ اور خسارے کا سودا ہے ۔اس بات پر دونوں کے ہیروز اور ولن متضاد ہیں۔سلامتی اور دفاع کے تصورات مختلف ہیں۔دونوں اپنے موقف پر قائم ہیں تو پھر تعلقات میں بہتری کی بات محض خودفریبی ہے اور اگر آخر الذکر دوصورتیں ہیں تو پھر تعلقات میں بہتری کی بات مانی جا سکتی ہے بلکہ مزید بہتری کی امید بھی رکھی جا سکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو حال ہی میں دورہ ٔ پاکستان کے دوران یہ بات تسلیم کر چکے ہیںپاکستان اور امریکہ کے تعلقات’’ ری سیٹ‘‘ ہونے جا رہے ہیں۔گویاکہ تعلقات کی ترتیب ِنو ہو رہی ہے ۔

شاید یہی وجہ ہے کہ یہ خبریں آنے لگی ہیں کہ امریکی حکومت پاکستان کے روکے گئے کو لیشن سپورٹ فنڈ کی رقم بحال کرنے پر سوچ بچار کر رہی ہے کیونکہ امریکی ماہرین اسے خود امریکہ کے لئے ایک ضرررساں فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ اُتار چڑھائو سے عبارت ہے ۔یہ تعلقات پنڈولم کی طرح وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ متحرک رہے ہیں اور اس تحرک کا تعلق عالمی اور علاقائی حالات سے رہا ہے ۔عالمی حالات اور ضرورتیں بدلنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات بھی متاثر ہو تے رہے ہیں ۔ان تعلقات میں کبھی مستقل گرم جوشی اور سردمہری نہیں رہی۔یوں یہ تعلقات مجموعہ اضداد ہی رہے ہیں۔ان تعلقات کا زیادہ تر دورانیہ دونوں ملکوں میں کھٹ پھٹ سے بھرا پڑا ہے۔کبھی پابندیاں ،کبھی کہہ مکر نیاں ،کبھی مشکل حالات میں نظریں چرانا ،کبھی خطرات کے مقابلے میں یہ کہہ دینا کہ اب آپ کو ان حالات کے ساتھ ہی جینا ہے ،کبھی امداد کی بحالی اور کبھی بندش ،کبھی قریب سے گزرتے ہوئے گھڑی دوگھڑی کا ناگوار انداز میں پڑائو اور کبھی اس تکلف کی ضرورت بھی محسوس نہ کرنا اور’’ میرے پاس سے گزر کر میراحال تک نہ پوچھا‘‘والی نظر انداز کردینے والا انداز غرضیکہ پاک امریکہ تعلقات ایک گورکھ دھندہ اور پرپیچ سفر ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد تعلقات کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو تا چلا گیا ۔امریکہ نے پاکستان کو دبائو میں لانے کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کی رقم روک دی ۔فوجی افسروں کے تربیتی پروگرام بند کر دئیے اور پاکستان کے ساتھ ڈیل کرنے کیلئے زلمے خلیل زاد جیسے سخت گیر پاکستانی ناقد کو آگے کر کے رہے سہے حساب چکا دئیے اس طرح پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی روابط آخری ہچکیاں لینے کی حد تک پہنچ گئے تھے ۔امریکہ نے پاکستان کو دیوار سے لگاکر پاکستان کا ہی نہیں خود اپنا نقصان کیا ۔امریکہ آج بھی دنیا کی اہم ترین سپر طاقت ہے ۔چین دنیا کی اُبھرتی ہوئی اقتصادی اور فوجی طاقت ہے ۔دونوں کے درمیان مسابقت کشیدگی میں ڈھلتے دیر نہیں لگتی۔ جنوبی چین کے جزیروں میں دونوں کے بحری اڈے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے ہیں۔دنیا کے طول وعرض میں دونوں کے درمیان تجارتی جنگ زوروں پر ہے۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے پاکستان ان دونوں طاقتوں کے درمیان پل کا کردارادا کرنیکی صلاحیت کا حامل واحد ملک ہے۔ 1972میں پاکستان نے ہی دونوں ملکوں کے درمیان خفیہ مصالحت کاری کر کے امریکی صدرنکسن کے دورہ ٔ چین کو ممکن بنایا تھا ۔آج پھرپاکستان چین اور امریکہ کی کشیدگی میں بہتر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے کیونکہ چین سے ہمہ موسمی اور قریبی روابط رکھنے کے باوجود پاکستان میں امریکہ کیساتھ کشیدگی کو’’ پوائنٹ آف نوریٹرن‘‘ تک نہ پہنچانے کی سوچ غالب ہے ۔اس لئے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی بات بجا مگر اب یہ ایک کانٹوں بھری راہ کا سفر ہے امریکی پالیسی سازوں نے نائن الیون کے بعد تعلقات کی اس شاہراہ کو پالیسیوں کے کانٹوں سے بھر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں