لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں

لاتوں کے بھوت باتوں سے ماننے والے نہیں


عدالت کے واضح احکامات اور اتھارٹی کی ہدایات کے باوجود نجی سکول نہ صرف ان احکامات پر عملدرآمد سے گریز کررہے ہیں بلکہ بیشتر سکولوں نے توہین عدالت کاارتکاب کرتے ہوئے دو دو ماہ کی فیس پیشگی جمع کرانے کے بھی نوٹس جاری کر دیئے ہیں جبکہ نئے سال کے داخلوں کے وقت بھی والدین نے داخلہ فیس اور ٹیوشن فیس کی مد میں گزشتہ ماہ بھی ڈبل فیس دی تھی ۔ ایسا لگتا ہے کہ بااثر مالکان کوعدالتی حکم اور اتھارٹی کی ہدایات کی کوئی پرواہ نہیں دو دو ماہ کی ڈبل فیسوں کی ادائیگی کی کم ہی والدین سکت رکھتے ہوں گے۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں جہاں نصف فیس کی وصولی بنتی تھی وہاں سکولوں کی انتظامیہ والدین اور طلبہ پر دوہر استم ڈھارہے ہیں۔ اس صورتحال میں والدین کی جانب سے متعلقہ سکول کی عدالت جاکر شکایت کی توقع اس لئے نہیں رکھنا چاہئے کہ اولاً اس کیلئے والدین کے پاس وسائل او ر وقت نہیں دوم اگر ایسا کیا بھی جائے تو بااثر مالکان کیلئے تو مقدمہ لڑنا کوئی مسئلہ نہیں الٹا وہ طالب علموں کو ہراساں کرنے کے نت نئے حربے اپنا کر مشکلات وپریشانی کا باعث بن جائیں گے۔ ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس بھی اس قدر قوت نافذ ہ نہیں کہ وہ اس پر سخت اقدام کرسکے۔ اس صورتحال میں عدالت عالیہ پشاور کے چیف جسٹس کو ہی از خود نوٹس لینا ہوگا اور جو سخت احکامات انہوں نے جاری کئے تھے ان پر عملدر آمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ والدین اور طلبہ کے استحصال کی روک تھا م کی جا سکے ۔ نجی سکول مالکان کا کاروبار کسی طور بھی خسارے کا کاروبار نہیں بلکہ نہایت منافع بخش ہے۔ وہ اگر عدالتی احکامات پر عملدر آمد کرنا چاہیں تو با آسانی ایسا کر سکتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے وہ نہ تو بہن بھائیوں کی فیسوں سے متعلق عدالتی حکم کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومتی ادارے کی نگرانی اور احکامات ماننے کو تیار ہیں۔ اس صورتحال کا حل یہی نظر آتا ہے کہ حکومت کمزور طر ز عمل اختیار کرنے کی بجائے قوت نافذہ سے بھر پور کام لے اور احکامات پر ہر قیمت پر عملدرآمد کروائے ۔

اداریہ