Daily Mashriq


نیا بلدیاتی نظام، نیا طرز حکمرانی

نیا بلدیاتی نظام، نیا طرز حکمرانی

بادشاہت اور جمہوریت کے مابین ایک بنیادی فرق ہے۔ بادشاہ کی ذات ہر شے کا منبع ہوتی ہے‘ تمام اختیارات اس کی ذات میں مرتکز ہوتے ہیں جبکہ جمہوریت اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا نام ہے۔ ابراہم لنکن نے ایک جملے میں جمہوریت کی شرح لکھی ’’عوام کی حکومت‘ عوام کیلئے‘ عوام کے ذریعے‘‘۔ آج دنیا میں جہاں بادشاہتیں یا نام نہاد جمہورتیں ہیں وہاں تمام اختیارات حکمران کی مٹھی میں لیکن اس کے برعکس مہذب دنیا مقامی حکومتوں کو بااختیار بناتی ہے اور وہاں حکومت کے زیادہ تر وسائل عوام کے ہاتھوں میں دینے کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین اس دوڑ میں مغربی ممالک سے آگے جا چکا ہے چنانچہ چین اس وقت دنیا کا شاید واحد ملک ہے جو اپنے قومی بجٹ کا 50فیصد سے زائد مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ کر رہا ہے۔ دنیا میں ’’Fiscal Decentralization‘‘ کی اصطلاح دن بدن مقبول ہو رہی ہے مگر پاکستان ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جمہوریت پسندی اس دن آشکار ہو گئی جب ان جماعتوں نے بالترتیب پنجاب اور سندھ میں کمشنری نظام بحال کیا اور بلدیاتی نمائندوں اور بلدیاتی نظام کو ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کے تابع کر دیا۔ تحریک انصاف اور ان جماعتوں کے مابین گورنینس کا واضح امتیاز لوکل گورنمنٹ سسٹم کی صورت میں عوام کے سامنے آیا۔ تحریک انصاف نے پختونخوا میں جو بلدیاتی نظام متعارف کرایا وہ اپنی روح میں خالصتاً جمہوری تھا۔ صوبائی حکومت نے 20سے زائد شعبوں کو لوکل گورنمنٹ کے حوالے کیا اور صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے صوبائی بجٹ کا 30فیصد مقامی حکومتوں کے ذریعے خرچ کرنے کا اعلان کیا جس پر بعدازاں عملدرآمد ہوتا رہا۔ اس کے مقابلے میں سندھ اور پنجاب کے بلدیاتی نمائندے اختیارات نہ ملنے کا رونا روتے رہے۔عمران خان ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈز دینے کے مخالف رہے ہیں‘ ان کا ویژن مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہے۔لوکل گورنمنٹ کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے کیلئے تحریک انصاف کی حکومت اب ایک قدم آگے بڑھانے کا سوچ رہی ہے۔ تحصیل اور شہر کے ڈپٹی میئر حضرات کو عوام ڈائریکٹ منتخب کریں گے جیساکہ لندن اور برمنگھم اور ناروے ڈنمارک کے شہروں میں ہوتا ہے۔ جہاں تک لوکل گورنمنٹ کو انتظامی اختیارات سونپے جانے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں چار اہم شعبے پولیس‘ صحت‘ تعلیم اور مقامی عدالتی نظام کو ضلعی حکومتوں کے تابع کرنے کا سوچا جا رہا ہے یعنی اب ضلعی حکومت کا سربراہ میئر پولیس فورس اور دیگر انتظامی سربراہان کارکردگی رپورٹ لکھیں گے۔ مالیاتی اُمور میں بھی ویسے ہی میئر کا دفتر فائنل اتھارٹی ہوگا اور یہ مالیاتی آزادی صوبائی وزارت اعلیٰ کی بازپرس اور دسترس سے مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ذرا تصور کیجئے کہ گزشتہ 10برسوں میں جس جمہوریت سے عوام کو پالا پڑا تھا کیا اس میں کسی نے عوام کو یوں بااختیار بنانے کا سوچا۔ جان بوجھ کر عام آدمی کو ایم این ایز اور ایم پی ایز کا دستِ نگر رکھا گیا اور لوگ معمولی کاموں کیلئے ان کے دفاتر کے دھکے کھاتے رہے۔ گلیاں‘ نالیاں‘ نالے اور پلوں کی تعمیر کیا ایم پی ایز اور ایم این ایز کے کرنے کے کام ہیں۔ سٹریٹ لائٹس تک ممبران صوبائی اسمبلی کے دفاتر سے جاری کی جاتی رہیں۔ بلدیہ کا نظام جب اپنی ابتدائی شکل میں تھا اس وقت دو بنیادی کام صفائی اور روشنی کا انتظام بلدیہ کی ذمہ داری سمجھا گیا۔ یہ کیسی جمہوریت سے ہمارا واسطہ تھا جس میں ممبران اسمبلی کے ہاتھوں میں ’’سٹریٹ لائٹس‘‘ تھما دی گئیں؟ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کیخلاف تحریک انصاف برسوں سے برسرپیکار رہی ہے اور اب اس سوچ کو تبدیل کرنے کیلئے عملی طور پر کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ماضی کی حکومتوں کے طرزِعمل کے برعکس تحریک انصاف مقامی حکومتوں کے ذریعے وسائل کو خرچ کر کے عوام کو اپنی قسمت آپ بدلنے کا موقع دے گی۔ یہ عوام کے منتخب کردہ مقامی عوامی نمائندے ہوں گے جو ان وسائل کو عوامی مسائل کے حل کیلئے استعمال کریں گے اور وہ کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے دست نگر نہیں ہوں گے۔نئے بلدیاتی نظام کو عملی شکل دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان جس تیزی کیساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اس کو دیکھ کر امید کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد پنجاب کے عوام کو خیبر پختونخوا کی طرز پر لوکل گورنمنٹ سسٹم میسر ہوگا۔ مسلم لیگ ن کی صفوں کے اندر ابھی سے بے چینی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔ حمزہ شہباز کا بیان اخبارات میںچھپا ہے کہ بلدیاتی نظام کی آڑ میں تحریک انصاف کو پنجاب پر قبضہ نہیں جمانے دیں گے۔ حیرت ہے نئے بلدیاتی نظام میں قبضے کی بات کہاں سے آ گئی۔ حضرت علیؓ سے منسوب قول مبارک ہے: ’’ہرانسان دوسرے شخص میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔‘‘ عمران خان ایک نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے عوام کو اس قبضہ مافیا سے آزادی دلانا چاہتے ہیں لیکن انہیں یوں لگ رہا ہے کہ جیسے اُن کا قبضہ ختم کر کے عمران خان پنجاب پر قبضہ کر لیں گے۔ یہ کیسی دقیانوسی سوچ ہے؟ یہ کیوں نہیں چاہتے کہ اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہو اور مقامی لوگ مقامی حکومتوں کے ذریعے اپنے مسائل کو اپنے طور پر حل کرنے کے قابل ہوں۔ انگریز نے برصغیر چھوڑنے کے بعد جس طبقے کو حکمرانی کیلئے تیار کیا وہ آج بھی آقا اور غلام کی طرز پر گورنینس چاہتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں حکمرانی کا یہ اُسلوب قابلِ قبول نہیںہوگا۔

متعلقہ خبریں