Daily Mashriq


محض اقامہ نہیں……

محض اقامہ نہیں……

بعض حلقوں کی طرف سے اس بات پر تشویش اور ترحم کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان میں تین اہم قومی نمائندے آئین کی شق نمبر 62(1) ایف کے تحت عوامی نمائندگی سے معزول کر دیے گئے ہیں۔ اس پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے جب آئین میں اٹھارھویں ترمیم لائی جا رہی تھی اس وقت کہا تھا کہ آئین کی شق نمبر 62اور 63کو حذف کر دیا جائے لیکن سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ میاں نواز شریف کی اس تجویز سے اتفاق نہ کرنے کی وجہ جو بھی ہو گی وہ خود بیان کرنا چاہیں گے تو کریں گے لیکن پیپلز پارٹی والے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کے اہم لیڈروں پر ان شقوں کی تلوار لٹکائے رکھنے کے لیے انہیں آئین میں شامل رہنے دیا تھا۔ اور کہا جا رہا ہے کہ اب وہ خود ان شقوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ خورشید شاہ ایک اہم منصب پر فائز ہیں' ان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس بیان کے بعد وہ یہ بتائیں کہ آیا وہ آئین کی موجودہ صورت اور اس کے تحت جاری ہونے والے فیصلوں کو جائز سمجھتے ہیں۔ان شقوں کو جو عوامی نمائندوں سے صادق اور امین ہونے کا تقاضا کرتی ہیں بعض لوگ کالا قانون کہہ رہے ہیں۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ کالا قانون ہے تو کیا اسے حذف کرنے سے آئین میں یہ ضمانت باقی رہے گی کہ عوامی نمائندے صداقت اور امانت کے تقاضوں پر پورا اُترنے والے ہوں گے۔ یعنی اگر آئین عوامی نمائندوں سے یہ تقاضا نہ کرے کہ وہ صداقت اور امانت کے تقاضوں پر پورا اترنے والے ہوں تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آئین چاہتا ہے کہ عوام کے نمائندے خواہ صادق اور امین نہ ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ کہا جا رہا ہے کہ صادق اور امین ہونے کی شرط ایک ڈکٹیٹر ضیاء الحق نے آئین میں شامل کروائی تھی، اس لیے یہ آمریت کی نشانی ہے ۔ لیکن جیسے کہ سطور بالا میں اشارہ کیاجا چکا ہے کہ پارلیمنٹ نے اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے ان دفعات سمیت متفقہ طور پر آئین کی منظوری دی تھی ۔ یعنی جمہوری پارلیمان نے ان دفعات سمیت آئین کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔اس سوال کا جواب ضرور دیا جانا چاہیے کہ آیا عوامی نمائندوں کو صداقت اور امانت کے معیارات پر پورا نہیں اترنا چاہیے۔ نواز شریف جب اپنی نااہلی کا مقدمہ عوامی جلسوں میں پیش کرتے ہیں تو یہ نہیں کہتے کہ آئین کی شق 62اور 63نامناسب ہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں پاناما کے مقدمے میں اقامہ پر نااہل کیا گیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ پانامہ کے مقدمے میں اقامہ کے دریافت ہونے پر ان کے خلاف کارروائی ہوئی لیکن یہ کارروائی اقامہ کو انتخابی گوشوارے میں ظاہر نہ کرنے کی بنا پر ہوئی۔تحریک انصاف کے جہانگیر ترین کو بھی اثاثوں کے اخفاء کے الزام میں عوامی نمائندگی سے نااہل قرار دیا گیا اور حال ہی میں حکمران مسلم لیگ کے سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کو بھی اس الزام کے ثابت ہونے پر عوامی نمائندگی کے لیے نااہل ہونا پڑا ہے کہ انہوں نے اپنے انتخابی گوشواروں میں بیرون ملک ملازمت ' اس کی آمدنی اور اس کے لیے اقامے کا اعلان نہیں کیا۔ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا پاسپورٹ کاغذات نامزدگی میں جمع کرایا تھا جس میں اقامہ بھی لگا ہوا تھا۔ لیکن یہ حقیقت کہ بیرون ملک منفعت بخش ملازمت پر فائز تھے ' اس کی آمدنی بھی انہیں ہوتی تھی اور اس کے لیے انہوں نے اقامہ بھی لیا ہوا تھا، انہیں انتخابی گوشوارے میں بیان کرنی تھی جو انہوں نے نہیں کی۔ یہ محض اقامہ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان میں عوامی نمائندگی پر فائز شخص کا بیرون ملک منفعت بخش ملازمت اختیار کرنے کا معاملہ ہے۔ اگر اقامہ رکھنا کوئی قابلِ فخر بات ہے یا نہایت معمولی بات ہے تو کیا سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے اپنے کم و بیش تیس سال پر محیط سیاسی کیریئر کے دوران کسی پبلک جلسہ میں ' کسی پریس کانفرنس میں ' کسی میڈیا ٹاک میں 'پارلیمنٹ یا کابینہ کے کسی اجلاس میں یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ اقامہ ہولڈر ہیں اور عوامی نمائندگی یا وزارت کے ساتھ ساتھ کسی بیرونی ملک کے کسی ادارے کی ملازمت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا حتیٰ کہ انتخابی گوشواروں میں بھی نہیںکیا حالانکہ یہ ان پر لازم تھا۔ یہ محض اقامہ کا معاملہ نہیں ہے ۔ ایک طرف آپ پاکستان کی وزارت کا حلف لیتے ہیں اور دوسری طرف آپ کسی غیر ملکی کمپنی کے بھی وفادار ہیں، اس کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں۔ وزارت ایسے اہم عہدوں پر فائز افراد پاکستان کے اہم رازوں کے بھی امین ہوتے ہیں ۔ بعض دستاویز ان کے سامنے ایسی بھی آتی ہیں جن پر لکھا ہوتا ہے کہ انہیں محض دیکھا جا سکتا ہے ۔ یعنی زبانی بھی کبھی ان کے مندرجات کا ذکر ساری زندگی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ایسی ذمہ داری کے حامل شخص سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے کسی ادارے کا بھی وفادار ملازم ہو۔ یہ شرمندگی کی بات ہے۔ ساری قوم کے لیے شرمندگی کی بات ہے کہ جنہیں عوام ووٹ کے ذریعے عوامی ذمہ داری کے عہدوں کے لیے منتخب کریں وہ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے باوجود کسی غیر ملک کے کسی ادارے کے بھی وفادار ہوں۔ اگر کسی انتخابی مہم کے دوران کوئی امیدوار یہ اعلان کرے کہ وہ کسی غیر ملک کے ادارے کا بھی ملازم ہے ، اس کے باوجود عوام اسے اعتماد کا ووٹ دیں تو کیا وہ کامیابی کی امید رکھ سکتا ہے۔ یہ محض اقامہ کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اقامہ اور اس کے ذریعے بیرون ملک خدمات فروخت کرنے کا معاملہ ہے اور پاکستان کے ساتھ وفاداری کے عہد کی پاسداری کا معاملہ ہے۔ کیا پاکستان کے عوام کو یہ بات منظور ہو گی کہ کوئی شخص ان کا اہم منصب پر فائز نمائندہ بھی ہو اور وہ کسی غیر ملکی ادارے کا بھی وفادار ہو۔ پاکستان کا آئین ایسی صورت کو قبول نہیں کرتا۔ پاکستان کا آئین پاکستان کے عوام کا متفقہ آئین ہے۔

متعلقہ خبریں