Daily Mashriq


بجٹ کبھی عوامی نہیں ہوتا!!

بجٹ کبھی عوامی نہیں ہوتا!!

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت کے بمشکل ایک ماہ دو تین دن باقی ہیں جس نے چھٹا وفاقی بجٹ پیش کیا۔ اس طرح کا موقع کم ہی حکومتوں کو ملتا ہے کہ پانچ سالہ مینڈیٹ کے دوران چھ بجٹ پیش کئے جائیں۔ مسلم لیگ(ن) پہلی مرتبہ مدت اقتدار پوری کرنے جا رہی ہے۔ یہ بھی دلچسپ امر ہے کہ اس کے باوجود کہ راہ میں بہت سنگ و خار آئے مگر لگتا یہی ہے کہ چھٹے بجٹ کی منظوری دے کر ہی رخصت ہوگی۔اس سال کے بجٹ کی سب سے خاص بات ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن دس ہزار روپے کرنا ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ بصورت دیگر سپریم کورٹ میں جاری اس حوالے سے مقدمے کا فیصلہ آنے سے پنشن میں اضافے کے لئے پورے بجٹ کی ہیئت کو متاثر ہونا متوقع تھا۔ سپریم کورٹ میں دس ہزار روپے کم سے کم پنشن کی آبزرویشن بھی آئی تھی۔تجارتی خسارے میں ہر سال اضافہ معمول کی بات ہے اس دور حکومت میں بھی یہی روایت برقرار رہی۔ اندرونی قرضوں میں کمی جبکہ بیرونی قرضوں میں اضافہ بھی روایت رہی ہے اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ غیر پیداواری ہے اور تقریباً 1600ارب روپے سے زائد قرضوں اور اس پر سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو مجموعی بجٹ کے حجم کا 30 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی میں 243 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ میں آئندہ مالی سال کے دوران 1100 ارب روپے تینوں مسلح افواج کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 100 ارب روپے مسلح افواج کے ترقیاتی پروگرام کے لیے رکھے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی بجٹ کا 23 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اس طرح وفاقی بجٹ کا تقریباً53فیصد حصہ تو محض دفاعی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوجاتا ہے اور حکومت کے پاس مالیاتی گنجائش بہت کم بچتی ہے کہ وہ بجٹ میں کوئی بڑی تبدیلی کرتی۔اعداد و شمار موجودہ مالی سال اور اس سے قبل کے بجٹ میں کم و بیش ایسے ہی تھے اور آنے والے آئندہ چند سال کے بجٹ میں بھی ایسے ہی ہوں گے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ خرچہ قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی رہے گا۔ جس کے بعد دفاع پر اخراجات ہوں گے اور باقی سب کے لیے قرض لینا پڑے گا۔پاکستان کا مسئلہ صرف بجٹ کا خسارہ نہیں ہے بلکہ اس کا مسئلہ دہرا خسارہ ہے، جس میں مالیاتی خسارے کے ساتھ ساتھ رواں کھاتوں کا خسارہ بھی شامل ہے۔ ان 2 خساروں کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف اندرونی طور پر بڑا قرض لینا پڑ رہا ہے بلکہ بیرونِ ملک سے بھی قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی بھی نہایت غیر منصفانہ ہے کیوں کہ پاکستان میں براہِ راست ٹیکس جمع کرنے کے بجائے بالواسطہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس سے امیر اور غریب پر ایک جیسے ٹیکسوں کا نفاذ ہوجاتا ہے۔پاکستان میں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد 7لاکھ ہے۔ اب نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں کم از کم قابل ٹیکس آمدنی اور ٹیکس کی شرح میں کمی سے 5 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان نیٹ سے باہر ہوگئے مگر اس کا اثر وفاقی بجٹ پر90 ارب روپے کا پڑے گا۔ ملک میں ٹیکس نظام پر کاروباری برادری کو بھروسہ نہیں ہے اور صرف 100کمپنیاں مجموعی طور پر 431 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتی ہیں جو بہت کم ہے۔ ملک میں61ہزار کمپنیوں میں سے صرف 10 ہزار ٹیکس ادا کرتی ہیں اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے امیر طبقے پر ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے مگر کیا وہ اس اعلان کردہ ٹیکس اسکیم کے تمام عوامل پر اپنی حکومت ختم ہونے سے قبل عملدرآمد کروا سکے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو اس کو اپنے ٹیکس نظام میں بہتری لانی ہوگی اور وفاقی سطح پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنا ہوگا، اور یہ صرف اور صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان کی کاروباری برادری اور جاگیردار اپنی آمدنی پر ٹیکس کی ادائیگی کریں جو ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی کی شرح معاشی ترقی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اگر پاکستان کو کشکولِ گداگری توڑنا ہے تو اس صورتحال کو تبدیل کرنا ہوگا اور مشکل فیصلے کرتے ہوئے ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا ہوگا۔سمندر پار پاکستانی سالانہ 19 ارب ڈالر بینکاری نظام اور تقریباً 7 ارب ڈالر ہنڈی حوالہ کے ذریعے وطن لاتے ہیں، جبکہ ان کے اندازے کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کی سالانہ آمدنی کا یہ صرف50فیصد ہے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے ملک کو کبھی بھی سرمایہ کاری کا مرکز تصور نہیں کیا۔ سمندر پار پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی بھی ہے تو پلاٹس اور زمین میں، جن سے صرف ان کا ذاتی فائدہ ہوتا ہے اور روزگار یا ملازمت کے مزید مواقع پیدا نہیں ہوتے ۔صورتحال کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔ سمندرپار پاکستانیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع دیے جائیں۔اسی سال بجٹ کے موقع پر یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا آئینی اور قانونی طور پر 30 دن کی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پورے سال کا بجٹ پیش کرے؟ یہ سوال اور اعتراض ہی بے معنی ہے کیونکہ حکومت پورے سال کے لیے بجٹ بنانے کا حق رکھتی ہے۔ اعتراضات سیاسی کے علاوہ کچھ نہیںتھے ۔ دراصل آئینی طور پر حکومت اگلے سال کا بجٹ بنانے کی پابند ہے، جو قومی اسمبلی ہی منظور کرتی ہے۔ آئین میں کہیں ایسا نہیں لکھا کہ اگر حکومت ایسے وقت میں بجٹ پیش کرنے جا رہی ہو جب اس کی مدت میں قلیل عرصہ رہ گیا ہو تو حکومت مختصر عرصے کے لیے ہی بجٹ پیش کرے۔ اگلی حکومت بجٹ میں تبدیلیاں کرنے کا اختیار رکھتی ہے، بجٹ میں ہمیشہ تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ بجٹ کے 2 حصے ہوتے ہیں ایک وہ حصہ ہے جو آپ مختلف شعبوں کے لیے منظور کرتے ہیں اور دوسرے حصے کا تعلق ریونیو سے ہوتا ہے جس میں ٹیکس لگانے جیسے فیصلے ہوتے ہیں۔ اب اگلی جو بھی حکومت ہوگی اگر وہ کوئی ٹیکس ناجائز سمجھتی ہے تو وہ اسے ختم کرسکتی ہے۔ اگلی حکومت اس میں رد و بدل کرنے کا پورا پورا اختیار رکھتی ہے۔حسب معمول کسی بھی حکومت کا آخری بجٹ انتخابی بجٹ ہوتا ہے اور آخری بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی حقیقی سعی ہو یا نہ ہو اس قسم کا تاثر ضرور دیا جاتا ہے۔ موجودہ بجٹ میں بھی اس قسم کا تاثر ملتا ہے خاص طور پر سرکاری ملازمین اور پنشنروں کو ریلیف دینے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ ای او بی آئی کے پنشنروں کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور معاشی امداد سے متعلق عوامل کی طرف توجہ اور بہتری کی کوشش کی گئی ہے۔ حکومت کو ہر بار یہ تجویز دی جاتی ہے کہ بجٹ میں حکومت سامان تعیش پر ٹیکس بڑھائے اور روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کم کرنے اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کیونکہ بجٹ میں جس طبقے کو بھی تھوڑا بہت ریلیف ملتا ہے وہ بعد از بجٹ مہنگائی کی نذر ہوتا ہے اور محروم طبقے کی محرومی دور نہیں ہوتی۔کینسر ادویات پر کسٹم ڈیوٹی کاخاتمہ' بیوائوں کے لئے قرضہ حسنہ کی سکیم 6لاکھ کرنا' بچوں کا سکولوں میں داخلہ سو فیصد کرنے کا ہدف مقرر کرنا احسن امور میں شامل ہیں۔ سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ وفاقی بجٹ کا خسارہ 1890.2 ارب ہے۔ یہ خسارہ کیسے پورا ہوگا۔ ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف کم ہی پورا ہوتا ہے بلکہ کبھی پورا نہیں ہوتا۔ ایسے میں اس مد میں بھی مزید اربوں کے خسارے کا امکان ہے۔ اس سارے تناظر میں ایک مرتبہ پھر غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنا پڑے گا اور پاکستان کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت مزید متاثر ہوگی اور قوم پر قرضوں کا مزید بوجھ بڑھے گا۔ قرض لے کر قرضوں کی ادائیگی کا سلسلہ جب تک جاری ہے تب تک موجودہ اور کسی آئندہ بجٹ میں بظاہر اگر ریلیف کا عندیہ بھی ملے تب بھی بباطن ہر آنے والا بجٹ عوام پر اضافی بوجھ لادنے کا سبب بنے گا۔

متعلقہ خبریں